پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز دوسرا ٹیسٹ: ’یہ ٹیسٹ بولنگ کی ماسٹر کلاس تھی‘

ٹیسٹ کرکٹ اور موسم کا تعلق بہت عجیب سا ہے۔ کبھی یہی موسم بادِ مخالف کی مانند کھیل کی مقصدیت اور نتیجہ خیزی کو متاثر کرتا ہے تو کبھی یہی ابر آلود ہواؤں کی صورت ٹیسٹ کرکٹ میں ڈرامہ اور رنگینی بھر دیتا ہے۔

بیٹنگ کے لیے سہل وکٹ پر اچانک گیند تین چار ڈگری تک سوئنگ ہونی شروع ہو جاتی ہے، بلے بازوں کے قدم گڑبڑا جاتے ہیں، سلپ کارڈن میں جوش عود آتا ہے اور فل لینتھ سے ہلکی سی بھی سوئنگ یا سیم ہونے والی ہر گیند بلائے جاں بن جاتی ہے۔ اور پھر اچانک جب دھوپ کھلتی ہے تو یکایک بولرز کی جادوگریاں ہوا ہو جاتی ہیں اور فیلڈرز بلے سے دور جانے لگتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ٹیسٹ ’کرو یا مرو‘ جیسا معاملہ بنا ہوا تھا کہ ہار تو خارج از امکان، ڈرا بھی قابلِ قبول نہ تھا۔ موسم کے رحم و کرم پر طول پکڑتے اس میچ میں اگر پاکستان بلانتیجہ پلٹ آتا تو سیریز کی سکور لائن بابر اعظم کے لیے قابلِ قبول نہ ہوتی۔

ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے لوازمات نے ویسے بھی ہر دو طرفہ مقابلے کو ایک بھرپور مفہوم اور مسابقت دے ڈالی ہے۔

جس صورتِ حال کا سامنا پاکستان کو پہلی صبح کرنا پڑا، وہ کسی بھی طور سے پاکستان کے لیے سودمند نہیں معلوم ہو رہی تھی۔ نم آلود کنڈیشنز میں ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کی دعوت دیے جانا ٹیسٹ کرکٹ میں نہایت بدقسمتی کی علامت ثابت ہوتا ہے۔

اور یہ بدشگونی اوائل میں ہی ظاہر بھی ہو گئی جب دو رنز کے عوض پاکستان تین وکٹیں گنوا بیٹھا۔

لیکن بابر اعظم کی قائدانہ اننگز اور فواد عالم کی ایک اور شاندار سینچری کے بعد پاکستان جس مقام پر کھڑا تھا، وہاں سے پاکستان کو ایک نتیجے کی شدید ضرورت تھی کیونکہ بارش کے سبب پورے چار سیشنز ضائع ہو جانے کے بعد میچ ڈرا ہو جانا بالکل بھی خارج از امکان نہیں تھا۔

لیکن پاکستان نے اس ساری صورتِ حال کے برعکس ایسا جواب آں غزل تیار کیا کہ ویسٹ انڈین بلے باز ’جائے رفتن نہ پائے ماندن‘ کی تصویر بنے رہ گئے۔ یہ وکٹ پہلے میچ کی طرح بولنگ کی جنت نہیں تھی۔ یہاں بلے بازوں کو اڑانے کے لیے ان تھک ڈسپلن کی ضرورت تھی۔

محمد عباس

شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس نے بالکل وہی کیا جو حالات و واقعات کی ضرورت تھی۔ دراصل چوتھے دن کے پہلے توسیع شدہ سیشن کے ڈھائی گھنٹے وہ مرحلہ تھا جہاں پاکستان نے ایک یقینی ڈرا کی سمت گامزن میچ کا رخ موڑ دیا۔

ویسٹ انڈیز کے پاس دن گزارنے کو سات وکٹیں باقی تھیں اور اگر مہارت سے کھیلا جاتا تو اس برتری کا خاصا حصہ اتارا جا سکتا تھا۔ مگر شاہین شاہ آفریدی اپنے تسلسل، رفتار اور ضبط کے سبب ایک معمہ بنے رہے۔

صورت حال ابتر تب ہوئی جب محمد عباس نے بھی اپنا ردھم واپس حاصل کر لیا۔ اس بولنگ پارٹنرشپ میں محمد عباس کی اپنی اہمیت ہے کہ وہ اپنی لائن لینتھ کی مہارت اور لیٹ موومنٹ سے بلے باز کے اعصاب پر سوار ہو جاتے ہیں اور ہر گیند پر وہ تشکیک کا شکار رہتا ہے۔

شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس کی یہ ساجھے داری ایسی سودمند ثابت ہوئی کہ اس میچ نے تین سیشنز میں ہی اتنا سفر طے کر لیا جتنا شاید معمول کی رفتار پر پانچ سیشنز میں بھی نہ ہو پاتا۔

اگرچہ دوسری اننگز میں ویسٹ انڈین بیٹنگ کو شکار کرنا اس قدر آسان نہ ہو گا مگر پاکستان کو ایک بار پھر ویسے ہی نظم و ضبط کا اظہار کرنا ہو گا جو آج کے پہلے ڈھائی گھنٹے میں نظر آیا اور پورے میچ کی رفتار ہی بدل گیا۔

پاکستان

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی ماسٹر کلاس پرفارمنس تھی۔ ایسی پرفارمنسز نہ صرف شائقین کی امیدیں بڑھاتی ہیں بلکہ ڈریسنگ روم کا اعتماد بھی سوا کر دیتی ہیں۔ اس پرفارمنس کے طفیل یہ میچ پانچویں روز میں داخل ہونے سے پہلے ہی بلاک بسٹر بن چکا ہے۔

بابر اعظم اور ان کا اٹیک یقیناً یہی چاہے گا کہ جب کلائمیکس قریب آئے تو مضمحل چہرے صرف حریف ڈریسنگ روم میں ہی نظر آئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *