ٹی 20 ورلڈ کپ 2021: وہ باتیں جن کی وجہ سے یہ ٹورنامنٹ یاد رہے گا

متحدہ عرب امارات اور عمان میں ہونے والا ساتواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آسٹریلیا کی جیت کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکا ہے لیکن ایک ماہ سے کچھ دن کم تک جاری رہنے والا یہ عالمی مقابلہ کئی باتوں کی وجہ سے شائقین کو عرصے تک یاد رہے گا۔

آئیے ان ریکارڈز پر نظر ڈالتے ہیں جو اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے درمیان بنے۔

محمد رضوان اور بابراعظم کے ریکارڈز

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر اوپنر محمد رضوان کی کارکردگی اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بہت اچھی رہی اور انھوں نے متعدد نئے ریکارڈز بھی قائم کیے۔

محمد رضوان انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی سمیت اس فارمیٹ کے تمام میچوں میں ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں۔

اس سے قبل ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ کرس گیل کا تھا جنھوں نے سنہ 2015 میں 36 میچوں کی 36 اننگز میں 1665 رنز بنائے تھے۔

اب یہ ریکارڈ محمد رضوان کے نام ہو چکا ہے جو اس سال کھیلے گئے 42 میچوں کی 39 اننگز میں 1743 رنز بنا چکے ہیں اور اس کے بعد اب وہ بنگلہ دیش کے خلاف بھی سیریز میں پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔

محمد رضوان نے صرف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی ایک کیلنڈر سال میں ایک ہزار رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین ہونے کا منفرد اعزاز بھی حاصل کر لیا۔

اس سال اب تک ان کے 23 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں بنائے گئے رنز کی تعداد 1033 تک پہنچ چکی ہے جن میں ایک سنچری اور دس نصف سنچریاں شامل ہیں۔

محمد رضوان

رضوان کے اوپننگ پارٹنر اور پاکستانی کپتان بابراعظم بھی پیچھے نہیں رہے۔ رواں برس ان کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں 40 میچوں کی 37 اننگز میں 1666 رنز ہو چکے ہیں اور وہ ایک سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ چکے ہیں۔

انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میں بابراعظم نے اب تک 826 رنز بنا رکھے ہیں۔

ایک کیلنڈر سال میں اس سے قبل سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز کا ریکارڈ آئرلینڈ کے پال سٹرلنگ کا تھا جنھوں نے سنہ 2019 میں 748 رنز سکور کیے تھے۔

سب سے زیادہ سنچری پارٹنرشپس

بابراعظم اور محمد رضوان اب تک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پانچ سنچری شراکتیں قائم کر چکے ہیں جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی جوڑی کی سب سے زیادہ سنچری شراکتیں ہیں۔

بابر اور رضوان کی ان سنچری پارٹنر شپ میں سے چار پہلی وکٹ کے لیے ہیں جبکہ ایک سنچری پارٹنرشپ انھوں نے دوسری وکٹ کے لیے قائم کی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دونوں نے یہ تمام سنچری شراکتیں اسی سال قائم کی ہیں جن میں سے دو اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنی ہیں۔

انڈیا کے روہت شرما اور لوکیش راہل، نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن اور مارٹن گپٹل اور انڈیا کے روہت شرما اور شکھر دھون یہ وہ تین جوڑیاں ہیں جنھوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چار چار سنچری پارٹنرشپس بنائی ہیں۔

کرک

کپتان کی سب سے زیادہ نصف سنچریاں

بابراعظم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے والے کپتان بھی بن چکے ہیں۔

انڈیا کے وراٹ کوہلی نے کپتان کی حیثیت سے 13 نصف سنچریاں بنائی تھیں جبکہ اس ٹورنامنٹ کے بعد بابر اعظم کی 15 نصف سنچریاں ہو چکی ہیں۔

دس وکٹوں سے پہلی بار جیت

پاکستان نے انڈیا کو دبئی میں کھیلے گئے میچ میں دس وکٹوں سے شکست دی۔ پاکستان کو جیتنے کے لیے 152 رنز کا ہدف ملا تھا جو اس نے 18ویں اوور میں حاصل کر لیا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ دس وکٹوں سے جیتا اور یہ بھی پہلی بار ہوا کہ انڈین ٹیم کسی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں دس وکٹوں کی شکست سے دوچار ہوئی۔

وراٹ کوہلی، انڈیا

شعیب ملک کی تیز ترین نصف سنچری

شعیب ملک نے سکاٹ لینڈ کے خلاف شارجہ میں اپنی نصف سنچری 18 گیندوں پر مکمل کی۔ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی تیز ترین نصف سنچری ہے۔

ان سے پہلے یہ ریکارڈ عمر اکمل کا تھا جنھوں نے سنہ 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف ایجبسٹن میں 21 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی تھی۔

گع

چھوٹی ٹیموں کی بڑی پرفارمنس

پاکستان کرکٹ ٹیم کے علاوہ یہ ٹورنامنٹ چند چھوٹی ٹیموں کی عمدہ پرفارمنس کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز عمان میں کوالیفائنگ راؤنڈ سے ہوا تھا جس میں آٹھ ٹیمیں شریک تھیں۔

ان آٹھ میں سے چار ٹیموں نے فائنل راؤنڈ یعنی سپر 12 کے لیے کوالیفائی کیا جن میں بنگلہ دیش، سری لنکا، سکاٹ لینڈ اور نمیبیا شامل ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹیسٹ سٹیٹس رکھنے والی آئرلینڈ کی ٹیم سپر12 میں جگہ بنانے میں ناکام رہی تھی۔

نمیبیا نے اس عالمی ایونٹ میں اپنی عمدہ کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا۔ نمیبیا نے اس سے قبل سنہ 2003 کے 50 اوور کے ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی جس کے اٹھارہ سال بعد یہ اس کا آئی سی سی کا پہلا عالمی ایونٹ تھا۔

نمیبیا نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہالینڈ کو چھ وکٹوں سے شکست دی جس کے بعد آئرلینڈ کے خلاف آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سپر 12 راؤنڈ میں جگہ بنا لی۔

سکاٹ لینڈ نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں اپنے تینوں میچ جیتے جن میں بنگلہ دیش کے خلاف چھ رن کی یادگار جیت بھی شامل تھی۔

کرک

ویسٹ انڈیز کا زوال

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم دفاعی فاتح کی حیثیت سے اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی تھی لیکن اس ٹورنامنٹ میں ناقص کارکردگی کے باعث اب اگلے سال وہ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلے گی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے گروپ کے پانچ میچوں میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کر سکی اور چار میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انگلینڈ کے خلاف میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم صرف 55 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی جو انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اس کا دوسرا سب سے کم سکور ہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے جن تجربہ کار کھلاڑیوں پر انحصار کر رہی تھی وہی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

کرس گیل پانچ میچوں میں صرف 45 رنز بنا سکے جن میں ان کا بہترین انفرادی سکور 15 تھا۔

جب رنز ہی نہیں بنے تو چھکے بھی کہاں سے آتے؟ پورے ٹورنامنٹ میں ان کے نام کے آگے صرف تین چھکے درج ہوئے۔

’یونیورس باس‘ کے نام سے مشہور کرس گیل کی یہ مایوس کن کارکردگی سب کے لیے حیران کن تھی۔

کرک

انھوں نے اگرچہ باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا لیکن وہ نوشتۂ دیوار پڑھ چکے ہیں اور اگر ان کا انٹرنیشنل کریئر جاری رہا تو اس سے زیادہ حیران کن بات کوئی اور نہیں ہو گی۔

کرس گیل کے دیرینہ دوست ڈوائن براوو نے البتہ بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کر دیا۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے تمام میچوں میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ 553 وکٹیں حاصل کرنے والے ڈوائن براوو اس عالمی کپ میں صرف دو وکٹیں ہی حاصل کر سکے۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان پولارڈ کے لیے بھی یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھیانک خواب ثابت ہوا اور وہ پانچ میچوں میں صرف 90 رنز بنا پائے۔

اسی طرح آل راؤنڈر آندرے رسل پانچ میچ کھیل کر صرف 25 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے اور ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد تین رہی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.