پالتو جانوروں کی موجودگی سے بچوں کا دماغ کیسے تیز ہو جاتا ہے

بچوں کی کوئی بھی کتاب اٹھا کے دیکھ لیں، زیادہ امکان یہی ہے کہ کہانی کا مرکزی کردار انسان نہیں بلکہ کوئی جانور ہوگا۔

سنڈی یا کیٹرپلر جیسے رینگنے والے چھوٹے کیڑے سے لے کر وہیل مچھلی جیسے بڑے سمندری جانور تک، لگتا ہے کہ جانور دنیا بھر میں بچوں کی دلچسپی کا خاص مرکز ہوتے ہیں۔

تصویری کہانیوں میں نظر آنے والے جانور زیادہ تر بچوں کی حقیقی دنیا سے دور ہوتے ہیں، لیکن جن گھروں میں کوئی پالتو جانور موجود ہو، وہاں بچوں کو جانوروں کی دنیا کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اکثر ان بچوں اور پالتو جانوروں میں ایک ایسا رشتہ بن جاتا ہے جس کے اثرات بچوں پر عمر بھر رہتے ہیں۔

اگر والدین کو بچوں اور پالتو جانوروں کے درمیان تعلقات اور آئندہ زندگی میں بچوں پر اس کے اثرات کے بارے میں معلومات حاصل ہوں تو نہ صرف وہ درست جانور کا انتخاب کر سکتے ہیں بلکہ انھیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ ایک سچا اور کامیاب رشتہ بنانے میں کیا چیزیں اہم ہوتی ہیں۔

اکثر لوگوں کے لیے ان کے پالتو جانور، خاندان کے افراد کی طرح ہوتے ہیں جو انھیں زندگی کے مختلف مراحل میں مدد کا سہارا دیتے ہیں۔

گھر میں ادھر ادھر دوڑتے بھاگتے یہ دوست، میاں بیوی کو اپنا رشتہ مضوط بنانے میں مدد کر سکتے ہیں، بچوں کے ساتھ کھیل کود سکتے ہیں اور جب بچے بڑے ہو کر گھروں سے دور چلے جاتے ہیں تو یہی جانور والدین کے دیرینہ دوست بن جاتے ہیں۔

امریکہ میں ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ بارہ ماہ سے کم عمر بچوں والے گھروں میں سے 63 فیصد کے ہاں پالتو جانور موجود تھے، جبکہ آسٹریلیا میں ایک جائزے میں معلوم ہوا کہ جب بچے سکول جانا شروع کر دیتے ہیں تو جانور پالنے والے گھروں میں دس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔

اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ جانوروں کی دیکھ بھال کرنے سے بچوں کو دوسروں کی مدد کرنے، احساسِ ذمہ داری اور ہمدردی جیسے گراں قدر سبق ملتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ کی ٹفٹس یونورسٹی سے منسلک پروفیسر میگن میولر کہتی ہیں کہ ’یہ بہت اہم چیز ہے، خاص طور پر اس سے چھوٹے بچوں کو سبق ملتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کے خیالات یا نکتہ نظر آپ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ شاید بچوں کے لیے اپنے بہن بھائیوں کی نسبت جانوروں سے یہ سبق سیکھنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔‘

لیکن کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ پالتو جانوروں کے بچوں پر اثرات اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ جانور بچوں کی عادات و اطوار، جسمانی صحت اور حتیٰ کہ ان کی دماغی نشوونما پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں اور ان میں بہت زیادہ ہمدردی کے جذبات کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مثلاً ایسے بچے جنھیں آٹزم ہو، پالتو جانور ان بچوں اور ان کے گھر والوں کے ذہنی دباؤ میں کمی کر سکتے ہیں اور ان بچوں کے لیے مضبوط رشتے بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

پالتو جانوروں اور بچوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی نفسیات پر دیرینہ اثرات کے علاوہ کسی خاص لمحے میں جانوروں کا بچوں کے قریب ہونا بھی ان کے لیے سود مند ہو سکتا ہے۔

ایک تحقیق میں جب کچھ بچوں کو مختلف قسم کی چیزوں کو کو الگ الگ ڈبوں میں ڈالنے کو کہا گیا تو بچوں نے اس وقت کم غلطیاں کیں جب کمرے میں ایک کتا بھی موجود تھا، یعنی کمرے میں کتے کی موجودگی سے بچوں کی سمجھ بوجھ بہتر رہی۔

ایک اور تحقیق میں تو یہ بات بھی دیکھی گئی ہے جب ہم بالغ افراد پالتو جانوروں کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں تو ہماری ذہنی صحت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔

اگرچہ ایسی خبروں پر تنقید بھی ہوتی رہتی ہے کہ پالتو جانوروں کی وجہ سے فلاں شخص کی زندگی بہت بہتر ہو گئی، فلاں کو یہ فائدہ ہوا، لیکن کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ جانور پالنے کے بعد ان کی صحت زیادہ اچھی ہو گئی اور وہ زیادہ خوش رہنے لگے، حالانکہ ان کے میڈیکل ٹیسٹوں وغیرہ میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔

پالتو جانور اور بچے
،تصویر کا کیپشنکئی دیگر ممالک کی طرح فرانس میں بھی بچوں کے علاج میں کتوں سے مدد لی جاتی ہے

پالتو جانوروں اور پھر لوگوں میں 'اٹھنا بیٹھنا'

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعی پالتو جانوروں کے اتنے فائدے ہیں یا یہ محض ہمارا خیال ہے؟

پرتھ میں واقع یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبۂ آبادی و عالمی صحت سے منسلک، پروفیسر ہیلی کرسچن ان ماہرین میں سے ایک ہیں جو اسی موضوع پر تحقیق کر رہی ہیں۔

پروفیسر ہیلی کرسچن اور ان کی ٹیم نے چار ہزار بچوں کے پانچ اور پھر سات برس کی عمر کے اعداد وشمار پر تحقیق کی جس میں انھیں معلوم ہوا کہ وہ بچے جن کے ہاں پالتو جانور موجود تھے، ان کو دوسرے بچوں سے گھلنے ملنے میں کم مسائل ہوئے اور ان کا معاشرتی رویہ بہتر رہا۔

ایک اور تحقیق میں ٹیم نے یہ بھی دیکھا کہ دو سے پانچ برس کے وہ بچے جن کے والدین نے کتا پال رکھا تھا، وہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ چست تھے، سکرین کے سامنے کم وقت گزارتے تھے اور زیادہ پر سکون نیند کرتے تھے۔

ان میں سے سب سے اہم چیز جسمانی ورزش تھی، جیسے والدین کے ساتھ کتے کو صبح شام باہر لے کر جانا اور پارک میں کھیلنا کودنا۔

پروفیسر ہیلی کرسچن اور ان کی ٹیم نے گذشتہ برس بھی ایک تحقیق شائع کی جس میں انھوں نے گھر میں کتے کی موجودگی اور بچوں میں چستی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔ ٹیم نے ایک جیسے سماجی پس منظر والے بچوں میں بھی یہی دیکھا کہ وہ بچے جو پالتو کتے کی وجہ سے مسلسل جسمانی ورزش کرتے رہے، ان کی نشو نما ان بچوں سے بہتر رہی جن کے ہاں کتا نہیں تھا یا ان کے والدین بچوں کو کتے کے ساتھ پارک نہیں لے جاتے تھے۔

پروفیسر کرسچن کے مطابق ’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بچے جن کے گھروں میں پالتو جانور تھے اور وہ چھوٹی عمر سے ہی جانوروں کے ساتھ کھیلتے رہے، ان کو سماجی جذبات کے اظہار کے حوالے سے فائدہ ہوا۔‘

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خاندان کو چاہیے کہ وہ بھی کوئی جانور پالے، یا یہ کہ ہر وہ بچہ جس کے گھر میں کتا موجود ہوتا ہے وہ دوسرے بچوں سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔اگر بچے کو کوئی ذہنی مسئلہ ہے، اسے علاج معالجے کی ضرورت ہو، اور خاندان کو پالتو جانور کے اخراجات کا مسئلہ بھی درپیش ہو، تو جانور پالنا مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح، وہ خاندان جن کے گھروں میں جانور رکھنے کی جگہ نہ ہو ان کے لیے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے میولر کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتای کہ ہم کبھی بھی اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں ہم یہ کہنا شروع کر دیں کہ جس بھی گھر میں کوئی بچہ موجود ہو،انھیں کتا ضرور پالنا چاہیے۔‘

بلکہ میولر نے تو اس سوال پر تحقیق بھی کی ہے کہ آیہ وہ امریکی نوجوان جن کے ہاں پالتو جانور موجود تھے، کووڈ کی وبا کے دوران ان کی ذہنی صحت بغیر پالتو جانوروں والے نوجوانوں سے بہتر رہی یا نہیں۔ اس تحقیق میں ثابت ہوا کہ گھر میں کسی جانور کے ہونے یا نہ ہونے سے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ’میرا خیال یہ تھا کہ (کم عمر لڑکے لڑکیوں پر) کووڈ کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ اس پر قابو پانے میں کسی پالتو جانور کا ہونا یا نہ ہونا زیادہ معنی نہیں رکھتا تھا۔‘

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کووڈ کی وبا نے نوجوانوں کے لیے وہ راستہ بھی بند کر دیا ہو جس سے وہ اپنے پالتو کتے کے ساتھ وقت گزار کے بہتر محسوس کرتے تھے۔

’ہم کتے کے ساتھ وقت گزار کے نہ صرف خود سماجی فوائد اٹھاتے ہیں، بلکہ اپنے پالتو جانوروں کے ذریعے ہم دوسرے لوگوں سے بھی ملتے جلتے ہیں۔‘

میولر کے بقول ’لاک ڈاؤن کے دوران ہو سکتا ہے کہ نوجوان معمول کے مطابق اپنے کتے کو واک کروانے کے لیے باہر جاتے رہے ہوں، لیکن وہ شاید (پارک میں آنے والے) باقی لوگوں سے گفتگو سے پرہیز کرتے رہے ہوں، جس کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں سے ہلکی پھلکی باتیں بھی نہ کر پائے ہوں۔‘

پالتو جانور اور بچے
،تصویر کا کیپشنایک یوکرینی بچی حالت جنگ میں بھی اپنے دوست کو نہیں بھولی

ایک مضبوط رشتہ بنانا

جہاں تک بچوں پر پالتو جانوروں کے مثبت اثرات کا تعلق ہے، اس حوالے سے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان رشتہ کیسا ہے، یعنی دونوں کا محض ایک ہی گھر میں رہنا کافی نہیں۔

میولر کہتی ہیں کہ محض پالتو جانور کا ہونا یا نہ ہونا اتنا اہم نہیں، بلکہ ہم بچے اور جانور کے رشتے کی بنیاد پر بہتر پیشنگوئی کر سکتے ہیں کہ بچے پر جانور کے ساتھ تعلق کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایک اہم چیز یہ ہے کہ بچہ پالتو جانور کے ساتھ کتنا وقت گزارتا ہے۔ اگر آپ کے بہن یا بھائی نے ہیمسٹر (چوہے کی ایک نسل جسے موش نُما بھی کہتے ہیں) پال رکھا ہے اور وہ اسے ہر وقت اپنے کمرے میں رکھتا ہے تو اس بات کے امکانات کم ہیں کہ آپ کو بھی ہیمسٹر سے کوئی لگاؤ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں اگر خاندان نے کتا پال رکھا ہے اور آپ سکول کے بعد اسے واک کے لیے لیجاتے ہیں تو کتے سے آپ کا لگاؤ زیادہ ہو جائے گا۔

کسی خاص پالتو جانور کے ساتھ بچے کا رشتہ کتنا مضبوط ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ بچے کی عمر کیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چھ سے دس سال کے بچے بلی اور کتے جیسے پالتو جانوروں سے تقریباً اتنا ہی مضبوط رشتہ بناتے ہیں جیسے وہ دیگر انسانوں سے بناتے ہیں۔ اس کے برعکس 11 سے 14 سال کے بچے کہتے ہیں کہ انہیں اپنی بلی یا کتے سے بھی اتنا ہی لگاؤ ہوتا ہے جتنا کسی دوسرے جانور یا پرندے سے ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ گھر کے ماحول کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک طویل تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے بہن بھائی نہیں ہوتے، ان کے لیے پالتو جانور زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایسے بچے پالتو جانور کو ہی اپنا بہن بھائی سجھتے ہیں۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ جب بچے پالتو جانوروں کی عادات کو سمجھ جاتے ہیں تو انھیں دوسرے جانوروں اور جنگلی حیات کی دنیا کی بہتر سمجھ آ جاتی ہے۔ اس حوالے سے علم حیوانات کے ماہر اور پالتو جانوروں پر کئی کتابوں کے مصنف، جان بریڈشا کہتے ہیں کہ بچے ’اپنے پالتو جانوروں سے سیکھتے ہیں کہ دوسرے جانوروں کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے، ان سے اظہارِ ہمدردی کیسے کرتے ہیں، ان کی ضروریات کیا ہوتی ہیں۔‘

’عین ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں شیر کے بارے میں بہت سے تصوراتی کہانیاں موجود ہوں، لیکن جب تک کوئی آپ کو افریقہ لیکر نہیں جاتا، اس وقت تک جنگل میں شیر سے آپ کی ملاقات نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر آپ کے پاس بلی یا کتا ہو تو وہ آپ کو بتا سکتا ہے کہ جانور کیسے ہوتے ہیں، یوں آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ جانور انسان نہیں ہوتے۔ جانوروں کی ایک اپنی دنیا ہوتی ہے اور اس دنیا پر انسانوں کا نہیں بلکہ جانوروں کا حق ہے۔‘

بڑے بچے تو جانوروں سے سیکھتے ہی ہیں، لیکن ننھے بچے بھی اپنے ارد گرد موجود پالتو جانوروں کو دیکھ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ مثلاً ایک تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے منسلک ایک محقق، کرینا ہرلی نے دیکھا کہ وہ ننھے بچے جن کے گھر میں جانور ہوتے ہیں وہ دس ماہ کی عمر میں ہی مختلف جانوروں کو زیادہ بہتر پہچان لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پالتو جانور سے تعلق کی وجہ سے بچہ قدرتی ماحول سے بھی زیادہ مانوس ہو جاتا ہے اور فطرت کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط ہو جاتا ہے، جس کی بڑی ضرورت ہے۔ بریڈشا کہتے ہیں کہ گھر میں ایک زندہ، سانس لیتی، قدرے گندی مخلوق کو بھاگتا دوڑتا دیکھنا، فطرتح اور بچے کے درمیان ایک صحتمند تعلق بنانے کا اچھا طریقہ ہو سکتا ہے۔

پالتو جانور اور بچے
،تصویر کا کیپشنٹوکیو میں ایک لڑکا ہپستال کے کتے کے کے ساتھ دوستی بڑھاتے ہوئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پالتو جانور بچوں کی نشوونما اور بحالی صحت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

جانور بچوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

اگر ہم اپنے پالتو جانور کے جنگل کے دنوں کے ماضی کو یاد کریں تو ہمیں یہ بات سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے کہ جانور ہمارے خاندان کو کیسے دیکھتے ہیں۔

مثلاً کتا اپنے ارتقائی دور سے انسانوں کے ساتھ رہتا رہا ہے جس کی وجہ سے کتے میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ انسانوں سے ایک مضبوط تعلق قائم کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس بلیاں بنیادی طور پر ایک الگ تھلگ رہنے والی مخلوق ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ بھی گھر میں رہنے والے انسانوں کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھتی ہیں۔ مسٹر بریڈشا کے مطابق 'ہماری بلیاں ہمارا استقبال اپنی دم اٹھا کر اور ہماری ٹانگوں سے جسم رگڑ کے کرتی ہیں، بالکل یہی حرکت وہ اپنے خاندان کی دوسری بلیوں یا قریبی دوستوں سے کرتی ہیں۔'

لیکن آیا کوئی پالتو جانور بچوں کو بھی اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار پالتو جانور کی اپنی زندگی کے ابتدائی تجربات پر ہوتا ہے۔

اس کے لیے بلیوں اور کتوں دونوں کے پاس ایک مختصر وقت ہوتا ہے۔ کتے کے بچوں کے لیے یہ آٹھ سے 16 ہفتوں کے درمیان ہوتا ہے، جہاں وہ ان لوگوں کے بارے میں سیکھتے ہیں جن سے وہ اپنی زندگی میں سامنا کر سکتے ہیں۔

"ہم جانتے ہیں کہ اگر کتے یا بلی کے بچے چھ ماہ یا اس سے زیادہ عمر تک بچوں سے بالکل نہیں مل پاتے تو بچوں کے ساتھ ان کا رویہ خاصا منفی ہو سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی بچوں کو انسان کے طور پر نہیں پہچانتے، اور صرف اسی صورت میں بچوں کو خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں جب وہ انھیں باقی انسانوں کے ساتھ اکٹھے ملے ہوں۔‘

اس کی وضاحت کرتے ہوئے بریڈشا مزید بتاتے ہیں کہ ’اگر آپ اسے جانور کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ بات بالکل سمجھ آتی ہے۔ ’ایک بچہ بالغ انسان کی طرح بالکل نہیں ہوتا۔ بچہ حجم میں بہت چھوٹا ہوتا ہے، کھڑا نہیں ہو سکتا، ایک بالغ انسان کے برعکس بہت مختلف آوازیں نکالتا ہے، اور اس کی بدن کی بو ایک بالغ انسان سے بہت مختلف ہوتی ہے۔‘

’یہ سمجھنا کہ ایک پالتو جانور دنیا کو کس طرح دیکھتا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کا ہر فرد ساتھ ہو۔ اگر بلی گھر میں لائی گئی نئی چارپائی یا صوفے پر پیشاب کرتی ہے، تو آپ یہ نتیجہ نکال سکتی ہیں کہ بلی آپ کے سوچنے کے انداز سے ہمدردی نہیں رکھتی۔ لیکن بلی واقعی ان چیزوں کو نہیں سمجھتی، اسی لیے جب گھر میں کوئی تبدیلی آتی ہے اور آپ کے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو بلی ان حوالوں اور چیزوں سے محروم ہو جاتی ہے جس کی وہ عادی ہو چکی ہوتی ہے۔‘

کتے اور بلیاں اپنی ناک پر بہت انحصار کرتے ہیں، اسی لیے گھر میں بہت سی نئی خوشبوؤں کا آ جانا ان کے لیے ایسا ہی ہوتا ہے جیسا پورے گھر کے دیواروں کا رنگ بدل دیا گیا ہو۔

اس کے برعکس اگر گھر کی مانوس بو تبدیل نہ ہو تو بلیاں اور کتے خوش رہتے ہیں۔ ایک تجربے میں مسٹر بریڈشا اور ان کی ٹیم نے ایک بے چین کتے کے سامنے وہ کپڑے رکھے جو اس کی مالکن اکثر پہن کر سوتی تھی تو ’اس مانوس بو کی وجہ سے کتے پر حیران کن اثرات مرتب ہوئے اور وہ بہت سکون سے بیٹھ گیا۔‘

جانوروں پر انسانوں کے اصولوں کا اطلاق نہ کرنا اس وقت بہت اہم ہو جاتا ہے جب ہم بچوں کی حفاظت کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ’آپ کبھی بھی سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آپ کے کتے کا بچے کے ساتھ رویہ کیسا ہوگا۔ ایسی بہت سی چیزیں ہو سکتی ہیں جس سے کتے کا ردعمل بہت مخلتف ہو سکتا ہے، یعنی وہ بچے کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔‘

اس تمام بحت کا نتیجہ یہ ہے کہ بچے اور پالتو جانور کا تعلق بہت مخصوص ہو سکتا ہے اور ماہرین نے حال ہی میں اس بارے میں تحقیق شروع کی ہے کہ بچے اور پالتو جانور کے درمیان رشتہ کیسا ہونا چاہیے جو دونوں کے لیے مفید ہو اور اس شعبے میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

مسٹر بریڈشا کا اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہنا تھا کہ پالتو جانوروں کی موجودگی سے بچوں کو جو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ’ان میں میں کچھ کا حساب لگانا مشکل ہے کیونکہ اس کا ا نحصار اس انفرادی جانور اور بچے پر ہوتا ہے، لیکن سائنسی تحقیق کے لیے ہمیں پوری آبادی اور بڑے اعداد وشمار کو دیکھنا ہوتا ہے۔ ’لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بچوں پر پالتو جانوروں کے اثرات ہوتے ہیں نہیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.