پاکستان بمقابلہ زمبابوے: دوسرے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم جیت سے ایک وکٹ دور، سوشل میڈیا پر تبصرے

ہرارے میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان جیت سے بس ایک وکٹ دور ہے۔ مہمان ٹیم کو تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر 158 رنز کی برتری حاصل ہے۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی جانب سے 510 رنز کے جواب میں زمبابوے کی ٹیم پہلے 130 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی اور اس کے بعد دوبارہ بیٹنگ ملنے پر ہوم ٹیم نے نو وکٹوں کے نقصان پر 220 رنز بنائے ہیں۔

ریجس چکابوا نے 80 رنز بنا کر مزاحمت دکھائی مگر نعمان علی پانچ اور شاہین شاہ آفریدی چار وکٹیں حاصل کر کے زمبابوے پر حاوی رہے۔

پاکستان بمقابلہ زمبابوے

تیسرے روز کے آغاز سے ہی فاسٹ بولر حسن علی نے زمبابوے کے بلے بازوں کو مشکل میں ڈالے رکھا۔ انھوں نے اننگز میں 27 رنز دے کر کل پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ٹیسٹ میچوں میں یہ حسن علی کی بہترین بولنگ کارکردگی ہے۔

اس کے ساتھ زمبابوے کی ٹیم 132 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ ہوم ٹیم کے بلے باز ریجس چکابوا نے تھوڑی مزاحمت دکھائی اور وہ 33 رنز بنا کر زمبابوے کی اننگز کے ٹاپ سکورر رہے۔

پاکستان کے فالو آن کے فیصلے کے بعد زمبابوے کو دوبارہ بیٹنگ کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس بار حسن علی کی جگہ نعمان علی نے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور ان کا ساتھ شاہین آفریدی نے چار وکٹیں حاصل کر کے دیا۔

عابد علی، پاکستان، زمبابوے
،تصویر کا کیپشنزمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں عابد علی (بائیں) نے شاندار ڈبل سنچری بنائی

دوسرے ٹیسٹ میں دوسرے روز کے اختتام پر زمبابوے نے پاکستان کے 510 رنز کے انبار کے مقابلے میں محض 52 رنز پر چار وکٹیں گنوا دی تھیں۔

اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے 36 سالہ تابش خان، جنھوں نے سال 2002 میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا، نے قریب 19 سال بعد اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی تھی۔ ان کے ساتھ حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور نعمان علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

پاکستان کے اوپنر عابد علی کی شاندار ڈبل سنچری اور اظہر علی کی سنچری کی بدولت مہمان ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 510 رنز اور آٹھ وکٹوں کے نقصان پر ڈکلیئر کیا تھا۔

سپن بولر نعمان علی نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 97 رنز کی باری کھیلی تھی مگر وہ اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے اور نروس نائنٹیز میں سٹمپ ہوگئے۔ پاکستان کی اس پوری اننگز میں چھ چھکے شامل تھے جن میں سے پانچ نعمان علی کے بلے سے نکلے تھے۔

بلیسنگ مزربانی تین وکٹوں کے ساتھ زمبابوے کے سب سے کامیاب بولر رہے تھے۔

حسن علی
،تصویر کا کیپشنفاسٹ بولر حسن علی نے 27 رنز دے کر کل پانچ وکٹیں حاصل کیں جو ٹیسٹ میچوں میں ان کی بہترین بولنگ کارکردگی ہے

'کپتان کا زمبابوے میں دل نہیں لگا'

میچ پر پاکستانی سوشل میڈیا میں دلچسپ تبصرے دیکھنے کو ملے۔ کسی کو عابد علی نے ڈبل سنچری نے متاثر کیا تو کسی نے نعمان علی جارحانہ بیٹنگ کی تعریف کی۔ ٹوئٹر پر شاہین شاہ آفریدی کے یارکرز کی گونج بھی سنی گئی۔

لیکن اسی دوران کئی صارفین نے اس بات پر دُکھ ظاہر کیا کہ پاکستان کے کپتان بابر اعظم میچ میں صرف صفر اور دو رنز جیسے سکور بنا سکے۔

پاکستان بمقابلہ زمبابوے

ارفعہ فیروز نے لکھا کہ بابر اعظم کے پاس یہ اچھا موقع تھا کہ رنز بنا کر اپنی ٹیسٹ رینکنگ مزید بہتر کر سکیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان سکورز کے بعد ’بابر اعظم کی ٹیسٹ رینکنگ اور اوریج نیچے جا سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’کپتان کا زمبابوے میں بالکل دل نہیں لگا۔‘

مگر یاد رہے کہ بابر نے زمبابوے میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔

اسرار احمد ہاشمی نے اپنی مایوسی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ’تابش خان شاید دوبارہ کوئی ٹیسٹ نہ کھیل سکیں۔۔۔ محمد عباس کاؤنٹی چیمپیئن شب میں قیمتی وکٹیں حاصل کر رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر انھیں انگلینڈ دورے کا حصہ بنایا جائے گا۔‘

پاکستان بمقابلہ زمبابوے

ابھیجیت نے لکھا کہ ’ریجس چکابوا پہلی اننگز میں ٹاپ سکورر تھے اور اب انھوں نے نصف سنچری کے ساتھ ٹیسٹ میچوں میں اپنے ہزار رنز مکمل کر لیے ہیں۔ وہ بھی 147 اوورز اور 5 سیشنز تک وکٹ کیپنگ کرنے کے بعد۔‘

صحافی سلیم خالق کے مطابق ’پی سی بی کو آئندہ زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اہم سینئرز کو آرام دیتے ہوئے نوجوانوں کو منتخب کرنا چاہیے۔

پاکستان بمقابلہ زمبابوے

’سکواڈ میں موجودگی کے بعد باہر بٹھانا آسان نہیں ہوتا۔ تین دن میں یکطرفہ میچز سے ہماری ٹیم کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا، البتہ نوجوان کھیلیں گے تو سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘

مظہر ارشد بتاتے ہیں کہ ’حسن علی نے تین مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ سنہ 2004 میں شعیب اختر کے بعد ایسا کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے ہیں۔‘

سرانش نامی صارف لکھتے ہیں کہ اگر زمبابوے کے پاس شان ولیمز، کریگ ارون اور سکندر رضا دستیاب ہوتے تو ان میچوں کا زیادہ مزہ آتا۔‘

error: