پاکستان بجٹ 2021-22: آئی ایم ایف کی شرائط نظر انداز، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ پروگرام کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے 2021-22 کے مالی سال کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کچھ شرائط کے تحت اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم دوسری جانب ان شرائط کے تحت کچھ ایسے اقدامات شامل نہیں بھی کیے گئے جو مستقبل میں آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ کے خسارے کا تخمینہ 3420 ارب لگایا گیا ہے جو حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور غیر ممالک سے قرضوں، گرانٹس اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز جاری کر کے پورا کرنا ہے۔

ملکی معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں رہنے کے لیے اس کی شرائط کو پورا کرنا لازمی ہے اور پاکستان کو آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں رعایتیں بھی مل سکتی ہیں تاہم اس کا انحصار خطے اور بین الاقوامی حالات پر بھی منحصر ہے۔

ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا جہاں ایک ظاہری مالیاتی پہلو ہے تو ان کا خفیہ سیاسی ایجنڈا بھی ہوتا ہے جو باہم مربوط ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت ماضی میں بجلی کے نرخ بڑھانے اور شرح مبادلہ میں روپے کی قیمت گرانے پر حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آئی ایم ایف کی شرائط کیا تھیں؟

آئی ایم ایف نے جب اس سال فروری کے مہینے میں پاکستان کے ساتھ اپنے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا جائزہ لیا تو اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان سے نئے مالی سال کے بجٹ میں کچھ اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس سلسلے میں بتایا کہ آئی ایم ایف نے فروری میں ہونے والے جائزے میں چار اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

سب سے پہلی شرط کے تحت پاکستان کو اگلے مالی سال میں 1200 ارب کے اضافی ٹیکس جمع کرنے ہیں۔ دوسری شرط کے تحت پاور کے شعبے میں 900 ارب روپے زیادہ جمع کرنے ہیں یعنی تقریباً چھ روپے فی یونٹ بجلی کے نرخ بڑھا کر اس اضافی رقم کو جمع کرنا تھا۔

تیسری شرط کے تحت 610 ارب روپے پٹرولیم ڈویلمپنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں جمع کرنے ہیں تو چوتھی شرط کے تحت کارپوریٹ سیکٹر میں دیے گئے 140 ارب کے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنا تھا۔

آئی ایم ایف

شرائط پوری ہونے کی صورتحال کیا رہی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں آئی ایم ایف کی ان میں سے کون سی شرائط پوری کی گئیں اور کونسی پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

اس بارے میں ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ پی ڈی ایل کی مد میں 610 ارب روپے ٹیکس جمع کرنا اس بجٹ کا حصہ ہے تو اسی کے ساتھ کارپوریٹ شعبے کو دیا جانے والے 140 ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ بھی بڑی حد تک ختم کر دیا گیا اور اگلے مالی سال میں اضافی ٹیکس جمع ہو گا تاہم آئی ایم ایف شرط کے تحت 1200 ارب زیادہ ٹیکس جمع کرنا اس بجٹ میں شامل نہیں۔

اسی طرح بجلی کے نرخ بھی نہیں بڑھائے گئے جو آئی ایم ایف پروگرام کی ایک شرط ہے۔

اسلام آباد میں مقیم معاشی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے اس سلسلے میں بتایا کہ زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی شرط جس میں تنخواہ دار طبقے سے 150 ارب روپے زیادہ ٹیکس جمع کرنا، بجٹ کا حصہ نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر براہ راست اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا تاہم حکومت نے بجٹ پیش کرنے کے دو روز بعد اس طبقے کے میڈیکل اور دوسرے الاونسز کے ساتھ پراویڈنٹ فنڈ اور پنشن فیڈ کی بچت پر ٹیکس تجویز کر کے دس ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کرنے کا پلان بنایا ہے۔

معاشی امور کے ایک اور صحافی ظہیر عباسی نے بتایا کہ حکومت اس وقت نتخواہ دار طبقے سے 130 ارب روپے کا ٹیکس جمع کر رہی ہے اور آئی ایم ایف شرائط کے تحت اس طبقے پر 150 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا تھا تاہم وہ اس بجٹ کا حصہ نہیں۔

آئی ایم ایف

شرائط پوری نہ کرنے سے آئی ایم ایف پروگرام کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

ماہر ٹیکس و معاشی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط کے تحت استثنیٰ کم ہی دیتا ہے۔

’پاکستان نے جن مطالبات کو بجٹ کا حصہ نہیں بنایا، وہ پروگرام میں رہنے کے لیے پاکستان کو کرنا پڑیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ جب اس سال ستمبر کے مہینے میں آئی ایم ایف اس پروگرام پر جائزہ اجلاس کرے گا اور وہ پاکستان سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے زور دے گا تو پھر ملک کو منی بجٹ کی طرف جانا پڑے گا۔

ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ اگلا جائزہ بہت اہم ہو گا جو اس پروگرام کے مستقبل کا فیصلہ کر ے گا۔

صحافی شہباز رانا نے اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اگر اس پروگرام میں رہنا ہے تو اسے آئی ایم ایف کے باقی مطالبات بھی ماننا پڑیں گے۔

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بھی اس سلسلے میں کہا کہ پروگرام میں رہنے کے لیے مطالبات کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ شرائط نہ ماننے کی صورت میں پاکستان خود بھی اس پروگرام سے باہر نکل سکتا ہے۔ ’ماضی میں ایسا ہوا بھی ہے کہ جب پاکستان خود پروگرام سے باہر نکل آیا۔‘

بجٹ

کیا پاکستان کو آئی ایم ایف سے رعایت مل سکتی ہے؟

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ویسے تو عموماً آئی ایم ایف کے پروگرام میں کم ہی رعایت ملتی ہے تاہم ماضی میں ملتی بھی رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی شرائط نہ ماننے کی صورت میں رعایت مل سکتی ہے اور پروگرام جاری رہ سکتا ہے تاہم اس کا تعین علاقائی اور عالمی حالات کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے حالات اور امریکہ کی وہاں پاکستان کی ضرورت بھی اس سلسلے میں ہماری مدد کر سکتی ہے کیونکہ ان عالمی اداروں میں امریکہ بے پناہ اثر و نفوذ کا مالک ہے۔

ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ کسی رعایت کے ملنے کی ایک اہم پیشرفت جون کے مہینے میں ایف اے ٹی ایف کا ہونے والا اجلاس ہے۔

’اگر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ عالمی حالات ملک کے لیے سازگار ہو رہے ہیں اور ستمبر میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے ریلیف ملنے کی امید بن سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس سلسلے میں کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کا مالیاتی کے ساتھ ایک خفیہ سیاسی چہرہ بھی ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ایف ٖاے ٹی ایف میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ستمبر میں آئی ایم ایف سے شرائط کے سلسلے میں رعایت ملنے کی امید کم ہو گی اور پروگرام میں رہنے کے لیے ان شرائط کو ماننا پڑے گا۔ ورنہ یا تو پاکستان کو خود پروگرام سے باہر آنا پڑے گا یا آئی ایم ایف اس پروگرام کو منسوخ کر سکتا ہے۔‘

بجٹ

آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں؟

ایک طرف پاکستان آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے سے محروم ہو جائے گا تو دوسری طرف دوسرے عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی مارکیٹ سے پاکستان میں سرمایہ آنے کی امید کم ہو گی۔

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے تاہم بجٹ خسارہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر فرخ نے کہا کہ پاکستان کو اگلے مالی سال میں تقریباً 30 ارب ڈالر کی فنانشنل گروتھ درکار ہے جس میں آئی ایم ایف پروگرام مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے نہ صرف وہاں سے پیسے ملیں گے بلکہ دوسرے عالمی مالیاتی ادارے جیسے کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آئی ایم ایف پروگرام کی بنیاد پر ملک کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔

’پروگرام منسوخ ہرنے کی صورت میں ہم ان اداروں کی جانب سے ملنے والی مالی امداد سے محروم ہو سکتے ہیں۔‘

’دوسری جانب آئی ایم ایف پروگرام ملک کی عالمی سطح پر کریڈٹ ریٹنگ بڑھاتا ہے جس کی بنیاد پر بانڈز جاری کر کے پیسے جمع کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے پروگرام سے نکلنے یا آئی ایم ایف کی جانب سے اس کی منسوخی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو بھی متاثر کرے گی۔‘

error: