ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: مہندر سنگھ دھونی کی وہ خصوصیات جن کے باعث انھیں ’دوبارہ‘ انڈیا کے کھلاڑیوں کا مینٹور بنایا گیا

وکٹ کے پیچھے کھڑے مہندر سنگھ دھونی ایک اور وائڈ بال پکڑتے ہی ایک نظر ایشانت شرما کو دیکھتے ہیں اور انتہائی پُرسکون انداز میں اپنا بایاں بازو اٹھا کر آف سائڈ پر کھڑے فیلڈر کو سرکل میں آنے کا اشارہ کرتے ہیں۔

یہ ایجبیسٹن کا میدان ہے جہاں انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان سنہ 2013 میں چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل کھیلا جا رہا ہے۔

انگلینڈ کو 16 گیندوں پر 20 رنز درکار ہیں اور اس کے صرف چار کھلاڑی آؤٹ ہیں۔ کریز پر اوئن مورگن اور روی بوپارا جمے ہوئے ہیں۔ میچ کے سب سے مہنگے بولر کو اس اہم موقع پر گیند دینے پر ابھی سے کمنٹیٹر دبے دبے لفظوں میں دھونی پر تنقید کر رہے ہیں اور اکثر مداح انڈیا کی شکست کو ذہنی طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

باقی دنیا ممکنہ نتیجہ دیکھ رہی ہے لیکن ’ماہی‘ حال میں جی رہے ہیں، اُن کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان ہے۔

اس اننگز سے پہلے کی گئی میٹنگز میں دھونی اپنے ساتھیوں پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ بارش کی امید کرتے ہوئے آسمان کی طرف نہیں دیکھیں گے کیونکہ ’خدا ہمیں بچانے نہیں آئے گا۔‘

تو پھر یہ اطمینان کیسا؟

وہ اپنے ایک انٹرویو میں بتا چکے ہیں کہ ’میں بھی مضطرب ہوتا ہوں، مجھے غصہ بھی آتا ہے۔۔۔ مایوسی بھی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن جو اس لمحے میں کرنا چاہیے، وہ ان تمام جذبات سے زیادہ اہم ہے۔‘

’جب میں یہ سوچ رہا ہوتا ہوں کہ ابھی مجھے کیا کرنا ہے، آگے مجھے کس کھلاڑی کو استعمال کرنا ہے تو میں اپنے جذبات کو بہتر انداز میں کنٹرول کر لیتا ہوں۔‘

خیر پلان تبدیل ہوا۔ ایشانت شرما کی سلو بالز پر مورگن اور بوپارا یکے بعد دیگرے پویلین لوٹ گئے۔ 16 گیندوں پر 20 رنز اب 12 گیندوں پر 19 میں تبدیل ہو گئے اور پھر انڈیا نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔

یہ جیت دھونی کو تاریخ کا پہلا کپتان بنا چکی تھی جس نے تینوں آئی سی سی وائٹ بال ٹورنامنٹس جیتے تھے۔ 2007 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، 2011 کا ون ڈے ورلڈ کپ اور 2013 کی چیمپیئنز ٹرافی۔ اس کے علاوہ انڈین پریمیئر لیگ میں ان کی کپتانی میں چنئی سوپر کنگز نو مرتبہ فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے اور تین مرتبہ ٹورنامنٹ جیت چکی ہے۔

آٹھ برس بعد اب سے کچھ ہی دنوں میں دھونی پھر سے ایک آئی سی سی ٹورنامنٹ میں انڈیا کے ڈریسنگ روم میں ہوں گے لیکن اس بار ان کا کردار ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ’مینٹور‘ یعنی معاون کا ہو گا۔

دھونی
،تصویر کا کیپشنوکٹ کے پیچھے کھڑے مہیندرا سنگھ دھونی ایک اور وائڈ بال پکڑتے ہی ایک نظر ایشانت شرما کو دیکھتے ہیں اور انتہائی پُرسکون انداز میں اپنا بایاں بازو اٹھا کر آف سائڈ پر کھڑے فیلڈر کو سرکل میں آنے کا اشارہ کرتے ہیں

وراٹ کوہلی کی کپتانی اور روی شاستری کی کوچنگ میں انڈیا کی ٹیم نے نئی بلندیاں حاصل کی ہیں اور انڈیا اس ٹورنامنٹ کا آغاز بھی بطور فیورٹ کر رہا ہے۔

تو پھر اچانک سے دھونی ہی کو کیوں یہ ذمہ داری سونپی گئی، اور عام طور پر اپنے کام سے کام رکھنے والے سابق کپتان نے اس آفر کو قبول کیوں کیا؟

ان سوالوں کے جواب جاننے سے قبل اس ’عجیب سے اطمینان‘ کے پیچھے چھپے شخص کو جان لیتے ہیں جو صحیح معنوں میں ایک ’گورکھ دھندا‘ ہے۔

’دھونی کو محل میں بھی رہنا آتا ہے اور ایک چھوٹے سے کمرے میں بھی‘

انڈیا کی ریاست جھاڑکنڈ کے دارالحکومت رانچی کے ایم ایس دھونی کا تعلق ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تھا جس کے واحد کمانے والے اُن کے والد ہی تھے۔

اگر کوئی لڑکا جھگڑالو نہ ہو، کم گو لیکن بارعب ہو اور کھیلنے کا شوق ہونے کے ساتھ ساتھ پڑھائی اور نوکری کی جانب بھی ذہن ہو تو یقیناً یہ کسی متوسط طبقے کے گھرانے کا مثالی فرزند ہو گا۔

دھونی میں یہ تمام خصوصیات تھیں۔ ’تفریح‘ کے لیے کرکٹ کھیلنا شروع کی لیکن پڑھائی کو بھی ساتھ لے کر چلے۔

وقت کے ساتھ کرکٹ پر خاص توجہ دی لیکن والدین کو زیادہ دیر پریشان نہیں کیا اور ریلوے میں نوکری بھی کر لی، جو بہرحال انھیں زیادہ دیر نہیں کرنی پڑی۔

دھونی یوراج

اس سب کے بیچ میں وہ ہمیشہ ’کامن سینس‘ یعنی عام سمجھ بوجھ کے حساب سے فیصلے کرتے رہے اور اپنے اردگرد چیزوں کو انتہائی آسان بنائے رکھا۔

ایم ایس دھونی کی سوانح عمری ’دی دھونی ٹچ‘ لکھنے والے صحافی و مصنف بھرت سندریسن نے دھونی کی شخصیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

بھرت کی کتاب میں دھونی کے ایک دوست کے حوالے سے ایک بات درج ہے جو شاید دھونی کی شخصیت کا بہترین انداز میں خلاصہ کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’دھونی کو محل میں رہنا بھی آتا ہے اور ایک چھوٹے سے کمرے میں بھی۔‘

آسٹریلیا سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھرت نے دھونی کے بچپن کے کچھ قصے سُنائے جو ان کی کتاب میں بھی درج ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’دھونی میں قائدانہ صلاحیت بچپن سے ہی تھیں۔ ان کے پہلے کوچ کیشو رنجن بینرجی کے مطابق ایک مرتبہ ان کی سکول کی ٹیم ایک کمزور ٹیم سے ہار گئی تو بینرجی نے سزا کے طور کھلاڑیوں کو بس کی بجائے پیدل سکول واپس آنے کو کہا۔‘

’سکول وہاں سے چھ کلومیٹر دور تھا اور بینرجی جب سکول پہنچے تو انھیں کھلاڑیوں کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ دروازہ پر ہی کھڑے ان کا انتظار کرنے لگے۔‘

’مجھے اس دن دھونی کا چہرہ آج بھی یاد ہے۔ وہ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے آ رہے تھے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اور انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھا دیا تھا کہ یہ سزا کیوں ضروری تھی۔‘

’پھر دھونی نے انھیں اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اپنے والدین کو اس بارے میں نہیں بتائیں گے۔ یہ دھونی کی قائدانہ صلاحیتوں کا عکاس تھا۔‘

دھونی
،تصویر کا کیپشن’وہ چیزوں کو آسان بناتے ہیں اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ اور عام سمجھ بوجھ کے حساب سے فیصلے کرتے رہے ہیں‘

بھرت کہتے ہیں کہ دھونی کی زندگی کے فیصلوں سے ان کی کپتانی کے بارے میں بھی معلوم ہوتا ہے۔ ’وہ چیزوں کو آسان بناتے ہیں اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ اور عام سمجھ بوجھ کے حساب سے فیصلے کرتے رہے ہیں۔‘

’عام طور پر کسی چھوٹے شہر سے کوئی کھلاڑی بڑا نام بناتا ہے تو وہ بڑے شہر جیسے ممبئی، دلی وغیرہ میں گھر خریدنے کا سوچتا ہے۔ لیکن دھونی نے یہاں بھی کامن سینس استعمال کرتے ہوئے رانچی میں ہی اپنی ضرورت کے مطابق گھر بنایا بجائے اس کے کہ وہ کسی بڑے شہر میں فلیٹ خریدتے۔‘

’وہ کبھی بھی دیکھا دیکھی کے فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمیشہ کچھ نیا کرنے کا سوچتے ہیں لیکن منطق کے عین مطابق۔‘

دھونی کے ایک ساتھی کتاب ’دی دھونی ٹچ‘ میں بھرت کو بتاتے کہ 'فیلڈ پر دھونی ہمیشہ سے ہی کپتان تھے۔ تندولکر اگر کوئی بولنگ میں تبدیلی کا مشورہ دیتے، تو ماہی انھیں احترام سے بتا دیتے کہ یہ ایک اچھا آئیڈیا نہیں ہے۔

’لیکن اگر ماہی کبھی سچن کو ہوٹل لابی میں اپنی طرف آتے دیکھتے، تو وہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دیتے۔ یہ سب وہ احتراماً کرتے، اور کبھی بھی ان کے فعل میں دھوکہ دہی کا انصر نہیں ہوتا تھا۔'

دی دھونی ٹچ
،تصویر کا کیپشندی دھونی ٹچ میں بھرت دھونی کی شخصیت کو کچھ ایسے بیان کرتے ہیں: 'دنیا کے لیے وہ بیشک ایک معمہ ہیں، لیکن اپنے آپ میں انھیں بخوبی معلوم ہے کہ وہ کون ہیں'

حال میں جینا، نتیجے کی فکر نہ کرنا اور مراحل پر توجہ

دھونی کے جتنے بھی انٹرویوز سنیں ان میں ایک قدر مشترک ہو گی اور وہ یہ کہ وہ ہمیشہ ان باتوں کو بار بار دہرائیں گے۔ ’میں حال میں جیتا ہوں‘، ’مجھے نتیجے کی فکر نہیں ہوتی‘ کیونکہ ’میں فیصلہ کرنے کے مراحل میں گم ہوتا ہوں۔‘

ایک نظر میں تو یہ ایسی باتیں ہیں جو شاید خاصی غیراہم لگتی ہیں لیکن دراصل یہی دھونی کا نصب العین ہے۔ بھرت بتاتے ہیں کہ’ دھونی اکثر پارٹیز پر فون نہیں لے کر جاتے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ دھونی ہیں، کیا آپ کو اہم فون نہیں آنے ہوتے، تو وہ کہتے ہیں کہ اگر میں نے آپ کو یہ وقت دیا ہے، تو یہ صرف آپ کے لیے ہے، اس دوران کوئی اور مداخلت نہیں ہو گی۔‘

بھرت کہتے ہیں کہ دھونی کا حال میں جینے کا جنون ایسا ہے کہ وہ کبھی کسی نجومی سے قسمت کا حال نہیں پوچھتے حالانکہ یہ چیز ان کے آبائی علاقے میں خاصی عام ہے۔ وہ اس کی وجہ یہی بتاتے ہیں کہ مجھے مستقبل کے بارے میں پتا کر کے کچھ حاصل نہیں کرنا، میں اس لمحے میں خوش ہوں۔

فیصلے کے مراحل کے بارے میں سوچنے اور نتیجے کی فکر نہ کرنے کے باعث دھونی اپنے جذبات پر قابو تو رکھتے ہیں ہی، لیکن ساتھ ہی اس سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے فیصلے جو عام عوام کو خاصے عجیب لگتے ہیں، وہ دراصل کسی نہ کسی منطق کی بنا پر ہوتے ہیں۔

سنہ 2007 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل کا آخری اوور جوگیندر شرما کو دینے کی وجہ ان کے نیٹس میں اچھے یارکر تھے، ورلڈ کپ 2011 میں ان فارم بلے باز یوراج سے پہلے آنے کا مقصد یہ تھا کہ انھوں نے مرلی دھرن کو آئی پی ایل میں اپنی ٹیم سی ایس کے میں کھیل رکھا تھا اور وہ انھیں اعتماد تھا کے وہ ان کے خلاف رنز کر سکیں گے۔

دی دھونی ٹچ میں بھرت دھونی کی شخصیت کو کچھ ایسے بیان کرتے ہیں: ’دنیا کے لیے وہ بیشک ایک معمہ ہیں، لیکن اپنے آپ میں انھیں بخوبی معلوم ہے کہ وہ کون ہیں۔‘

اس لیے ان کا انڈین ٹیم کے مینٹور بننے کا فیصلہ بھی ایسا ہے، جس پر ابھی اکثر مداح تھوڑے حیران ہوں گے، لیکن شاید اس کی قلعی بھی جلد کھل جائے۔

’دھونی تو ریٹائرمنٹ سے پہلے بھی مینٹور تھے‘

کرکٹ سے متعلق خبروں اور تجزیوں کی ویب سائٹ کرک انفو کے گلوبل نیوز ایڈیٹر نگراج گلاپودی نے برطانیہ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھونی تو بہت پہلے سے اس انڈین ٹیم کے کھلاڑیوں کو مینٹور کر رہے ہیں۔

دھونی،وراٹ، اور بمرا

’آپ ان میں سے کسی سے بھی بات کر لیں اور ان کے پاس دھونی سے متعلق کوئی نہ کوئی کہانی ہو گی۔ روہت شرما، ورات کوہلی، جسپریت بھمرا، ایشون، یہ سب وہ کھلاڑی ہیں جن کو دھونی نے کیریئر کے مختلف مرحلوں پر مینٹور کیا ہے۔ اس لیے میرے نزدیک تو دھونی کو اس کردار میں زیادہ مسئلہ نہیں ہو گا۔‘

تاہم دھونی کو اچانک یہ کردار دیے جانے پر انڈیا میں کچھ افراد کی جانب سے تنقید ضرور کی جا رہی ہے۔ انڈیا کے سابق کھلاڑی اجے جدیجہ نے سونی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ میں اس بارے میں گذشتہ دو روز سے سوچ رہا ہوں کہ اس فیصلے کے پیچھے کیا سوچ ہو سکتی ہے۔ میں ایم ایس دھونی کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ دھونی کا مجھ سے بڑا کوئی مداح نہیں ہے۔‘

’لیکن جب ایک کپتان نے ٹیم کو ایک نئے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ ایک کوچ جس نے ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنا دیا، تو اچانک ایسا کیا ہوا، کہ ایک مینٹور کی ضرورت پڑ گئی؟‘

تاہم بھرت اور نگراج دونوں ہی متفق ہیں کہ کوہلی اور دھونی کے درمیان موجود مشترکہ احترام کے رشتے کے باعث بھی یہ تعاون بہترین رہنے کا امکان ہے۔

نگراج کہتے ہیں کہ ’میرے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ دھونی نے اس بارے میں حامی بھر لی کیونکہ وہ عام طور پر جب ایک جگہ چھوڑ جائیں تو وہاں واپس نہیں آتے لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کے عہدے کا دائرہ کار صرف ایک مینٹور کے طور پر ہی نہیں ہو گا۔‘

’وہ یقیناً بطور منصوبہ ساز بھی اپنا کردار ادا کریں گے اور آئی سی سی ٹورنامنٹس جیتنے کا تجربہ استعمال کرتے ہوئے یقیناً وراٹ اور خاص طور پر ایسے کھلاڑیوں کی مدد کریں گے جنھیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔‘

دھونی

’دھونی کے کمرے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا‘

دوسری جانب بھرت سندریسن کا بھی خیال ہے کہ دھونی کی اس کردار میں دراصل ’واپسی‘ ہو گی کیونکہ وہ ایک عرصے سے یہی کام کر رہے ہیں۔ چاہے وہ آئی پی ایل کے دوران ہو یا اپنے کریئر کے آخری دور میں۔‘

یہ بات سچ بھی ہے۔ دھونی کو جہاں اپنی بہترین حکمت عملیوں کے باعث پہچانا جاتا ہے وہیں ان کا کھلاڑیوں کا لمبے عرصے تک ساتھ دینا اور اکثر کھلاڑیوں کے کیریئر بنانا بھی ان کے کریڈٹ میں آتا ہے۔

بھرت کہتے ہیں کہ دھونی جہاں بھی رہتے ان کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا۔ ’یہ اس لیے تاکہ ان تک رسائی میں کسی کو ہچکچاہٹ نہ ہو۔ دھونی کے کمرے میں ویڈیو گیمز موجود ہوتیں اور کھلاڑی وہاں سکون سے گیمز کھیلتے اور محظوظ ہوتے۔‘

نگراج کے مطابق ’دھونی کا ہمیشہ سے یہ ماننا تھا کہ کرکٹ گراؤنڈ میں کرکٹ کی باتیں کر لو اور اس حوالے سے لگن دکھاؤ لیکن اس کے بعد صرف تفریح ہو گی اور اس دوران وہ ایسے کھلاڑیوں کی ہچکچاہٹ بھی دور کرتے ہیں جو عام طور پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔‘

’آئی سی سی ٹورنامنٹس کے دوران آپ کو اس طرح کا تعاون چاہیے ہوتا ہے اور دھونی جہاں تک میری معلومات انھوں نے بغیر اس وسیع تر اثر و رسوخ کے اس آفر کے لیے ہاں نہیں کی ہو گی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دھونی کو اپنے دائرہ کار میں رہنا آتا ہے۔‘

دھونی

کہیں دھونی کا حال بھی مصباح والا تو نہیں ہو گا؟

پاکستان کے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والے کپتان مصباح الحق نے بھی ریٹائرمنٹ کے چند ماہ بعد فیصلہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کی ٹیم مینجمینٹ کا حصہ بنیں گے۔ تاہم یہ فیصلہ انھیں مہنگا پڑا اور نہ صرف انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عوام میں ان کی مقبولیت میں بھی کمی آئی۔

جب نگراج سے سوال کیا گیا کہ کیا دھونی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا ’دھونی اور مصباح مختلف شخصیات کے مالک ہیں اور پاکستان اور انڈیا میں کرکٹ کے نظام میں بھی فرق ہے۔ بی سی سی آئی ایک ماڈرن بورڈ اور سب سے بڑھ کر کوہلی اور دھونی کا رشتہ ایسا ہے کہ ایسا کچھ ہونے کے امکان کم ہیں۔‘

انھوں نے کہا پھر دھونی بطور مینٹور ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں کوچ یا سیلیکٹر نہیں اس لیے انھیں بھی معلوم ہے کہ لائن کراس نہیں کرنی اور شاید اس طرح کے مشاورتی کردار وہ آئندہ بھی نبھاتے رہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *