پاکستانی ایئر چیف کا ہیلی کاپٹر پر گاؤں کا دورہ: سرکاری وسائل کے استعمال، ریڈ کارپٹ اور پروٹوکول پر سوشل میڈیا پر تنقید اور فضائیہ کی وضاحت

پاکستان میں حکومتی عہدیداروں کو آمد و رفت کے دوران دیے جانے والے پروٹوکول کے حوالے سے بحث کئی دہائیوں سے جاری ہے اورعام طور پر اس کی وجہ سیاست دان بنتے ہیں۔ تاہم گذشتہ روز سے اس بحث کا موضوع ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کا اپنے گاؤں کا دورہ ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کا ہیلی کاپٹر ایک جگہ لینڈ کر چکا ہے اور ان کے استقبال کے لیے سرخ قالین بچھایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے جب ان ویڈیوز کی تصدیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر ہیلی کاپٹر کے ذریعے رواں ہفتے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کی حدود میں سدھ نامی گاؤں میں اترے تھا جو ان کا آبائی علاقہ ہے۔

ان میں سے ایک ویڈیو انتہائی مختصر ہے جس میں ظہیر احمد بابر اپنے ایک اہلکار سے کچھ کہتے ہوئے ویڈیو بنانے والے شخص کی جانب اشارہ کرتے ہیں جس کے بعد وہ اہلکار ویڈیو بنانے والے سے ویڈیو بند کرنے کا کہتے ہیں۔

ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ شیئر کیا جا رہا ہے اور جہاں اکثر افراد ایئر چیف مارشل کی جانب سے بے جا پروٹوکول لینے اور ریڈ کارپٹ استقبال کروانے پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہیں کچھ ان کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔

بی بی سی نے پاکستانی فضائیہ سے اس حوالے سے موقف جاننے کی کوشش کی تو ایک بیان میں پاکستان ایئرفورس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 11 جون 2021 کو ، پاک فضائیہ کے چیف آف دی ایئر سٹاف نے ایک آپریشنل ایریا کا دورہ کیا تھا۔ ان کا آبائی گاؤں اس علاقے کے راستے میں آتا تھا اس لیے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کا فیصلہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے تقریباً تین ماہ پہلے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور تب سے وہ سرکاری مصروفیات کی وجہ سے اپنے والدین کی قبر پر نہیں جا سکے تھے۔

پاکستانی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’گاؤں میں ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے انتظامات موجودہ سکیورٹی حالات میں ایئر چیف کے مجاز سکیورٹی پروٹوکول کے تحت کیے گئے تھے۔ تاہم، ریڈ کارپٹ کے استقبالیے کا اہتمام گاؤں والوں نے اپنے سپوت کے لیے احترام اور فخر کے اظہار کے طور پر کیا تھا۔‘

ویڈیوز میں کیا ہے؟

چند روز قبل شیئر کیے گئے اس دورے کی ویڈیوز گذشتہ روز سے گردش کر رہی ہیں اور ان میں سے ایک ویڈیو میں ہیلی کاپٹر لینڈ ہو چکا ہے جبکہ باہر موجود چند افراد جن میں ایئرفورس کے اہلکار بھی دکھائی دیتے ہیں ریڈ کارپٹ کو ٹھیک کرنے میں مگن ہیں۔

دوسری ویڈیو میں ایئر چیف ہیلی کاپٹر سے باہر نکلتے ہیں اور ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں۔ تیسری ویڈیو میں وہ اطلاعات کے مطابق ایک قبرستان پہنچے ہیں اور یہاں بھی ان کا ریڈ کارپٹ استقبال ہور ہا ہے۔

پاکستان میں پروٹوکول کلچر کی بازگشت

اکثر اوقات سیاستدانوں کو ہی پروٹوکول لے کر مختلف دورے کرتا دکھایا جاتا ہے۔ اس دوارن ٹی وی چینلز پر گاڑیوں کی قطاروں کو باقاعدہ گنتی کر کے دکھایا جاتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل پروٹوکول کلچر کے خاتمے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا۔ اس ضمن میں ان کی جانب سے حزبِ مخالف کی جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔

تاہم ان کے دورِ حکومت کے آغاز میں ہی پروٹوکول سے متعلق تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب وزیرِ اعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ سے وزیرِ اعظم ہاؤس جانا شروع کیا۔ اس وقت کے وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ہیلی کاپٹر پر آمدورفت کا دفاع کرتے ہوئے یہ مشہور بیان دیا تھا۔ 'ہیلی کاپٹر کا خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر ہے'، جسے بی بی سی کی جانب سے فیکٹ چیک کیا گیا تھا۔

تمام ادوار یہ بحث کسی نہ کسی وقت طریقے سے بحث کا حصہ بنی رہتی ہے۔ اس دوران پروٹوکول کے باعث عوام کو ہونے والے نقصان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔

ماہِ رمضان میں وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے ایک مقامی بازار کا دورہ کر رہے ہیں اور قیمتوں کے حوالے سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

ان ویڈیوز کو شیئر کرتے ہوئے اکثر افراد حالیہ بجٹ کا حوالے دیتے ہوئے نجی دورے کے لیے وسائل کے بے جا استعمال پر تنقید کر رہے ہیں۔

ٹویٹ

ویسے تو یہ ویڈیوز متعدد افراد کی جانب سے شیئر کی گئی ہے، اور اسے ویڈیو پلیٹ فارم سنیک ویڈیو پر بھی شائع کیا گیا ہے لیکن جب ٹوئٹر پر تجزیہ نگار اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اسے شیئر کیا تو انھوں نے لکھا کہ 'کیا ہم زمیندار وڈیروں کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں جب ہماری پروفیشنل سروس چیف خود ایک وڈیرا بن جائیں۔‘

'ہم ان کی ہیلی کاپٹر فلائٹ، تین لینڈ کروزرز اور ریڈ کارپٹ پر لگائے گئے ٹیکس کے پیسوں کی کل مالیت کا اندازہ کیسے لگا سکیں گے؟'

ٹویٹ

انھیں جواب دیتے ہوئے جب ایک صارف احسن تنویر نے لکھا کہ کیا وہ اتنی دور اپنے گاؤں تک سفر کرنے کے لیے پیدل چل کے آتے، تو سعد عثمان نے جواب دیا کہ 'یہ خاصی غیرمنطقی بات ہے، ایک مہذب معاشرے میں انھیں نجی دورے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر عہدے سے دستبردار ہونا پڑتا اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی۔'

ٹویٹ

ایک صارف چوہدری شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ ' اس میں کیا غلط بات ہے، اگر وہ گجرات اور پھر اپنے گاؤں بذریعہ روڈ سفر کرتے تو سکیورٹی خدشات کے باعث یہ ممکن نہ ہو پاتا اور اس سے خزانے کو بھی بہت نقصان پہنچتا۔ جانبدار ہونا چھوڑ دیں.'

ٹوئٹر

اس بار ے میں ریڈ کارپٹ کے استعمال پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف محمد علی تالپور نے لکھا کہ 'کیا ان لوگوں کو دھرتی ماں پر چلنے سے گھن آتی ہے؟ ریڈ کارپٹ سے آپ کے وقار میں کمی نہیں آتی، لیکن پھر جو افراد پروقار ہوتے ہیں وہ ریڈکارپٹس سے دور رہتے ہیں۔'

ایک صارف نے لکھا کہ 'اگر یہ اپنی مقامی بس میں گاؤں پہنچتے، تو ہیرو کہلاتے۔' پرویز اسماعیل نامی صارف نے لکھا کہ ’کیا یہ واقعی سروسز چیف ہیں، مجھے لگتا ہے کہ یہ گجرات کے ڈان ہیں۔

ٹویٹ

صارف راؤ امتیاز علی نے لکھا کہ ’سیاستدانوں پر تبرے کسنے والے ذرا ان اکیس بائیس سکیل والے سرکاری ملازموں کی شاہ خرچیاں دیکھیں‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: