پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: پہلے ٹی ٹوئنٹی میں محمد رضوان کی سنچری، پاکستان کی تین رنز سے فتح

پاکستان کی کرکٹ ٹیم جمعرات کو قدافی سٹیڈیم لاہور میں جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں محمد رضوان کی شاندار سنچری کے باوجود ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین رنز سے شکست دے پائی ہے۔

رضوان کی ناقابل شکست یاد گار سنچری 64 گیندوں میں مکمل ہوئی اور وہ 104 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور بلا ہلاتے ہوئے میدان سے باہر گئے۔ انھیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا ہے۔

محمد رضوان کی سنچری کے بعد پی سی بی نے ٹویٹ کیا کہ وہ قذافی سٹیڈیم لاہور میں ٹی ٹوئنٹی میں سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔

ویب سائٹ کرِک انفو کے مطابق وہ ٹی ٹوئنٹی میں سنچری بنانے والے پاکستان کے دوسرے کھلاڑی ہیں۔

آخری اوور میں کیا ہوا

جنوبی افریقہ کو آخری اوور میں میچ جیتنے کے لیے 19 رنز درکار تھے اور ان کو فہیم اشرف کا سامنا تھا۔

پیٹوریس بلا کندھے پر رکھے بولر کے انتظار میں بے چین تھے۔ پہلی گیند یارکر پڑی لیکن اس پر ایک سکور بن گیا۔ دوسری گیند بھی پیروں میں گری اور اس پر بھی صرف ایک ہی رن بن سکا۔ لیکن تیسری گیند پر پیٹوریس نے بڑا زبردست چھکا لگایا حالنکہ کہ گیند ایک مرتبہ پھر پیروں ہی پر گری تھی۔

میچ کا سکور بورڈ

اگلی گیند پر انھوں نے ایک رن بنا لیا۔ اب بھی میچ جیتنے کے لیے دس رن درکار تھے۔ پانچویں گیند پر وکٹ کے پیچھے چوکا لگا۔ آخری گیند تھی اور چھ رن سے میچ کا فیصلہ ہونا تھا لیکن صرف تین رن ہی بن پائے۔

محمد رضوان کا وہ رن آوٹ

وکٹ کے پیچھے ان کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے لوگ وہ منظر شیئر کر رہے ہیں جب انھوں نے جنوبی افریقہ کے اوپنر ہینڈرِکس کو اس وقت رن آؤٹ کیا جب وہ 54 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔

تجمل اسلام کے لیے تو یہ میچ کا سب سے شاندار منظر تھا۔

جہاں رضوان کی اس رن آؤٹ پر تعریف ہو رہی ہے وہاں اس سے پہلے لوگ بابر اعظم کو بھی حوصلہ دیتے نظر آئے کیوں کہ وہ پاکستان کی اننگز کے پہلی ہی اوور میں صفر پر رن آؤٹ ہوگئے تھے۔

صبغت اللہ نامی صارف نے بابر اعظم کی تصویر کے ساتھ لکھا ’جب آپ لیکچر میں بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ و کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہوتی۔‘

جنوبی افریقہ کی اننگز کے سنسنی خیز اوورز

میچ کے آخری چار اوور خاصے سنسنی خیز ثابت ہوئے۔

شاہین شاہ آفریدی کو سترہویں اوور میں پہلی بال پر چھکا لگا اس کے بعد اوور کی پانچویں گیند پر چوکا پڑا گیا۔ اس اوور میں گیارہ رنز پڑے۔

میچ کے انتہائی فیصلہ کن مرحلے پر اٹھارہواں اوور پھینکے کے لیے کپتان بابر اعظم نے اپنے کھلاڑیوں سے مشورہ بھی کیا۔

فیصلہ حارث روؤف کے حق میں ہوا۔ یہ اوور پاکستان کے لیے بہتر ثابت ہوا۔ حارث کی تیسری گیند پر ہینڈرکس بے وقوفانہ طور پر رن آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد پیٹویس کھیلنے آئے اور انھوں نے پہلی ہی گیند پر چوکا لگا دیا۔

حارث رؤف نے اس اوور میں تقریبًا ساری گیندیں سلو کروائیں۔ اوور کی پانچویں گیند پر فیلوکواو باونڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اٹھارہویں اوور کے ختم ہونے پر جنوبی افریقہ کا سکور 141 رنز تھا اور چھ کھلاڑی آؤٹ تھے۔

پاکستان کی طرف سے عثمان قادر کی بولنگ بڑا اہم کردار ادا کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں چند دن قبل بین الاقوامی سطح پر اپنی زندگی کی پہلی سنچری بنانے والے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پہلی سنچری بنائی ہے۔

رضوان کی ناقابل شکست یاد گار سنچری 64 گیندوں میں مکمل ہوئی اور وہ 104 رنز بنا کر بلا ہلاتے ہوئے میدان سے باہر گئے۔

پاکستان نے مجموعی طور پر چھ وکٹوں کے نقصان پر مقررہ 20 اوور میں 169 رنز بنائے۔

محمد رضوان کی شاندار بلے بازی میں ان کی قسمت نے بھر پور ساتھ دیا جب آخری اووروں میں ان کے دو کیچ ڈراپ ہوئے۔ رضوان پاکستان کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری سکور کرنے والے دوسرے کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل احمد شہزاد ٹی ٹوئنٹی میں سنچری سکور کر چکے ہیں۔

محمد رضوان اب ٹی ٹوئنٹی میں ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز سکور کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

رضوان کی اننگز میں چھ چوکے اور سات زبردست چھکے شامل تھے۔ انھیں اسی کارکردگی پر مین آف دی میچ کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے تبریز شمسی نے اچھی بولنگ کی اور صرف 20 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کو پہلے ہی اوور میں پہلا نقصان اٹھانا پڑا جب کپتان بابر اعظم کوئی رن بنائے بغیر رن آؤٹ ہو گئے۔

پاکستان کی طرف سے اوپنگ کے لیے بابر اعظم اور رضوان آئے تھے۔ بابر کے آؤٹ ہونے پر حیدر علی کو میدان میں بھیجا گیا تھا۔

پاکستان

ابتدائی دو اوور کے بعد پاکستان کا سکور سات تھا۔

تیسرے اوور کی پہلی گیند پر حیدر علی نے گھٹنا ٹیک کر لیگ سائڈ پر زبردست چھکا لگایا۔ اس کے بعد چوتھی گیند پر انھوں نے فورٹوئن کو ایک سیدھا چھکا لگا دیا۔ تین اوورز کے اختتام پر پاکستان کا سکور 21 رنز تھا۔

چوتھا اوور جنوبی افریقہ کی طرف سے فیلوکواو نے کروایا اور اس اوور میں رضوان نے دو زبردست چوکے لگا کر پاکستان کا مجموعی سکور 30 پر پہنچا دیا۔

چوتھا اوور سپاملا نے کروایا اور پہلی دونوں گیندوں پر حیدر علی بِیٹ ہوئے لیکن چوتھی گیند پر حیدر علی نے مِڈ آن پر ایک بہت اونچا چھکا لگایا۔

پانچ اووروں کے اختتام پر پاکستان کا مجموعی سکور 37 رنز تھا۔

چھٹے اوور کی پہلی گیند پر حیدر علی ایک اور اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے لیکن اس کے بعد حسین طلعت کھیلنے آئے۔

دوسری طرف سے رضوان نے ایک چھکا لگا دیا۔ حیدر علی 15 گیندوں پر 21 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوئے۔ وہ بڑے جارحانہ انداز میں کھیل رہے تھے۔

آٹھویں اوور ڈالا نے کروایا انھوں نے اس اوور میں پاکستان کے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا اور آٹھ اوور کے ختم ہونے پر پاکستان کا سکور 63 رنز تھا۔

نو اوور ختم ہونے کے بعد پاکستان کا سکور 69 رنز تھا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ نے بولنگ میں ایک اور تبدیلی کی اور سپن بولنگ کرنے والے کھلاڑی شمسی کو بولنگ کرنے کے لیے بلایا گیا۔

حسین طلعت کے خلاف ایک سٹمپ کی اپیل ہوئی۔ تھرڈ ایمپائر نے حیران کن طور حسین طلعت کو آؤٹ قرار دے دیا۔ اس فیصلے پر تبصرہ نگار بھی حیران رہ گئِے اور ایک نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان کے نذدیک حسین طلعت کا پاؤں کریز میں تھا۔ طلعت نے گیارہ گیندوں پر 15 رنز سکور کیے۔

افتخار زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور ایک اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔ خوش دل شاہ آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی تھے وہ بھی اپنی جارحانہ بیٹنگ کے جس کے لیے وہ مشہور ہیں زیادہ جوہر نہ دکھا سکے اور صرف ایک چھکا لگا پائے۔

فہیم اشرف جن کی ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی بہت شاندار رہی ہے اس میچ میں کچھ نہیں کر پائے اور ایک فل ٹاس گیند پر لانگ آن باونڈری لائن پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

جنوبی افریقہ کی اننگز

جنوبی افریقہ کی طرف سے ہینڈرکس اور ملان نے اننگز کا آغاز کیا۔ پاکستان کی طرف سے پہلا اوور محمد نواز اور دوسرا اوور حارث روف نے کروایا۔

ملان نے حارث روف کے دوسرے اوور اور میچ کے چوتھے اوور میں لگاتار چار چوکے لگا کر اس اوور میں 18 رن سکور کیے۔

شاہین شاہ آفریدی کے دوسرے اوور میں انھوں نے پہلی ہی گیند پر لانگ آف پر چھکا لگا دیا۔

پاور پلے ختم ہونے پر جنوبی افریقہ نے بغیر کسی نقصان کے 51 رن سکور کر لیے تھے۔

اس مرحلے پر ایسا نظر آ رہا تھا کہ ملان ایک لمبی اننگز کھیلیں گے اور نصف سنچری سے تو وہ صرف چھ رنز کی دوری پر تھے۔ اس وقت بابر اعظم نے عثمان قادر کو بولنگ کے لیے بلایا۔

انھوں نے اپنی گھومتی ہوئی گیندوں سے ملان کے بلے سے نکلنے والے رنز کو روک دیا اور اوور کی چوتھی گیند پر ان کی وکٹیں اڑا دیں۔

ملان 29 گیندوں پر 44 رن بنا کر آوٹ ہو گئے۔ پہلے آٹھ اووروں میں جنوبی افریقہ کا مجموعی سکور 59 رنز تھا۔

عثمان قادر کی گھومتی ہوئی گیندیں جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کو واضح طور پر سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

ہینڈرکس اور سیمان رن بنانے میں بے بس نظر آ رہے تھے۔ عثمان قادر نے اپنے دوسرے اوور میں سیمان کو بھی بولڈ کر دیا۔ سیمان شروع ہی سے عثمان قادر کو کھیل نہیں پا رہے تھے۔

جنوبی افریقہ نے نو اوور کے اختتام پر 63 رنز بنائے اور اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔

محمد نواز بھی کافی موثر ثابت ہو رہے تھے انھوں نے اپنے پہلے تین اوور میں صرف بارہ رنز دیئے۔

جنوبی افریقہ نے دس اوور مکمل ہونے پر 66 رنز بنائے تھے۔

عثمان قادر تیسرے اوور میں ذرا مہنگے ثابت ہوئے جب ہنڈرکس نے پہلے سوئپ شاٹ اور پھر کاور میں چوکا لگایا۔ گیارہ اوور میں جنوبی افریقہ کا سکور 77 رنز ہو گیا۔

بارہواں اوور فہیم اشرف کرنے آئے۔ ہنڈرکس محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 24 گیندوں پر 25 رنز بنا چکے تھے۔ دوسرے طرف ملر بھی احتیاط سے کھیلتے ہوئے سنگل اور ڈبل رن بنا رہے تھے۔

فہیم اشرف کو پہلی پانچ گیندوں پر کوئی باونڈری نہیں پڑی اور چھٹی گیند پر انھوں نے ڈیوڈ ملر کو وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ کر دیا۔ ملر جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں صرف چھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اسوقت جنوبی افریقہ کا سکور 83 رنز تھا۔

پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کافی بہتر رہی ہے لیکن اس وقت عالمی رینکنگ میں وہ چوتھے نمبر پر ہے۔

پاکستان کی ٹیم: کپتان بابر اعظم، رضوان، حیدر علی، حسین طلعت، خوشدل شاہ، افتخار احمد، فہیم اشرف، محمد نواز، عثمان قادر، شاہین شاہ آفریدی اور حارث روف۔

جنوبی افریقہ جے ملان، ہنڈرکس، سنائمن، کلیسن، ملر، پریٹوریس، فیلوکواو، فورٹون، ڈالا، سمپالا اور شمسی۔

error: