پاکستانی لڑکیوں میں شادی کے بعد اپنے شوہر کا نام نہ اپنانے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

’میں نے اپنی ساری زندگی ضحیٰ زبیری کے نام سے گزاری ہے۔ اور اب میں ایک دم سے اپنا نام تبدیل کر لوں یہ سوچ کر مجھے بہت عجیب لگا۔ اگر میں اپنا نام تبدیل کر لیتی تو شاید مجھے اپنا وجود فنا ہوتا محسوس ہوتا۔‘

یہ کہنا تھا ضحیٰ زبیری کا جنھوں نے ایک عمومی روایت کے بر عکس شادی کے بعد اپنا نام تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا، یعنی شادی کے بعد انھوں نے اپنے شوہر یا ان کے خاندانی نام کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ نہیں جوڑا۔

دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی روایتی طور پر بيشتر خواتین شادی کے فوراً بعد اپنا خاندانی نام تبدیل کر کے اپنا شوہرکا نام اپناتی ہیں۔ مگر آج کل پاکستانی خواتین میں بھی شادی کے بعد نام تبدیل نہ کرنے کا رجحان بڑھتا نظر آ رہا ہے۔

ضحیٰ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان اور دوست احباب میں پہلی خاتون ہیں جنھوں نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا۔ ’میری امی کی شادی کے فوراً بعد ہی ان کا نام تبدیل کر دیا گیا تھا اور اب ان کا مکمل پیدائشی نام کسی کو یاد نہیں۔۔۔ میری بہن نے بھی شادی کے بعد اپنا نام تبدیل کیا تھا۔‘

مگر جب ضحیٰ کی اپنی شادی کا وقت قریب آنے لگا تو اُنھیں اپنا پیدائشی نام تبدیل کرنے کا خیال پریشان کرنے لگا۔

وجہ یہ ہے کہ ایک تو اُنھیں اپنا پورا نام پسند تھا اور دوسرا پیشہ ورانہ زندگی میں لوگ انھیں اسی نام سے جانتے تھے۔ 'کالج میں سبھی مجھے زبیری کہ کر پکارتے تھے۔ اس کے علاوہ میں آرکٹیکٹ ہوں اور گلوکارہ بھی ہوں۔ ان دونوں پیشوں میں لوگ مجھے اسی نام سے جانتے ہیں۔‘

ضحیٰ کے شوہر بالاچ تنویر نے بھی اُن کے نام تبدیل نہ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

زبیری
،تصویر کا کیپشنضحیٰ کے شوہر بالاچ تنویر نے بھی اُن کے نام تبدیل نہ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے

بالاچ بتاتے ہیں کہ ’ضحیٰ نے اپنے اصل نام سے اپنی ایک پہچان بنائی ہے۔ان کا جس پیشے سے تعلق ہے اس میں ایک نام کے ساتھ لوگوں کا اعتماد جڑا ہوتا ہے۔‘

کچھ ایسا ہی کہنا ہے جنت کریم خان کا۔

ضحیٰ کی طرح انھوں نے بھی شادی کے بعد اپنا نام تبدیل نہیں کیا۔ جنت کا کہنا ہے کہ ’جیسے جیسے ہم زندگی میں آگے بڑھتے جاتے ہیں ھمارا نام ہماری شناخت سے زیادہ ہماری پہچان بنتا جاتا ہے۔ میں نے زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل کیں ہیں اُن کے ساتھ میرا یہی نام منسلک ہے۔‘

الاف زہرہ نقوی کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد نام تبدیل نہ کرنا ایک عورت کا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے۔ ’کچھ خواتین کو اپنا نام پسند ہوتا ہے اور کچھ کا اپنے نام سے خاص لگاؤ ہوتا ہے۔ وجہ جو بھی ہو یہ فیصلہ کرنے کا حق عورت کو ہی ہونا چاہیے۔‘

اُن کے شوہر طلال نے بتایا کہ ایک وقت پر وہ چاہتے تھے کی الاف اُن کا نام اپنائیں کیونکہ ان کی نظر میں اگر حکومتی کاغذات میں میاں، بیوی کا نام یکساں ہو تو امیگریشن اور دیگر معاملات میں آسانی ہوتی ہے۔

نام
،تصویر کا کیپشنایلاف زہرہ: صرف اس لیے کے آپ کی کسی سے شادی ہو گئی ہے تو آپ اپنا پورا نام ہی بدل دیں گے؟

مگر ایلاف سے بات کرنے کے بعد اُنھیں احساس ہوا کہ کسی کا پیدائشی نام تبدیل کرنا شاید صحیح نہیں۔

’انسان جو نام لے کر اس دنیا میں آئے اور جس نام کے ساتھ بڑا ہو، اس کا وہ نام تبدیل کر دینا شاید اس کے ساتھ ایک طرح کا ظلم ہے۔‘

’صرف اس لیے کے آپ کی کسی سے شادی ہو گئی ہے تو آپ اپنا پورا نام ہی بدل دیں گے؟‘ انھوں نے ہنستے ہوئے کہا۔

اپنا پیدائشی نام تبدیل کرنا یا نہ کرنا اکثر خواتین کے لیے ایک جذباتی معاملہ بھی ہوتا ہے۔

انعم سعید کہتی ہیں کہ اُنھیں شادی کے کچھ سال کے بعد اپنا پرانا نام تبدیل کرنے پر ملال ہونے لگا۔

’جب میری شادی ہوئی اُس وقت مجھے لگتا تھا کہ اپنے شوہر کا نام اپنانا ایک اچھی روایت ہے جو شوہر کو عزت دینے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لیے میں نے اپنے نام میں اپنے شوہر کے خاندانی نام ’اقبال‘ کا اضافہ کر لیا۔‘

’مگر شادی کے کچھ عرصے بعد جب میں امریکہ گئی تو وہاں لوگ مجھے صرف مسز اقبال اور انعم اقبال کہنے لگے۔ تب مجھے اپنی شناخت کھو جانے کا احساس ہونے لگا۔‘

جنت کریم خان
،تصویر کا کیپشنجنت کریم خان: مجھے اپنا پیدائشی نام اس لیے عزیز ہے کیونکہ یہ نام مجھے اپنے مرحوم والد سے جوڑے رکھتا ہے

انعم نے بتایا کہ اُنھیں خاص کر اس چیز کا افسوس ہونے لگا کے وہ اپنے اس نام سے جدا ہو گئیں جو اُنھیں اُن کے مرحوم والد نے دیا تھا۔

اس لیے کچھ عرصے کے بعد انھوں نے دوبارہ سے اپنا نام انعم سعید کر لیا۔

کچھ اور خواتین کا بھی کہنا تھا کے ان کا پیدائشی نام اُنھیں اُن کے والدین سے منسلک کرتا ہے۔ جنت کریم خان نے بتایا کہ اُنھیں بھی اپنا پیدائشی نام اس لیے عزیز ہے کیونکہ ان کا نام انھیں اپنے مرحوم والد سے جوڑے رکھتا ہے۔

کچھ خواتین کے لیے نام تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ عملی وجوہات پر بھی مبنی ہوتا ہے۔ ہمہ جہانزیب کہتی ہیں کہ وہ ایک پیشہ ورانہ خاتون ہیں اس لیے نام تبدیل کرنا اُن کے لیے بہت مشکل تھا۔ ’نام بدلنے کا مطلب ہے سارے تعلیمی دستاویزات اور نوکریوں کے کاغذات پر نام بدلنا جو بہت بڑا جھنجھٹ ہے۔‘

