پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں پیر کو کاروبار کا مثبت انداز میں آغاز اور صبح کو ہونے والی تجارت میں 600 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

پی ایس ایکس کی ویب سائٹ کے مطابق صبح 9:45 بجے تک اسٹاک میں 450 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا، صبح 10:40 بجے انڈیکس 683 پوائنٹس یا 1.66 فیصد اضافے کے ساتھ 41ہزار 734 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔

یہ مثبت پیشرفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب جمعہ کو کاروباری ہفتے کے آخری دن انڈیکس کریش کر گیا تھا اور حکومت کی جانب سے سیمنٹ، اسٹیل، چینی، تیل، گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹوموبائل، کیمیکل، مشروبات اور سگریٹ سمیت بڑی صنعتوں پر 10 فیصد ’سپر ٹیکس‘ کے اعلان کے بعد صبح کے سیشن میں انڈیکس میں 2ہزار پوائنٹس یا 4.8 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی تھی۔

ابا علی حبیب سیکیورٹیز کے ریسرچ کے سربراہ سلمان نقوی نے آج کاروبار میں مثبت پیشرفت کو کئی عوامل کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزا خبروں کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ امید ہے کہ پاکستان کو آج آئی ایم ایف کی جانب سے ایک خط موصول ہوگا جس کے بعد قرض کے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2.3 ارب ڈالر کا چینی قرض جمع کرایا گیا جس سے سرمایہ کاروں کی رویے میں بہتری آئی، ہم سعودی عرب کے ساتھ موخر شدہ تیل کی ادائیگیوں کے بارے میں بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

عارف حبیب کارپوریشن کے احسن محنتی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام کی بحالی کے لیے رواں ہفتے بجٹ کی منظوری سے قبل اسٹاک میں تیزی سے بحالی دکھائی دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ایکویٹی میں اضافے اور 3.6 ارب ڈالر تک سعودی تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت کی ممکنہ منظوری نے جاروبار میں تیزی کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔

دریں اثنا، انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز کے ریسرچ کے سربراہ رضا جعفری کی رائے تھی کہ چین سے تجارتی قرض کی مد میں 2.3 ارب ڈالر کی وصولی کے ایس ای-100 میں ادائیگیوں کے توازن اور سرمایہ کاروں کے مثبت رویوں میں مدد کر رہی ہے۔

error: