Site icon Dunya Pakistan

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: فتح کے بعد پاکستانی شائقین کی حارث اور آصف سے ’معافی‘

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے دوسرے میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر جہاں ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے وہیں سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ اور پاکستان کا مقابلہ ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے حوالے سے تو اہم تھا ہی لیکن گذشتہ مہینے نیوزی لینڈ کی جانب سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان کا دورہ اچانک ختم کرنے کے بعد پاکستانی شائقین کے لیے یہ ’عزت کا سوال‘ بھی بن گیا تھا۔

اور تو اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہے تھے اور اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘کوئی رعایت نہیں برتیں گے۔ بڑا اچھا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم اور پاکستانی شائقین اپنا غصہ نکالیں ایک طریقے کے ساتھ پاکستان کی حمایت کر کے۔۔۔ پہلے تو نشانے پر ایک ٹیم(ہمارے پڑوسی) تھی اب اس میں مزید دو یعنی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو شامل کر لیں۔ ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ اس طرح بنانا ہے کہ ہم شکست کھانے والے نہیں ہیں۔ آپ نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا اس کا بدلہ ہم میدان جنگ میں اتاریں گے۔‘

میچ کے بعد پاکستانی ٹیم کے بلے باز محمد حفیظ نے ٹوئٹر پر پاکستانی ٹیم کی سیلفی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس فتح کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے نام کرتے ہیں۔

میچ کے دوران اور اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر جو چیز سب سے زیادہ دیکھی گئی وہ اس میچ میں پاکستان کے لیے فتح گر ثابت ہونے والے دونوں کھلاڑیوں حارث رؤف اور آصف علی کے بارے میں موجود منفی رویے پر سوالات تھے۔

پاکستانی شائقین جو حارث رؤف اور آصف علی کی ماضی کی کارکردگی سے کافی نالاں تھے، ان کی شاندار کارکردگی پر شرمندہ، شرمندہ نظر آئے اور اپنا 'معافی نامہ' بھی پیش کیا۔

پہلی اننگز میں حارث رؤف کی اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کے بعد لوگ جہاں یہ سوال پوچھتے دکھائی دیے کہ حارث کو پاکستانی ٹیم میں اپنی جگہ ثابت کرنے کے لیے مزید اور کیا کرنا ہو گا وہیں ان کی تصویر کے ساتھ ایسے میمز بھی سامنے آئے جن میں لوگ ڈرامہ سیریز مرزا پور کے ایک کردار کے مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے نظر آئے کہ حارث کو اب مکمل عزت چاہیے ہے۔

ادھر سوئچ ہٹ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ میں آصف علی کی ایک تصویر لگا کر کہا گیا کہ ’یہ وہی سیکیورٹی ہے جو ہمیں آخری اوورز میں چاہیے تھی۔‘

نیٹ فلکس کے مقبولِ عام شو سکوئڈ گیمز کی تصویر کا سہارا لیے ہوئے یہ میم بھی سامنے آیا جس میں آصف علی پاکستانی ٹیم کو گرتے گرتے بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔

عثمان ناصر نامی صارف نے ایک طنزیہ انداز میں کہا کہ 135 کا تو پاکستان میں پیٹرول نہیں ملتا، نیوزی لینڈ والے ورلڈ کپ لینے آ گئے

بات صرف پاکستانی شائقین تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ سرحد پار سے صحافی اور مصنفہ رعنا ایوب نے اپنے پیغام میں پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک مناسب ترین جواب تھا‘۔

مزاحیہ تبصروں اور میمز کے ساتھ ساتھ میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہی۔

کرکٹ تجزیہ کار ریحان الحق نے میچ کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میچ ختم ہونے کے بعد بھی ان کے رونگٹے کھڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا 'یہ اس ٹورنامنٹ کا اتنا دشوار آغاز تھا، انڈیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف، کھلاڑیوں پر اتنا دباؤ تھا لیکن انھوں نے اس موقع پر گھبرائے بغیر کارکردگی دکھائی۔'

صارف کرکٹ والا نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی سے انڈیا کو فائدہ ہوا ہے۔ اگر کوہلی اینڈ کو نیوزی لینڈ کو پرا دے تو انڈیا کے ناک آؤٹ سٹیج تک پہنچنے کا امکان کافی بہتر ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر وہاب ریاض نے کہا کہ اور اس طرح دو میں سے دو۔۔۔۔ سب کو مبارکباد۔ شعیب ملک، حارث رؤف، اور آصف علی کی شاندار کارکردگی!

جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر ہرشل گبز نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ کی وہ ٹیم ہے جس کو باقی سب کے لیے ہرانا ضروری ہے۔

کئی سالوں سے قومی ٹیم کی اونچی نیچی کارکردگی سے پریشان کچھ شائقین نے کہا کہ انھیں اس طرح کی فتوحات کی عاد ت نہیں ہے۔

صارف سعدی کا کہنا تھا کہ 'ابھی اس کی عادت نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان کا آئی سی سی کے ٹورنامنٹ میں اپنے پہلے دو میچ جیت جانا، یہ نیا احساس ہے۔'

کرکٹ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کرنے والی ویب سائٹ کرک وکز کے بین جونز نے ٹویٹ میں بتایا کہ کرک وز کے ماڈل کے مطابق پاکستان دو میچ جیتنے کے بعد اب ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم بن گئی ہے۔

Exit mobile version