مگر آج بھی پاکستانی معاشرے میں عورت کا نام تبدیل نہ کرنا انھونی بات سمجھا جاتا ہے اور بعض اوقات نام تبدیل نہ کرنے والی خواتین کو رشتےداروں اور دوست احباب کے ہاتھوں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’چونکہ عورتیں اکثر طلاق کے بعد اپنا پیدائشی نام دوبارہ اپناتی ہیں، اس لیے شادی شدہ عورت کا نام تبدیل نہ کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی لڑکیوں کو لوگ خود سر اور سر پھرا سمجھتے ہیں۔‘

طلال کا کہنا تھا کہ اُن کے دوستوں کو حیرت تھی کہ انھوں نے اپنی بیوی الاف سے اُن کا نام تبدیل نہیں کروایا۔

انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’کیونکہ لوگوں کی نظرمیں نام بدلا نہیں بدلوایا جاتا ہے۔‘

اسی طرح اکثر خواتین بتاتی ہیں کہ نادرا کے افسران بھی اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ کوئی عورت شادی کے وقت اپنا نام تبدیل نہیں کر رہی۔

ضحیٰ زبیری کا کہنا تھا کہ ’جب شادی کے بعد میں شناختی کارڈ بنوانے نادرا گئی تو انھوں نے خود سے ہی میرا نام تبدیل کر کے میرے نام کے ساتھ میرے شوہر کا نام لگا دیا۔ جب میں نے اعتراض کیا تو انھوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ میں شادی شدہ ہونے کے باوجود اپنا پیدائشی نام تبدیل کیوں نہیں کر رہی۔‘

مگر جہاں کچھ خواتین نام تبدیل نہیں کر رہیں وہاں آج بھی بہت سی خواتین ایسی ہیں جو اپنی خوشی سے شادی کے وقت اپنے شوہر کا نام اپناتی ہیں۔ مؤدب فاطمہ فرحان نے بتایا کہ اُن کے لیے شادی کے وقت اپنا نام تبدیل کرنا شوہر سے محبت کا اظہار تھا۔

’جب کوئی شخص آپ سے شدید محبت کرے اور آپ کا ہر لحاظ سے خیال رکھے تو آپ کا بھی دل چاہتا ہے کہ آپ زندگی بھر اس کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑے رکھیں۔‘

نام
،تصویر کا کیپشندانش بتول: یہ اُن کا حق ہے اور اگر کسی کو نام تبدیل کر کے خوشی ملتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں

یہی وجہ تھی کہ اُنھوں نے اپنے شوہر کا پہلا نام نا کہ اُن کا خاندانی نام اپنے نام کے ساتھ لگایا۔

دانش بتول کا کہنا تھا کہ بہت سی خواتین شادی کی خوشی میں اگلے ہی روز سوشل میڈیا پر اپنا نام تبدیل کر کے اپنے شادی شدہ ہونے کا اعلان کرتی ہیں۔ ’یہ اُن کا حق ہے اور اگر کسی کو نام تبدیل کر کے خوشی ملتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘

سدرہ اورنگزیب جن کی شادی کو دس برس ہونے والے ہیں بتاتی ہیں کہ جس وقت اُن کی شادی ہوئی اس وقت انھیں بہت سی خواتین کی طرح یہ معلوم نہیں تھا کہ نام تبدیل کرنا قانونی یا معاشرتی لحاظ سے لازم نہیں ہے۔ ’میں سمجھتی تھی کہ نام تبدیل نہ کرنے کہ مطلب ہے آپ نے پوری طرح سے اس خاندان کو نہیں اپنایا جس كا آپ حصہ بننے جا رہی ہیں۔‘

سدرہ سے اتفاق کرتے ہوئے ہمہ نے کہا کے اکثر خواتین کو نام تبدیل کرنے کے حوالے سے پوری معلومات نہیں ہوتیں۔

’خواتین کو اس چیز کا احساس دلانا چاہیے کہ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے اور پھر وہ اس سلسلے میں جو بھی فیصلہ کریں وہ اُن کے شوہر اور معاشرے کو قبول کرنا چاہیے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: