Site icon Dunya Pakistan

پاسٹرناک کا جنازہ اور سرکاری دانش

آج کل ہماری تاریخ ندامت کا ایک اور قابلِ فراموش باب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، اچھا موقع ہے کہ رُک کر کچھ بنیادی نکات کی بارِ دگر خواندگی کر لیں۔ سپہ سالار اور سپاہی میں یہی فرق ہے کہ لڑائی ختم ہونے پر کماندار اپنے خیمے میں محفل ہائوہو سجاتا ہے مگر سپاہی اپنے جوتے نہیں اتارتا، جانتا ہے کہ لڑائی میں فتح یا شکست ہوا میں رچی موت کے اندوہ اور لہو کی باس کا وقفہ ہے، جنگ ابھی باقی ہے۔ آج روس کا کچھ ذکر رہے۔ گورکی کے ڈرامے ’پاتال‘ کا ایک مکالمہ ہے، ’انسان کا احترام کرنا چاہیے‘۔ انسان بھی گویا منٹو کا ایشر سنگھ ہے۔ خواہی کلونت کلور کے چاقو سے کاٹ کر عدالت کے کٹہرے میں لٹکا دو، خواہی سمجھ لو کہ انسان محض استخواں پہ منڈھی کھال میں سانس لیتا دو پایہ نہیں، انسان کا شعور اس کی فانی مگر منفرد ذات کا اثبات ہے، دلیل رکھتا ہے، حرفِ انکار کے بیان سے روک بھی دیا جائے تو حسِ انصاف سے دستبردار نہیں ہوتا، دکھ کی سانجھ سے کندن ہوتا ہے، سکھ کے اہتزاز سے توانائی پاتا ہے۔ تخلیق کی صلاحیت سے ایک اور زمانے کا خواب تراش سکتا ہے۔ آمریت شرفِ انسانی کے تمام نشانات سے انحراف ہے۔ آمریت طاقت کے بل پر دلیل کو کچل دینے کا نام ہے، آمریت احترامِ انسان کا حتمی انکار ہے۔

روس میں انقلابِ اکتوبر انسانی تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھا۔ اٹھارہویں صدی کی روشن خیالی سے انقلاب کے تصور نے جنم لیا کہ پرانی دنیا کو تہ و بالا کر کے ایک نئی دنیا کی نیو اٹھائی جا سکتی ہے۔ انقلاب فرانس تو اس روایت کا پیش لفظ تھا۔ بیسویں صدی میں روس، چین اور ایران جیسے تجربات سے گزر کر معلوم ہوا کہ انقلاب تو ایک گرہ کٹ ٹولے کی جگہ ٹھگوں کی ایک دوسری منڈلی کے نرغے میں اسیری کا المیہ ہے۔ انقلاب اپنے بچے تو نگل ہی جاتا ہے، کئی نسلوں کے خواب ملیامیٹ کر کے انسانیت کے مجموعی امکان کو بھی مجروح کرتا ہے۔ انقلاب کے ہنگامی غل غپاڑے میں اچھے خاصے نکتہ رس دماغ بھی عقل کی پتوار سے دست کش ہو جاتے ہیں۔ 1890 میں پیدا ہونے والا بورس پاسٹرناک بھی برسوں بالشیوک خواب کا اسیر رہا۔ 1924 میں پاسٹر ناک کی اسٹالن سے واحد براہ راست ملاقات ہوئی تھی۔ ایک طرف کامریڈ اسٹالن کا انقلابی ہالہ تھا تو دوسری طرف شاعر کا وجدان اسے کسی گہری خرابی سے خبردار کرتا رہا۔ 1891 میں پیدا ہونے والا یہودی نژاد روسی شاعر اوسپ مینڈل سٹام اشتراکی آمریت کی کنہ پانے میں سبقت لے گیا۔ 1934 میں مینڈل سٹام نے اسٹالن کی ایک ہجو لکھی جس میں آمر کو ’موٹی انگلیوں والا دیہاتی قاتل‘ قرار دیا۔ ایک روز چہل قدمی کرتے ہوئے مینڈل سٹام نے یہ نظم پاسٹرناک کو سنائی تو اس نے گھبرا کر کہا ’دیکھو، تم نے مجھے یہ نظم سنائی اور نہ میں نے سنی۔ تم نہیں جانتے کہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ لوگ راتوں رات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘ پاسٹرناک نے دوست کی رازداری کی لیکن وہ نظم ا سٹالن تک پہنچ گئی اور خفیہ ادارے کے اہلکار 14 مئی 1934 کی رات مینڈل سٹام کے گھر جا پہنچے۔ مینڈل سٹام کی گرفتاری کے وقت عظیم شاعرہ انا اخماتووا اس کے گھر موجود تھی۔ تلاشی کے باوجود نظم نہیں مل سکی کیونکہ اسے کاغذ پر لکھا ہی نہیں گیا تھا۔ مینڈل سٹام پر پڑنے والی افتاد کی خبر ملتے ہی پاسٹرناک اور انا اخماتووا پاگلوں کی طرح اسے بچانے نکل آئے ٹھیک اسی طرح جیسے مطیع اللہ جان کے اغوا کے بعد اعزاز سید، عائشہ تنظیم اور حامد میر نے سر گاڑی اور پائوں پہیا کر دیے تھے۔ انا اخماتووا تو کریملن تک جا پہنچی۔ اس دوران ایک روز اچانک پاسٹرناک کو اسٹالن کا فون آیا۔ اسٹالن چاہتا تھا کہ مینڈل سٹام کے بارے میں سوالات کر کے پاسٹر ناک کی ٹوہ لگائی جائے۔ بوکھلائے ہوئے پاسٹرناک نے لفظوں کے ہیر پھیر سے گرفتار شاعر کے دفاع کی کوشش کی۔ فون پر سادیت پسند اسٹالن کا استہزائی قہقہہ سنائی دیا، ’یوں کہو نا کہ تم میں اپنے دوست کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں۔‘ فون کھٹاک سے بند ہو گیا۔ بعد ازاں اسٹالن نے پاسٹرناک کو پیغام بھیجا کہ ’گستاخ شاعر‘ کی جان بخش دی گئی ہے البتہ اسے بیوی سمیت تین برس کے لیے شمالی روس کے برف زاروں میں جلاوطن کیا جا رہا ہے۔

1937 میں رہائی کے ایک برس بعد ہی 1938 میں مینڈل سٹام کو پھر گرفتار کر کے پانچ برس کے لیے ولاڈی واسٹک کے عقوبت خانے میں بھیج دیا گیا۔ جہاں چند ماہ بعد ہی دسمبر 1938 میں اس کا انتقال ہو گیا۔ مینڈل سٹام کی موت کے بعد پاسٹرناک بھی نشان زد ہو گیا۔ 1946 میں پاسٹرناک کو ایک نوجوان ادیبہ اولگا ایونسکایا سے گہری محبت ہو گئی۔ پاسٹرناک کو ممکنہ طور پر بدترین اذیت دینے کے لیے اس کی بجائے اولگا کو بار بار قید کیا گیا۔ پاسٹرناک اس دوران ’ڈاکٹر ژواگو‘ لکھ رہا تھا۔ا سٹالن کی موت کے باوجود روسی انقلاب پر یہ گہری تنقید روسی حکومت کے لیے اس قدر ناقابل برداشت تھی کہ ناول کی پہلی اشاعت اٹلی ہی سے ممکن ہو سکی۔ اس جرم میں پاسٹرناک کو مردود قرار دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ میں اس کے خلاف گالی دشنام کی مہم چلائی گئی۔ اسے 1959 کا نوبل انعام وصول کرنے کے لیے سویڈن جانے سے روکا گیا۔ بالآخر 30 مئی 1960 کو راندہ درگاہ ادیب پاسٹرناک کا انتقال ہو گیا۔ اس کے جنازے پر سرکاری رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں عقیدت مند امڈ آئے۔ روس کے لوگ اپنے ادیبوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ مینڈل سٹام ہی نے ایک نظم میں لکھا تھا کہ ’دنیا میں کہیں روس سے زیادہ شاعری کو اہمیت نہیں دی جاتی کیونکہ اس ملک میں نظم لکھنے پر شاعر قتل کیے جاتے ہیں‘۔ تاہم پاسٹرناک کے ہمسائے اور روسی ادیبوں کے سرکاری سربراہ نے اپنے گھر کی کھڑکیاں بند کروا دیں اور 23 برس کی ہمسائیگی کے باوجود جنازے میں شریک نہیں ہوا۔ فیدن نام کا یہ ادیب اب گمنام ہے اس لیے کہ ریاستی اداروں میں عہدوں کے جویا ادیب نہیں ہوتے اور ادیب ریاستی دانش کی کم مائیگی کا روادار نہیں ہوتا۔

Exit mobile version