پاکستان بمقابلہ زمبابوے: مُساکندا کی خود ترسی کسی کام نہ آئی

خود ترحمی ایک ایسی کیفیت ہے کہ جس میں انسان متوقع ہزیمت کے آنے سے پہلے ہی خود کو کوسنے لگتا ہے۔ یعنی ناقدین کے نشتر برسنے سے پہلے ہی خود کو اپنے اقوال و اعمال سے اتنا گھائل کر چھوڑتا ہے کہ کسی اور کے طعنوں کی اذیت محسوس ہی نہ ہو۔

تریسائی مساکندا بھی اسی خود ترسی کا شکار ہو گئے اور دیکھتے بھالتے ایک اندھے کنویں میں کودنے کی کوشش کر ڈالی۔

زمبابوے کی اننگز خدا خدا کر کے کسی ڈگر پہ چلنے کے قابل ہوئی تھی جب کپتان برینڈن ٹیلر کے ہمرکاب مساکندا تیسری وکٹ کے لیے ایک قابلِ قدر شراکت ترتیب دے رہے تھے۔ کہیں نہ کہیں ایک موہوم سی امید بھی جاگنے لگی تھی کہ شاید زمبابوے اننگز کی شکست سے بچ جائے گا۔

مگر جب برینڈن ٹیلر نے نعمان علی کی گیند پہ ایک عمدہ ریورس سویپ کھیلی تو وہاں صرف دو رنز ہی بنانے کا موقع تھا۔ دو رنز بن بھی گئے لیکن مساکندا نجانے کس گمان میں تھے کہ تیسرا رن بنانے کے لیے دوڑے۔ اگر پاکستانی فیلڈر کسی حماقت کا ارتکاب کر بیٹھتے تو شاید تیسرا رن مکمل ہو بھی جاتا۔

وگرنہ کسی بھی لحاظ سے وہاں تیسرا رن بنانے کا موقع نہیں تھا۔ اور رضوان کے محفوظ ہاتھوں نے اس واضح حقیقت پہ مہر ثبت کر دی۔ یوں بہتری کی سمت بڑھتی زمبابوے کی اننگز اچانک اسی ایک لمحے میں منہدم سی ہوتی دکھائی دی۔

اس کے بعد خفت سے بچنے کے حقیقی امکانات بہت کم رہ گئے تھے کیونکہ، سست تر ہوتی، تیسرے دن کی وکٹ پہ جوں جوں گیند پرانا ہوتا جا رہا تھا، حسن علی کی میچ پہ گرفت بڑھتی جا رہی تھی۔

اس سیریز کے آغاز سے پہلے شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی دونوں پچاس ٹیسٹ وکٹوں کے سنگِ میل سے صرف دو گام کی دوری پہ تھے۔ پہلی اننگز میں شاہین شاہ نے یہ اعزاز حاصل کیا تو دوسری اننگز میں حسن علی کے بازو بھی اسی فارم میں نظر آنے لگے۔

پاکستانی فاسٹ بولرز کی تاریخی طور پہ یہ خاصیت رہی ہے کہ وہ سست، نیم مردہ پچز پہ بھی مواقع پیدا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں حسن علی کی بولنگ میں بھی وہی بیتے دنوں کی سی کاٹ دکھائی دی جو کبھی وقار یونس اور وسیم اکرم کی شراکت داری میں نظر آیا کرتی تھی۔

پہلی اننگز میں زمبابوے کے لوئر آرڈر بلے بازوں نے اچھی خاصی مزاحمت کا اظہار کیا تھا اور دوسری اننگز میں بھی مثبت پسندوں کو شاید یہی توقع تھی لیکن جس خود ترحمی کا سفر مساکندا کے رن آؤٹ سے شروع ہوا تھا، وہ کسی طور بھی رکنے نہ پایا اور گویا پل بھر میں ہی ساری اننگز کی بساط سمٹ گئی۔

کرکٹ

بابر اعظم کے لیے یہ جیت نہایت خوش بختی کا ساماں ہوئی کہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے بعد یہاں بھی فتح ان کا نصیب ہوئی اور ان کی ٹیسٹ کپتانی کا ریکارڈ سو فیصد کامیابی کے ساتھ مزید مستحکم ہو گیا۔

یہ جیت اگرچہ بہت پرکشش نہیں ہے مگر پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے بہت سے تناظر ہیں کہ جن سے دیکھا جائے تو یہ جیت بے حد خاص ہے کہ بالآخر لگ بھگ تین سال میں پہلی بار پاکستان اجنبی کنڈیشنز میں کوئی ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب ہوا۔

گو پاکستانی بیٹنگ نے پہلی اننگز میں ایک اچھا مجموعہ تشکیل دیا لیکن مڈل آرڈر میں ابھی بھی کئی جگہوں پہ بہتری کی واضح گنجائش دکھائی دے رہی ہے۔ البتہ فواد عالم کی سینچری امید کی وہ کرن ہے کہ جس کی روشنی میں پاکستانی مڈل آرڈر اپنی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔

مصباح الحق یقیناً سکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ ان کے نظم میں پہلی بار پاکستان کسی غیر ملکی سرزمین پہ کوئی ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب رہا۔

لیکن برینڈن ٹیلر کے ڈریسنگ روم پہ توقعات کا بوجھ مزید بڑھ چکا ہے۔ اب انہیں صرف یہ یقینی بنانا ہو گا کہ خود ترحمی کا جو سفر یہاں مساکندا کے رن آؤٹ سے شروع ہوا، کہیں بھوت بن کر اگلے میچ میں بھی ان کا پیچھا نہ کرنے لگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *