پاکستانی شہری خلیجی ملک میں وائرس کی بھارتی قسم سے متاثر ہوا، این سی او سی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا کی بھارتی قسم سے متاثر ہونے والے پاکستانی شہری کی تفصیلات جاری کر دیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان پیر (آج) کو قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں ملک میں وبا کی صورتحال اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے اقدامات میں پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ملک میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران وائرس سے مزید 56 افراد دم توڑ گئے اور 2 ہزار 697 نئے کیسز کا اضافہ ہوا، جبکہ ویکسین کی 70 لاکھ سے زائد خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

این سی او سی نے کورونا وائرس کی بھارتی قسم سے متاثر ہونے والے پاکستانی شہری کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی مسافروں کی مؤثر اسکریننگ اور قرنطینہ سے ملک کو وائرس کی قسم (B.1.617.2) کے ثانوی انفیکشنز سے بچا لیا گیا۔

اپنے بیان میں سینٹر نے قوامی ادارہ صحت (این آئی ایچ) سے موصول تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قسم 39 سالہ پاکستانی شہری میں پائی گئی جنہیں کوئی علامت نہیں تھی، شہری کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور وہ خلیجی ملک سے لوٹے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'یہ کیس 8 مئی کو بین الاقوامی مسافروں کے لیے لگائے گئے اسکرین نظام کے ذریعے سامنے آیا اور ایئرپورٹ پر مسافر کا ریپڈ ٹیسٹ مثبت آیا، جس کے بعد انہیں ایس او پیز کے تحت سرکاری مرکز میں قرنطینہ کردیا تھا جہاں ان کے پی سی آر ٹیسٹ نے بھارتی قسم کی موجودگی کی تصدیق کی'۔

این سی او سی نے کہا کہ 'تاہم مسافر میں قرنطینہ کے دوران معمولی علامات تھیں اس لیے انہیں مکمل صحتیاب ہونے اور ضروری آئیسولیشن مکمل کرنے کے بعد ضروری ہدایات کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گئی'۔

بیان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم نے مسافر کے اہلخانہ اور رابطہ رکھنے والے دیگر افراد کو ٹریس کرکے نمونے لیے جو منفی آئے۔

این آئی ایچ کی ٹیم دوران سفر ممکنہ طور پر ان سے رابطے میں آنے والوں کو ٹریس کر رہی ہے تاکہ دیگر افراد کے متاثر ہونے کے امکان کو ختم کیا جاسکے۔

دوسری جانب وزیر منصوبہ بندی و چیئرمین این سی او سی اسد عمر نے کہا کہ 'ہم نے وزیر اعظم عمران خان سے پیر کو این سی سی کی صدارت کرنے کی درخواست کی ہے اور ہم ویکسی نیشن کے عمل کو اگلی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ایک کروڑ 14 لاکھ افراد نے خود کو رجسٹر کروایا ہے، پہلے وفاقی و صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے، ہسپتال اور ضلعی انتظامیہ سمیت پوری مشینری ویکسی نیشن مہم کا حصہ تھی، اب ہم اس مہم کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے پوری قوم کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ 'این سی او سی کے ذریعے ہم اس وقت تک اس چیلنج پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھیں گے جب تک پوری قوم اس وائرس سے محفوظ نہیں ہوجاتی'۔

ادھر این آئی ایچ کے ترجمان ساجد شاہ نے کہا کہ حکومت نے ماہرین کی کمیٹی کی گائیڈلائنز کی روشنی میں تمام ویکسین استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ جو بھی ویکسین دستیاب ہو وہ لگوا لیں کیونکہ تمام ویکسینز بیماری سے حالت تشویشناک سے تقریباً 100 فیصد محفوظ رکھتی ہیں۔

این سی او سی نے انکشاف کیا کہ 29 مئی کو 3 لاکھ 83 ہزار 955 افراد کو ویکسین لگائی گئی اور اب تک 70 لاکھ 93 ہزار 803 خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: