ٹیکنالوجی کے کرشمے

اس حیرت کدے کی عجیب و غریب باتیں کہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہیں۔ٹیکنالوجی اورخصوصاً الیکٹرونکس میں جاپان کی مہارت اور جدت پسندی کی ساری دنیا معترف رہی ہے۔کبھی کبھی مگر یہ خیال ذہن میں آتا ہے،جب کسی جدیداور بڑے الیکٹرک سٹورپر جائیں،کہ اس سے آگے ترقی کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔شائد اس میدان میں انسان نے جہاں تک پہنچنا تھا،وہاں پہنچ چکا ہے،یہ نقطہئ معراج ہے برقی آلات کی ایجادات و جدت کاجو ہمیں اپنے اردگردنظرآرہے ہیں۔پھراچانک کوئی نئی چیزاس بابت آتی ہے جو حیرتوں کے نئے باب کھول دیتی ہے۔تازہ خبر تو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھی اورمجھے یقین ہے آپ کے ذہن میں کسی امکان کے خانے میں بھی نہیں ہوگی۔
واقعہ یہ ہے کہ اب آپ ٹی وی پروگرام دیکھنے اور سننے کے علاوہ چکھ بھی سکیں گے۔جھٹکا دینے والی خبر ہے مگر حرف بہ حرف درست اور سو فیصد سچ۔اس ایجاد کے بعد ٹی وی اسکرین پر نظرآنے والے رنگ برنگے کھانے،پھل،سبزیاں اور مناظر کو آپ اسکرین چاٹ کران کا ذائقہ محسوس کرسکیں گے۔تفصیل اس محیرالعقول ایجاد کی کچھ یوں ہے کہ ایک جاپانی پروفیسرنے ایک ایساپروٹوٹائپ ٹیلی ویژن ایجاد کیا ہے جس کی اسکرین پر دس مختلف ذائقوں کامخصوص اسپرے کیا گیا ہے۔اس فلیٹ ٹی وی اسکرین پرجیسے ہی کوئی تصویرظاہر ہوتی ہے،اس کے ساتھ ہی اس کا ذائقہ ابھرآتا ہے،جسے زبان سے اسکرین چاٹ کرمحسوس کیا جاسکتا ہے۔نام بھی اس نئی ایجاد کاموجد نے خوب رکھا ہے”ٹیسٹ دی ٹی وی(TTTV)“یعنی”ٹی وی چکھو“۔اپنی ایجاد کی بابت پروفیسر میاشیتاکا کہنا تھا کہ اس ایجاد کا مقصد لوگوں کو دنیاکے دوسرے کنارے پر موجودکسی ریستوران میں کھاناکھانے کا تجربہ گھر بیٹھے محسوس کرنے کی استعداددلاناہے۔مذکورہ پروفیسراوراس کے تیس طلباء کی ٹیم اس سے پیشترکھانا کھانے کا ایسا کانٹا بھی ایجادکرچکی جومختلف طرح کے ذائقے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔بلاشبہ یہ کانٹا بھی برقی آلہ ہی ہے مگر اس کا انسانی صحت پر کوئی مضراثرنہیں ہے۔اس کے علاوہ بھی متعددذائقہ دار ایجادات کا سہرااپنے سر سجانے والے اس پروفیسرکا کہنا تھا کہ مذکورہ چکھنے والے ٹیلی ویژن کا کمرشل ماڈل مارکیٹ میں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے میں دستیاب ہوجائے گا۔پروفیسر نے مزید یہ کہا کہ COVID-19کے زمانے میں جب انسانی رابطے اور بیرونی دنیا سے کے ساتھ میل جول مشکلات کا شکار ہے،ایسے عالم میں ٹیسٹ دی ٹی وی(TTTV)گھر بیٹھے بٹھائے آپ کو اردگرد کے ماحول سے جوڑنے کا ایک وسیلہ بننے کی صلاحیت رکھتاہے،جو آپ کو ایک نئی طرز سے باہرکی دنیا سے جوڑے رکھنے کا سبب بنے گا۔
متذکرہ پروفیسرصاحب کے ارادے بہت بلند ہیں۔وہ یہاں پر بس کرنے والے نہیں ہیں۔اگلا منصوبہ ان کا یہ ہے کہ آئسکریم اور پیزا بیچنے والی کمپنیوں کے وہ ڈیجیٹل مینیوتیار کرنے جارہے ہیں۔تاکہ گاہک خریدنے سے پہلے ہی آئسکریم کاذائقہ اور پیزابھی چکھ کر آرڈر کرے۔
دوسری خبر اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور شائد اہمیت کے اعتبار سے زیادہ اہم ہے۔کسی طویل تمہید کے بغیر عرض یہ ہے کہ جاپان میں ڈوئل موڈ گاڑی کا افتتاح کردیا گیا ہے۔یہ نہ صرف جاپان بلکہ دنیا بھرمیں پہلی گاڑی ہے جوڈوئل موڈہے۔یعنی سڑک پر بھی چلتی ہے اور ریلوے لائن پر بھی دوڑتی ہے۔سادہ الفاظ میں ایسی گاڑی ہے جسے آپ چاہیں تو بس کہہ لیں،چاہیں ریل گاڑی کہہ دیں۔سڑک پر جاتے ہوئے یہ آپ کو بس دکھائی دے گی جس کی حد رفتار100کلومیٹرفی گھنٹہ ہے۔براستہ سڑک یہ ربڑ کے عام ٹائروں سے چلتی ہے،کوئی بھی خاص فرق دکھائی نہیں دیتامگرجب یہ ریلوے انٹرچینج پر چلنے کے لئے پہنچتی ہے تو اندر کی جانب موجود فولادی پہیے ریل ٹریک پر آجاتے ہیں۔ریل گاڑی کی صورت میں اس کی حد رفتار ذرا کم ہے،یعنی60کلومیٹر فی گھنٹہ۔مجھے یاد آرہا ہے کہ ہماری بسوں کے پیچھے حد رفتار65کلومیٹرلکھاہوتا ہے،جو کسی زمانے میں رفتار کی قانونی حد رہی ہوگی،پاکستان کی شاہراہوں پر،رسم چلی آرہی ہے کہ بس جب دوبارہ رنگ و روغن کرکے نئی دلہن کی طرح سجائی جاتی ہے تو اس پر حد رفتاربھی وہی روایتی لکھ دی جاتی ہے۔مذکورہ ڈوئل موڈ گاڑی ٹرام کے طور پربھی چلائی جاسکتی ہے چونکہ اس کے تمام پہیے کنٹرول کئے جاسکتے ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے مستقبل میں یہی ریل گاڑی اوربس کا ملغوبہ پوری دنیا میں مسافتیں طے کرتا نظر آرہا ہے۔

ؔ محوحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی