ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل مصباح الحق اور وقار یونس پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریوں سے دستبردار

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس نے اپنے عہدوں سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان دونوں کے یہ فیصلے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم آئندہ چند روز میں پاکستان کے دورے پر آنے والی ہے اور پیر کے روز چیف سلیکٹر محمد وسیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا اعلان کیا ہے۔

مصباح الحق ستمبر 2019 میں مکی آرتھر کی جگہ ہیڈ کوچ بنے تھے۔ انھیں چیف سلیکٹر کا عہدہ بھی ساتھ ساتھ دیا گیا تھا۔ وقار یونس کی تقرری بھی اسی وقت کی گئی تھی۔

مصباح الحق کا کہنا ہے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز میں قرنطینہ کے دوران انھیں پچھلے دو سال کی صورتحال اور آنے والے انٹرنیشنل کرکٹ شیڈول کے بارے میں بہت کچھ سوچنے کا موقع ملا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں آنے والے دنوں میں بھی کافی وقت اپنے اہلخانہ سے دور بائیو سکیور ماحول میں گزارنا پڑتا لہٰذا انھوں نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انھیں اندازہ ہے کہ ان کے اس فیصلے کا یہ وقت مناسب نہیں ہے لیکن وہ ذہنی طور پر خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ آنے والے چیلنجز کا سامنا کر سکتے، اسی لیے انھوں نے مناسب سمجھا کہ اس ٹیم کو کسی نئے شخص کی ضرورت ہے جو اسے آگے لے کر جائے۔

مصباح الحق 16 ٹیسٹ میچز میں کوچ رہے جن میں سے سات جیتے، چھ ہارے، اور تین برابر رہے۔

وہ گیارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بھی کوچ رہے جن میں سے چھ جیتے، چار ہارے اور ایک کا نتیجہ نہ نکل سکا۔

اس کے علاوہ مصباح الحق 34 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں کوچ رہے جن میں سے 16 جیتے، 13 ہارے اور پانچ کا نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ’مصباح الحق نے جب انھیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو ان کے لیے بھی یہی سیدھا سادہ معاملہ رہا کہ وہ بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں کیونکہ ہم دونوں ایک ساتھ ان عہدوں پر آئے تھے، ایک ساتھ کام کیا، اور ایک ساتھ جا رہے ہیں۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کیا کہتا ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ مصباح الحق کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔ بورڈ نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان دنوں کرکٹ بائیو سکیور ماحول کی وجہ سے آسان نہیں رہا اور مصباح الحق نے چھ ماہ اسی صورتحال میں رہتے ہوئے مسلسل کرکٹ کی سختی کی وجہ یہ فیصلہ کیا ہے۔

بورڈ نے کہا ہے کہ انھوں نے دو سال کے دوران ٹیم کے لیے بہترین کوششیں کیں۔

مصباح الحق

اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق اور وقار یونس کی جگہ ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کو نیوزی لینڈ کے خلاف عبوری طور پر کوچنگ کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

ثقلین مشتاق اس وقت نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر سے وابستہ ہیں جبکہ عبدالرزاق اس وقت سینٹرل پنجاب کے کوچ ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سلیکشن پرفارمنس سے زیادہ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے آئندہ ماہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کی 15 رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ یہی ٹیم ورلڈ کپ سے قبل نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز بھی کھیلے گی۔

جس 15 رکنی سکواڈ کا اعلان کیا گیا ہے اس میں کوئی نیا چہرہ شامل نہیں ہے لیکن پہلے سے موجود متعدد چہرے جو تھوڑے عرصے کے لیے منظرنامے سے ہٹا دیے گئے تھے اُنھیں دوبارہ سامنے پیش کر دیا گیا ہے اور یہی بات سب کے لیے حیرانی کا باعث بھی ہے کہ پہلے ڈراپ کرنے کی وجہ کیا غلط تھی جو اب اسے درست ثابت کیا جا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ مڈل آرڈر بیٹنگ رہی ہے۔ مصباح الحق کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 17 بیٹسمینوں کو مڈل آرڈر بیٹنگ میں آزمایا جا چکا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ گمبھیر ہے لیکن مسئلہ حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ سلیکشن میں غیر مستقل مزاجی بھی ہے۔ بار بار کی تبدیلیاں کسی بھی بیٹسمین کو سیٹ نہیں ہونے دیتیں۔

چیف سلیکٹر محمد وسیم نے خوشدل شاہ اور آصف علی کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موجودگی مڈل آرڈر کو فائر پاور فراہم کرے گی۔

آصف علی

آصف علی 2018 سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اس عرصے میں وہ 29 میچز کھیل چکے ہیں، لیکن ان 29 میچز کی 27 اننگز میں وہ ایک بھی نصف سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

آصف علی ایک ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں اس عرصے میں سب سے زیادہ مواقع دیے جا چکے ہیں لیکن کسی بھی موقع پر اُنھوں نے اپنا سلیکشن درست ثابت نہیں کر دکھایا۔

وہ اس سال جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دورے میں دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے تھے لیکن ڈبل فگرز میں بھی نہ آ سکے۔

آصف علی کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے اپنے آخری 10 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں صرف دو بار دوہرے اعداد ( 25 اور 29) میں سکور کیا ہے۔

خوشدل شاہ مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے ابتک نو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن ان میں ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور 36 رہا ہے۔

اس سال جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور میں 12 اور 15 کی دو ناکام اننگز کھیلنے کے بعد وہ ٹیم سے باہر کر دیے گئے تھے۔

آصف علی اور خوشدل شاہ کا سلیکشن اس لیے بھی حیران کن ہے کہ ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے بعد پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا کوئی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ نہیں ہوا لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں کی واپسی کس نئی عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوئی ہے؟

صہیب مقصود نے پی ایس ایل اور قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے کامیاب بیٹسمین کے طور پر انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم میں جگہ ضرور بنائی لیکن پانچ سال بعد ہونے والی اپنی اس سلیکشن کو کسی بھی بڑی اننگز سے کامیاب ثابت نہ کر سکے۔

صہیب مقصود انگلینڈ کے دورے میں کھیلے گئے تین میچوں میں 19، 15، اور 13 کی اننگز کھیل پائے جبکہ ویسٹ انڈیز میں ملنے والے ایک موقع سے بھی وہ فائدہ نہ اٹھا سکے اور صرف پانچ رنز بنا پائے۔

صہیب مقصود کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی فٹنس پر بھی کافی بات ہوتی رہی ہے اور یہ چیز ان کی فیلڈنگ میں واضح طور پر دکھائی دی۔

صہیب مقصود

اس سلیکشن کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ محمد نواز اور عماد وسیم بیک وقت 15 رکنی سکواڈ میں شامل کیے گئے ہیں حالانکہ دونوں ایک ہی جیسے انداز کے کھلاڑی ہیں۔

فاسٹ بولنگ کے شعبے میں محمد وسیم جونیئر موقع دیا گیا ہے لیکن شاہنواز دھانی کا سلیکشن بہت آرام سے ہو سکتا تھا جنھیں ریزرو میں ڈال دیا گیا ہے۔ شاہنواز دھانی اس سال پاکستان سپر لیگ میں 20 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے تھے لیکن اُنھیں ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کے بجائے ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کر لیا گیا تھا۔

سلیکٹرز نے اعظم خان کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے میں شامل کیا تھا جہاں انھیں صرف دو اننگز کھیلنے کو ملی تھیں۔ اُنھیں محمد رضوان کے بعد دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر سکواڈ میں رکھا گیا ہے لیکن ان کی فٹنس پر بھی سوالیہ نشان اٹھ چکا ہے۔

کیا سرفراز احمد کا کریئر ختم؟

وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کی بین الاقوامی کرکٹ دو سال قبل اس وقت حیران کن طور پر ختم ہو گئی تھی جب وہ پہلے کپتانی اور پھر عام کھلاڑی کی حیثیت سے ٹیم سے باہر ہوئے تاہم کووڈ کی صورتحال کی وجہ سے جب پاکستانی ٹیم 20 سے 25 کھلاڑیوں کے سکواڈ کے ساتھ دوروں پر جانے لگی تو سرفراز احمد اس کا حصہ بنتے رہے۔

لیکن ان دو برسوں کے دوران وہ صرف ایک ون ڈے انٹرنیشنل جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین میں کھیل پائے جبکہ انگلینڈ اور زمبابوے کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی میچوں میں اُنھیں موقع دیا گیا لیکن دونوں میں ان کی بیٹنگ نہیں آئی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ہوم سیریز میں نئے وکٹ کیپر محمد حارث کو سکواڈ میں شامل کیے جانے اور اب ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں اعظم خان کو محمد رضوان کے نائب وکٹ کیپر کے طور پر شامل کیے جانے کے بعد سرفراز احمد کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی بظاہر ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔

رمیز راجہ جو آئندہ چند روز میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں، وہ بھی کچھ عرصہ قبل سرفراز احمد کو اپنے یوٹیوب چینل پر ہونے والی گفتگو میں ریٹائرمنٹ کا مشورہ دے چکے ہیں، اس طرح حالات سرفراز احمد کے لیے اچھے دکھائی نہیں دیتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *