Dunya Pakistan

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

پاکستانی کھلاڑیوں نے نیوزی لینڈ کی سرزمین پر تین ہفتے قبل قدم رکھے لیکن انھوں نے زیادہ وقت اپنے ہوٹل کے کمروں کی دیواریں تکتے گزارا ہے۔

آج جب آکلینڈ کے ایڈن پارک میں پاکستانی بلے بازوں نے اننگز کا آغاز کیا تو پریکٹس کا فقدان واضح دکھائی دیا۔

اس میچ کی کہانی پڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ پاکستان اپنے کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کے بغیر ہی اس میچ میں اتر رہا تھا کیونکہ کچھ روز قبل وہ انگوٹھا فریکچر ہونے کے باعث کم از کم ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہو گئے تھے۔

دوسری جانب بھی مچل سینٹنر کین ولیمسن کی غیر موجودگی میں کمان سنبھالے ہوئے تھے۔

پاکستان نے ٹاس جیتا، اور 'اچھی وکٹ' پر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور آغاز میں آوٹ ہونے والوں کی پھر سے لائن لگ گئی۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ بیٹنگ کرتے وقت پاکستان کی یکِ بعد دیگرے وکٹیں گرنا اب عام سی بات ہوگئی ہے۔

محمد رضوان اور عبداللہ شفیق کی جوڑی نے بیٹنگ اننگز کا آغاز کیا لیکن وہ پچ کا پیس سمجھنے میں ناکام رہے۔

عبداللہ شفیق دوسرے ہی اوور میں پویلین لوٹے، محمد رضوان اور محمد حفیظ چوتھے اووز کی آخری دو گیندوں پر جبکہ حیدر علی اگلے اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

اس طرح پاکستان نے پاور پلے کے دوران چار وکٹیں ضائع کر کے ایک بڑا ٹوٹل پوسٹ کرنے کا موقع گنوا دیا۔

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین کو اس موقع پر بابر اعظم کی بہت یاد آئی اور ایک صارف نے یہاں تک کہہ دیا کہ بابر کے بغیر یہ ٹیم کچھ بھی نہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ یقیناً ایسی کارکردگی کے بعد پاکستان یہی چاہ رہا ہو گا کہ کاش وہ قرنطینہ میں ہی ہوتے۔

شاداب اور فہیم کی جارحانہ بیٹنگ

جب دسویں اوور سے پہلے ہی پاکستان کی نصف ٹیم پویلین لوٹ گئی تو پاکستان کے کپتان شاداب خان نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور سپنرز کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے جارحانہ بلے بازی کی۔

تین چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 32 گیندوں پر بنائے گئے 42 رنز کی بدولت پاکستان کی پوزیشن میں بہتری آئی۔

اننگز کے اختتامی اوورز میں آل راؤنڈر فہیم اشرف نے جارحانہ انداز اپنایا اور 18 گیندوں پر 31 رنز بنائے۔ انھوں نے پاکستان کو 150 رنز عبور کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جیکب ڈفی کی ڈیبیو پر چار وکٹیں

نیوزی لینڈ کی جانب سے اس میچ میں ڈیبیو کرنے والے جیکب ڈفی نے ڈیبیو پر عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور چار پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

انھوں نے اپنے قد کا فائدہ اٹھاتا ہوئے پچ میں موجود باؤنس کے ذریعے پاکستان بلے بازوں کو کچھ مختلف کرنے پر مجبور کیا۔

26 سالہ ڈفی کو اس کارکردگی کے باعث میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا خیال رہا کہ دوسرے ٹیموں کی طرف سے ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی اکثر پاکستان کے خلاف پرفارم کر کے ہی اتنے مشہور ہوجاتے ہیں کہ مستقبل میں ان کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔

بعض صارفین نے گذشتہ دنوں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈفی سمیت نیوزی لینڈ کے بولر اب ہمارے خوابوں میں آئیں گے۔

شاداب خان کی عمدہ کپتانی

سوشل میڈیا پر جہاں پاکستان کی بیٹنگ کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے وہیں شاداب خان کی کپتانی کو بھی سراہا جا رہا ہے۔

شاداب خان نے ایک ایسے وقت میں عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جب پاکستان کو رنز کی اشد ضرورت تھی اور پھر فیلڈنگ کرتے وقت خطرناک بلے باز مارٹن گپٹل کا عمدہ کیچ پکڑا اور پاکستان کی میچ میں واپسی یقینی بنائی۔

انھوں نے ٹاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا تھا انھیں اور ان کے خاندان کے لیے یہ انتہائی قابلِ فخر لمحہ ہے کہ وہ پاکستان کی کپتانی کرنے جا رہے ہیں۔

کپتانی کرتے وقت بھی ان کی جانب سے کی گئی بولنگ میں تبدیلیاں کارگر ثابت ہوئیں۔

انھوں نے فاسٹ بولر حارث رؤف کا عمدہ استمعال کیا اور انھیں میچ کے اہم مراحل پر بولنگ کا موقع دیا اور اہم شراکتیں توڑیں اور انھیں نہ صرف سوشل میڈیا صارفین بلکہ کمنٹیٹرز کی جانب سے بھی پذیرائی ملی۔

ایک صارف نے لکھا کہ ایک موقع پر پاکستان کے 34 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، وہاں سے ایک حوصلہ افزا ٹوٹل سکور کرنا اور پھر میچ کو آخری اوورز تک لے جانا یقیناً ایک کامیابی ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ شاداب خان نے بطور کپتان پہلے میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انھیں اب اپنی بولنگ پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ 'یہی جارحانہ مزاجی رہی تو بابر اور شادب کی جوڑی خوب بنے گی۔‘

سائیفرٹ کی نصف سنچری

ٹم سائیفرٹ مارٹن گپٹل کے ساتھ اوپننگ کرنے کے لیے آئے تو ان کے سامنے نیوزی لینڈ کی دو وکٹیں گر گئیں۔

تاہم انھوں نے اس دوران وہ کیا جو پاکستان ٹاپ آرڈر بلے باز نہیں کر سکے: یعنی سٹرائک روٹیٹ کرتے رہے، سنگلز لیتے رہے اور کسی بھی موقع پر دباؤ بڑھنے نہیں دیا۔

،تصویر کا کیپشنعاطف نواز کے مطابق ٹم سائیفرٹ کی اننگز ہی نیوزی لینڈ کی جیت کا سبب بنی

جوں جوں وہ کریز پر سیٹ ہوتے رہے انھوں نے جارحانہ انداز اپنایا اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

یقیناً سائیفرٹ کی اننگز نیوزی لینڈ کی فتح میں انتہائی اہم ثابت ہوئی کیونکہ ایک موقع ایسا ضرور آیا تھا جب پاکستان میچ میں واپسی کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

نیوزی لینڈ نے پاکستان کو تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست تو دے دی، لیکن یہ میچ اپنے ہی انداز میں منفرد اور مختلف احساسات کا حامل تھا۔

Exit mobile version