پاکستان تحریک انصاف میں جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کی تشکیل کیوں ہوئی؟

حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم سیاسی اعلان جہانگیر ترین کی جانب سے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں کیا گیا۔

جہانگیر ترین ہم خیال گروپ نے راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے جبکہ سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں قیادت کریں گے۔

جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے رکن اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے زراعت عبدالحیئی دستی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے چند صوبائی و قومی رکن اسمبلی نے پارٹی میں جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ بنا لیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی میں یہ ہم خیال اراکین کا گروپ اس وقت ہی بن گیا تھا جب جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ آغاز میں تو اس گروپ کے قیام کا کوئی پلان نہیں تھا لیکن جیسے جیسے ہم خیال دوست اکٹھے ہوتے گئے یہ گروپ بنتا گیا۔ اس ہم خیال پارلیمانی گروپ کے وفاق میں لیڈر رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں اس کی نمائندگی سعید اکبر نوانی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین ہم خیال گروپ میں 30 سے زیادہ اراکین شامل ہیں۔

جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی کے بہت سے اراکین کے یہ تحفظات تھے کہ جب سے وہ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کی عدالتی پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جانے لگے ہیں تب سے ہمیں ہمارے حلقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

عبدالحیئی دستی کا مزید کہنا تھا کہ ’منگل کی شب ماڈل ٹاؤن لاہور میں جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ طے ہوا ہے کہ اب ہمیں بطور ایک ہم خیال گروہ آگے چلنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دیکھنا چاہیے۔‘

کیا جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ کے قیام کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر سیاسی ٹوٹ پھوٹ قرار دیا جا سکتا ہے کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس گروپ کی تشکیل کو ٹوٹ پھوٹ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ہم تمام اراکین جہانگیر ترین کے موقف کی حمایت میں اکٹھے کھڑے ہیں جس میں جہانگیر ترین یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ایف آئی اے میں انکوائری کو صاف اور شفاف بنایا جائے۔جب سے ہم نے اس موقف کی ہے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

جہانگیر ترین اور عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ پارٹی کے اندر سے ایک گروپ تشکیل پایا ہے تاہم ہم میں سے کسی نے پارٹی کو نہیں چھوڑا، عمران خان کی قیادت پر سب کو اعتماد ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کے تحفظات کا خیال کریں۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

واضح رہے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حکومت کو جو رپورٹ دی تھی اس میں پنجاب حکومت کی طرف سے جن شوگر ملوں کو سبسڈی دی گئی تھی اس میں جہانگیر ترین کے علاوہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر ملز بھی شامل تھیں۔

جہانگیر ترین

اگر وزیر اعظم عمران پر اعتماد بھی ہے اور ان کی لیڈرشپ میں آپ سب ساتھ ہیں تو تحفظات کس سے ہیں کا جواب دیتے ہوئے عبدالحیئی دستی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیڈر عمران خان ہیں، جہانگیر ترین کے لیڈر بھی عمران خان ہیں، مگر ہر سیاسی جماعت کے اندر گروپ بندیاں ہوتی ہیں، ہمیں بھی ایسا محسوس ہوا کہ پارٹی کے اندر ایک گروہ جہانگیر ترین کو سائیڈ لائن کرنا چاہتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ آج جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں ہمارا ایجنڈا یہ تھا کہ ان اراکین کے تحفظات پر بات کی جائے جنھیں ان کے حلقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک رکن اسمبلی کو اپنے حلقے کا نمائندہ ہوتا ہے اس کو کیسے اور کون نشانہ بنا رہا ہے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بہت سے اراکین کے حلقے میں تعینات ہم خیال افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں، ان کو حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے اور ان کے دوست احباب کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات بھی بنائے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ صرف جہانگیر ترین کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا اس کے برعکس چند ایسے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی بھی ہیں جنھیں فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات سے بھی نوازا جا رہا ہے۔

جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے زیادہ اراکین کی تعداد صوبائی اسمبلی سے تعلق رکھتی ہیں تو آپ کو شکایات وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ہیں یا وفاقی حکومت سے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر ہمارا خیال ہے کہ شاید وفاق کی جانب سے صوبوں کو یہ ہدایات کی گئیں ہیں کہ ہمیں نشانہ بنایا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی ایک پالیسی نہیں چند لوگوں پر نوازشات کی جا رہی ہیں تو کسی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تنگ کیا جا رہا ہے۔‘

ان اراکین کا مقصد اور ترجیح پارٹی لائن ہونی چاہیے جس کے تحت جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے بیشتر اراکین پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور پارٹی ٹکٹ پر لڑے یا جہانگیر ترین کے ساتھ وفاداری اور یکجہتی کا اظہار کرنا پر عبدالحیئ دستی کا کہنا تھا کہ اس گروپ میں شامل زیادہ تر اراکین وہ ہیں جو آزاد حیثیت سے انتخاب لڑے تھے اور انھوں نے جہانگیر ترین کے ذریعے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جہانگیر ترین اور عمران خان

’اس دوران ہم سب کا جو تعلق جہانگیر ترین کے ساتھ قائم ہوا اس کو قائم رکھتے ہوئے بالکل ہماری وفاداری ان کے ساتھ ہے۔ جہانگیر ترین اس وقت عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جا چکے ہیں اور وہ اس وقت ایسے پوزیشن میں نہیں ہیں کہ کسی کو کوئی ذاتی فائدہ پہنچا سکیں، ہم اس وقت ان کے ساتھ اس لیے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین پارٹی کے لیے اہم اور ایک معزز رکن ہیں، ان کی تحریک انصاف کے لیے بہت سی خدمات ہیں اور ان کو پارٹی میں مضبوط کرنا اور میرٹ پر ان کی حمایت کرنا تحریک انصاف کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان کے مقامی میڈیا پر تحریک انصاف میں جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے بننے کے خبریں آنے کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنی رائے اور تبصرے دینا شروع کر دیے۔ مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حکمران جماعت کے حق میں اور اس کے خلاف ٹوئٹر ٹرینڈز دیکھنے میں آئے۔

ٹوئٹر

حکمران جماعت کے رکن اور سنیٹیر فیصل جاوید نے اس خبر کے جواب میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’پی ٹی آئی عمران خان ہے اور عمران خان پی ٹی آئی ہے۔‘

جبکہ ایک سوشل میڈیا صارف نے سنیٹر فیصل جاوید کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’اگر سب اراکین عمران خان کی وجہ سے جیتے تو ترین صاحب کا جہاز اور آزاد اراکین کی شمولیت کو کس کھاتے میں ڈالتے ہیں؟ عمران خان ہی تحریک انصاف ہے۔۔ لیکن جہانگیر ترین بھی تحریک انصاف کی (اب تلخ) حقیقت ہے۔‘

ٹوئٹر

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اگر کوئی فارورڈ بلاک بنانا چاہتا ہے تو وہ پہلے پی ٹی آئی کی نشت سے مستعفی ہو۔‘

ٹوئٹر

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *