پاکستان، آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی: اگر فنچ بابر اور رضوان کا کوئی توڑ کر پائے تو۔۔۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ پاکستان کو سرفراز احمد کی قیادت میں ایک یکسر ناقابلِ شکست ٹی ٹوئنٹی ٹیم میسر تھی، مگر اس کے بعد ڈیڑھ سال کے لگ بھگ جو وقت تجربات میں گزرا تو اس دوران ٹی ٹوئنٹی سائیڈ کی وضع قطع خاصی بدل گئی تھی۔

لیکن دھیرے دھیرے تجربات کی بھٹی میں تپ کر بالآخر جو ٹی ٹوئنٹی ٹیم پاکستان کو پھر سے دستیاب ہو پائی ہے، وہ بھی استحکام اور صلاحیت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اگرچہ ابھی اس ٹیم کی فتوحات کا ریکارڈ سرفراز کی ٹیم سا تو نہیں ہوا مگر پچھلے بارہ میچز کی کارکردگی دیکھ کر یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ یہ ٹیم بھی عین اسی ڈگر پہ گامزن ہے جہاں کبھی وہ ٹیم ہوا کرتی تھی۔

پچھلے بارہ ٹی ٹوئنٹی میچز میں محض ایک استثنیٰ کے سوا یہ ٹیم بالکل ناقابلِ شکست رہی ہے۔ اور یہ اکلوتی شکست وہی ہے جو ابھی تک بہت سے پاکستانی شائقین کے ذہن میں تازہ ہو گی۔

پچھلے برس کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جہاں پاکستان گروپ سٹیج سے انڈیا اور نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کو ہرا کر سیمی فائنل کے لیے واضح فیورٹ چلا آ رہا تھا، وہاں ناک آؤٹ میچ میں فنچ کی الیون نے انھیں چکرا کر رکھ دیا اور شاہین آفریدی جیسے گھاگ بولر بھی میتھیو ویڈ کے دام میں آ کر حواس کھو بیٹھے۔

اور یقیناً یہ تلخ یاد پاکستانی ڈریسنگ روم میں ابھی کہیں نہ کہیں زندہ ہو گی کہ آج اس کے بعد پہلی بار پاکستان اور آسٹریلیا اس فارمیٹ میں مدِ مقابل ہوں گے اور بابر کی ٹیم یقیناً اس بات سے بھی آگاہ ہو گی کہ آج کی الیون میں اس ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلنے والی آسٹریلوی ٹیم کے محض تین کھلاڑی موجود ہوں گے۔

بابر

آئی پی ایل، کورونا اور انجریز کے سبب یہ آسٹریلوی ٹیم بلا شبہ پاکستان کی قوت سے خاصی کمزور تر ہے۔ اور جس طرح سے بابر اعظم اس پورے دورے پر آسٹریلوی بولنگ کے سامنے مزاحمت کی دیوار بنے رہے ہیں، یہاں آسٹریلیا کا بڑا امتحان ان کی وکٹ جلد حاصل کرنا ہو گا۔

کیونکہ اگر رینکنگ کے پہلے دونوں نمبروں پر براجمان پاکستانی اوپنرز جلد آؤٹ نہ ہوئے تو اس اکلوتے ٹی ٹوئنٹی میں جیت کی امیدیں آسٹریلوی کیمپ سے دور ہوتی جائیں گی۔ ثانیاً فنچ کی حالیہ فارم اور آسٹریلوی ٹاپ آرڈر میں تجربے کے فقدان سے یہ بھی قابلِ دید ہو گا کہ شاہین آفریدی کے تباہ کن ابتدائی اوورز سے کیسے نمٹا جاتا ہے کیونکہ ون ڈے سیریز میں بھی یہ واضح ہو چکا کہ شاہین کے سپیل سے ہی آسٹریلوی اننگز کی سمت متعین ہو گی۔

پاکستان کے لیے شاداب خان کی واپسی ایک متوقع خوشخبری ہو سکتی ہے۔ اور شاداب کی واپسی آسٹریلیا کے امکانات کو مزید زک پہنچا سکتی ہے۔

دن بھر کی حدت کے بعد مصنوعی روشنیوں میں لاہور کی پچ بلے بازی کے لیے مددگار ثابت ہو گی اور پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو یہ بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ دوسری اننگز میں اوس کے سبب گیند پر گرفت دشوار تر ہو جائے گی۔ سو، پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو اپنی فتح کے امکانات روشن کرنے کے لیے 190 کا ہندسہ چھونا ضروری ہو گا۔

پاکستان

اس طویل دورے پر ابھی تک اچھی مسابقتی کرکٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ نتائج کے اعتبار سے بھی دونوں ٹیمیں یکسر تہی دامن نہیں ہیں۔ اگر آسٹریلیا نے ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی ہے تو پاکستان ون ڈے سیریز کے ٹائٹل کا حق دار ٹھہرا ہے۔ اور آج کی ٹرافی گویا حتمی فیصلہ کرے گی کہ مجموعی برتری کس کی ہے۔

اگرچہ کواکب مہمان ٹیم کے برخلاف دکھائی دیتے ہیں لیکن آسٹریلیا کی جیت کو یہاں یکسر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اگر فنچ بابر اور رضوان کا کوئی توڑ کر پائے تو بیس اوورز کے کھیل میں بازی پلٹتے پتا ہی کہاں چلتا ہے؟