پاکستانی سیاست کو پیسے کی لت کیسے لگی

جہاں ہندوستان کے بٹوار ے سے ہمیں ایک علیحدہ ملک ملا‘بظاہر نقصان اس عمل کا یہ ہوا کہ پاکستان کے نئے ابھرنے والے معاشرے میں diversity یا تنوع کا عنصر ختم ہو گیا۔ ہندو اور سکھ خاطر خواہ تعداد میں اس سرزمین پہ رہ جاتے تو مسلمانوں اور اُن میں زندگی کے ہر شعبے میں ایک صحت مند مقابلہ رہتا۔ اگر ہندوؤں میں تعلیم زیادہ ہوتی تو مسلمان آبادی میں فطری طور پہ تمنا پیدا ہوتی کہ وہ بھی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔
مشرقی پاکستان میں ایک بڑی ہندو آبادی رہ گئی لیکن خاص طور پہ ہمارے پنجاب میں ایک قسم کا بالکل صفایا ہوگیا۔ ہندو اور سکھ ہمارے حصے والے پنجاب کو خالی کر گئے اور اُن کی جگہ مشرقی پنجاب سے آنے والے مسلمانوں نے لی۔ صحت مند مقابلے کا عنصر پھر کہاں سے آتا؟ ہوا پھر یہ کہ ہمارے بیچ میں ہماری اپنی جہالتوں کا ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کی عمومی سوچ آگے ارتقاء کرنے کے بجائے پیچھے جاتی رہی۔ فرسودہ خیالات اور رجعت پسندی کا اجتماعی سوچ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اجتماعی سوچ تو بگڑی لیکن ساتھ ساتھ سیاست کا حال بھی خراب ہوتا گیا۔
یہ تو ہم اکثر کہتے ہیں کہ گزرے وقتوں میں منتخب اسمبلیوں میں بہت عمدہ تقریریں ہوا کرتی تھیں، اب سیاسی گفتگو کا لیول بہت نیچے آ گیا ہے۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے، لارنس کالج پڑھتے تھے کہ ایک دفعہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے وقت کی قومی اسمبلی کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ بھاری اکثریت تب کی حکمران جماعت کنونشن لیگ کی تھی اور اپوزیشن ممبران کی تعداد خاصی قلیل تھی۔ ان میں زیادہ تر مشرقی پاکستان کے بنگالی ممبران تھے‘ لیکن کیا جوشیلی اور ساتھ ہی ساتھ پُرمغز اُن کی تقاریر ہوا کرتی تھیں۔ اُس اسمبلی میں جان تھی تو ان بنگالی ممبران کی وجہ سے۔ بھٹو صاحب کی اسمبلی میں جانے کے متعدد مواقع ملے۔ پیپلزپارٹی کی بھاری اکثریت تھی اور اپوزیشن ممبران کی تعداد اُنگلیوں پہ گنی جا سکتی تھی‘ لیکن جب تقاریر ہوتیں تو مزہ آجاتا۔ بھٹو صاحب خود بڑے پائے کے مقرر تھے اور اسمبلی میں ہمیشہ انگریزی میں ہی بولتے‘ لیکن خان عبدالولی خان کا اپنا ایک رعب تھا۔ وہ بولنے کیلئے کھڑے ہوتے تو اسمبلی میں سناٹا چھا جاتا۔ پھر وہ اسمبلی بھی دیکھی جس کے ہم خود ممبر تھے۔ پورے پانچ سال میں کوئی ایک تقریر بھی یاد نہیں جو قابلِ ذکر یا قابلِ غور ہو۔ میں جہاں بیٹھتا تھا اردگرد نون لیگ کے دو تین شُغلی قسم کے ایم این ایز بیٹھے ہوتے اور ہم مذاق ہی کرتے رہتے۔ کئی بار تو ایسا ہوتا کہ بل پاس ہو جاتے اور سمجھ نہ آتی کہ بل کا موضوع کیا ہے۔ ایک دن تین عدد یونیورسٹیوں کے چارٹر منظور ہوگئے، کسی کو بھی معلوم نہیں تھاکہ یہ کہاں کی یونیورسٹیاں ہیں اور ان کے پیچھے کون سے ہاتھ ہیں۔
چلیں یہ تو عمومی بات ہوگئی لیکن جنرل ضیاء الحق کے آنے سے پہلے کی سیاست اور اُن کے اقتدار میں جو سیاسی نظام کھڑا کیا گیا اِن میں نمایاں فرق یہ تھاکہ پیسے کا عمل دخل بہت زیادہ ہوگیا۔ سیاست میں پیسے کا عمل ہمیشہ رہتاہے لیکن اس انداز سے نہیں جو اب یہاں روایت بن چکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایسے عناصر کی سیاست میں آمد تھی جن کا تعلق سرمایہ دارانہ گھرانوں سے تھا۔ دولت اِن کے پاس پہلے بھی تھی لیکن سیاست میں آئے تو حکومتی اثرورسوخ کی وجہ سے اِنہیں مزید پیسے بنانے کے مواقع ملے۔ گجرات کے چوہدری پہلے بھی موٹی اسامی تھے لیکن ضیاء دور کی سرپرستی کے بعد مزید بڑے ہوگئے۔ یہی حال شریف فیملی کا رہا ہے۔ پہلے بھی انڈسٹری میں تھے لیکن جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی میں آنے کے بعد ان کی فیکٹریوں کی ایک لمبی قطار کھڑی ہوتی گئی۔
جنرل ضیاء کے حامیوں کی دیکھا دیکھی پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ذوالفقار علی بھٹو بہت بڑے زمیندار تھے لیکن اُن کا گزارا زمینداری میں ہی ہوتا۔ فیکٹریاں بنانے کے چکر میں کبھی نہ پڑے۔ آبائی جائیداد اُن کی وسیع تھی لیکن بڑے عہدوں پہ رہنے کے باوجود کوئی پلاٹ اسلام آباد میں تھا نہ لاہور میں۔ بطور اپوزیشن لیڈر لاہور یا راولپنڈی آتے تو قیام ہوٹلوں میں ہوتا‘ لیکن جب اُن کے جانے کے بعد اُن کی نئی پود سامنے آئی تو وہاں بھی پیسے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ آصف علی زرداری تو منظرنامے پہ بعد میں آئے۔ پیسے کی ریل پیل پہلے سے شروع ہو چکی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ آصف علی زرداری کے آنے سے پیسے کا حصول سائنسی بنیادوں پہ استوار ہونے لگا۔ سیاسی مقابلہ تو شریف اور بھٹو خاندان کا تھا ہی لیکن دولت کے حصول کا مقابلہ بھی بن گیا۔ یہ مقابلہ ایسا چلا کہ تمام حدیں عبور ہوتی چلی گئیں۔ پیسے کے حصول میں ذرہ برابر بھی لحاظ نہ برتا گیا۔ پھر ہم سادہ لوح یا یوں کہیے کہ بے وقوف لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں بہتری کیوں نہیں آتی۔ یہ سوال بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ پاکستانی جماعتوں میں جمہوری عمل کیوں نہیں پیدا ہوتا۔ سیاست پہ اب مکمل گرفت بڑے پیسے والوں کی ہے۔ کہاں سے لیول اونچا ہو گا اور کہاں سے پارٹیوں میں جمہوریت آئے گی؟
میں جب نون لیگ میں تھا اور ایم این اے بھی رہا تو یہ عام سننے میں بات آتی کہ فلاں پارٹی کے صاحبزادہ (اب نام کیا لینے) شرفِ ملاقات کیلئے بھی پیسوں کا تقاضا رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے عذر یہی ہوتا کہ پارٹی فنڈ کے لئے پیسے چاہئیں لیکن ہر ایک کو پتا ہوتا کہ ایسی استدعا کا مطلب کیا ہے۔ یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ جن کی لمبی جیبیں ہوتیں انہیں الیکشن ٹکٹ کے حصول کیلئے پیسوں کا کہا جاتا۔ ایسے پسِ منظر میں یہ کہنا عجیب لگتا ہے کہ مقتدر حلقے سیاسی عمل میں مداخلت کرتے ہیں۔ اس پیسے والے معاملے میں تو کسی ادارے کی طرف سے کبھی کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔ زرداری اور شریف کیا تھے اور کیا ہو گئے ہیں اس میں نہ کسی نے روکا نہ ٹوکا۔ اسلام آباد میں افواہیں گرم ہوتیں کہ فلاں ڈیل میں کون کتنے پیسے بنا رہا ہے۔ لیکن اس عمل میں کبھی کوئی مداخلت نہ ہوتی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ادارے فائلیں بناتے ہیں اور جو کوئی پیسے کے بارے میں تیزی دکھاتا ہے اس پہ فائل بن جاتی ہے۔ فائل بننے سے کسی کی صحت پہ کیا اثر پڑتا ہے؟ میں نے کہیں لمبے ہاتھ مارے ہوں بیشک مجھ پہ فائل بن جائے اُس سے میرا کیا بگڑے گا۔ مداخلت تو تب بنتی ہے کہ مقدمات بنیں اور جائیدادیں ضبط ہوں۔ ایسا یہاں ہوتا نہیں۔ احتساب کے نام پہ مقدمات بنتے بھی ہیں تو عموماً محدود سیاسی مقاصد کیلئے۔ مقاصد پورے ہو جائیں تو مقدمات ایسے بھلائے جاتے ہیں کہ اُن کی یاد بھی نہیں رہتی۔
ہماری سیاست تو ایسی بن چکی ہے کہ سیاستدان جب اقتدار میں آئیں تو انہیں پیسہ بنانے کیلئے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سیاست دانوں کو پتا نہیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب پیسے کے میدان میں اُن کی آزادی مکمل ہے انہیں دیگر امور میں چوہدراہٹ جمانے کی اجازت کوئی کیوں دے؟ جب اگلوں کو پتا ہو کہ آپ کی یہ یہ جائیدادیں لندن یا نیویاک میں ہیں اور فلاں ڈیل میں آپ نے اتنے پیسے بنائے ہیں تو اُن کے حوصلے بھی بڑھتے ہیں اور پھر سیاست کے میدان میں بھی رنگ بازیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی کیفیت یہ ہے کہ پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں اور تمام امور پہ چوہدراہٹ بھی مکمل ہو۔ ایسا نہیں ہوتا۔
رعب اور دبدبہ قدرے قناعت سے آتا ہے۔ آپ کے ہر کرتوت کی خبر اگلوں کو ہو اور وہ آپ کی آواز سن کے تھر تھر کانپیں۔ افسانوں میں ایسا ہوتا ہو گا حقیقی دنیا میں نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *