ٹی ایل پی پر عائد پابندی ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں، وزیراعظم

حکومت کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق قرار داد قومی اسمبلی میں پیش کرنے اور کالعدم تنظیم کے دھرنے ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا کالعدم تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ایل پی کو حکومت کی جانب سے لگائی پابندی ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کیا۔

حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی گزشتہ ہفتے اس وقت لگائی تھی جب کالعدم تنظیم نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کے مطابے کے ساتھ ملک بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

اجلاس میں موجود ایک فرد نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اگر پاکستان فرانسیسی سفیر کو بے دخل کردے تو یورپی یونین کی جانب سے سخت ردِ عمل آسکتا ہے اور مغربی ممالک میں موجود پاکستان کے 27 سفیروں کو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر مسلمان نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے اور ان کی توہین برداشت نہیں کرسکتا لیکن حکومت کی جانب سے مذمت کا طریقہ ٹی ایل سے قدرے مختلف تھا، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ وہ نبیﷺ کو سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مغربی ممالک اس وقت تک دباؤ میں نہیں آئیں گے جب پوری امت مسلمہ مشرکہ طور پر گستاخی کے عمل کی مذمت نہ کرے اور مغرب کو یہ احساس دلائے کہ یہ آزادی اظہار رائے نہیں ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں اربوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک مہم کی سربراہی کریں گے جس میں مسلمان ریاستوں کے سربراہاں مشترکہ طور پر مغرب پر نبیﷺ کی گستاخی روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

اجلاس میں شریک ایک اور فرد کا کہنا تھا کہ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت ٹی ایل پی سے پابندی نہیں ہٹائے گی اور پارٹی کو پابندی ہٹوانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کرنا ہوگی۔

وزیر کو جب یہ یاددہانی کروائی گئی کہ ٹی ایل پی پر پابندی عدالت نے نہیں بلکہ وزارت داخلہ نے لگائی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ 'ہم پابندی نہیں ہٹا سکتے کیوں کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجا گیا تو مغرب میں موجود لاکھوں پاکستانی ورکرز کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا، اسی طرح مغربی اور یورپی ممالک کے ساتھ ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی۔

اجلاس کے ایک اور شریک فرد کا کہنا تھا کہ پورے اجلاس میں ٹی ایل پی کو ایک کالعدم تنظیم کہا جاتا رہا۔

ٹی ایل پی کا حالیہ احتجاج

گزشتہ برس ستمبر /اکتوبر کے دوران فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر ٹی ایل پی نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔

جس پر حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔

چنانچہ ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز ، مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے اور جماعت کے موجودہ سربراہ سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں 12 اپریل کو گرفتار کرلیا تھا۔

ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے تھے جنہوں نے بعض مقامات پر پرتشدد صورتحال اختیار کرلی تھی۔

جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے اور سڑکوں کی بندش کے باعث لاکھوں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے اعلان کیا گیا تھا، اس دوران ملک کے مختلف احتجاجی مقامات کو کلیئر کروا لیا گیا تھا تاہم لاہور کے یتیم خانہ چوک پر مظاہرین موجود تھے جہاں اتوار کی صبح سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اس نے نواں کوٹ تھانے پر حملے کے بعد مظاہرین کے خلاف آپریش کیا، اس کارروائی کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 پولیس اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب ٹی ایل پی نے ڈی ایس پی سمیت 11 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا جنہیں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے 15 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا تھا، بعد ازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جماعت کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

تاہم لاہور کے یتیم خانہ چوک پر ہونے والے تصادم کے بعد حکومت نے ٹی ایل پی سے مذاکرات کا اعلان کیا تھا جس کے چوتھے دور میں دونوں فریقین کے مابین معاہدہ طے پایا تھا۔

معاہدکے تحت قومی اسمبلی میں گزشتہ روز فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق قرار دار پیش کی گئی جبکہ ٹی ایل پی نے ملک بھر سے احتجاج ختم کردیے، علاوہ ازیں سعد حسین رضوی کی رہائی کی بھی متضاد رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: