پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد کے ’امر بالمعروف‘ جلسے میں 10 لاکھ لوگ جمع کرنے کا دعویٰ کتنا درست؟

ستائیس مارچ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے پہلے خاصی گہما گہمی اور سڑکوں پر معمول سے زیادہ رش دکھائی دیا۔ گھر سے دفتر آتے ہوئے سڑکوں پر چلتی ہر گاڑی اور موٹر سائیکل پر مجھے تحریک انصاف کے جھنڈے ہی دکھائی دیے۔

ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوا کہ شاید پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا اپنے ’امر بالمعروف‘ جلسے میں 10 لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ درست ثابت ہو گا۔

اور تو اور اتوار کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کے دوران بھی تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت آج 20 لاکھ لوگ جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے روز وزیر اطلاعات فواد چودھری نے نجی چینل اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پریڈ گراؤنڈ میں پانچ لاکھ لوگوں کے آنے کی گنجائش موجود ہے لیکن جس طرح آج ہی لوگوں کی آمد شروع ہو گئی ہے تو امید ہے کہ کل پریڈ گراؤنڈ جلسے سے پہلے ہی بھر چکا ہو گا اور لوگ جلسہ گاہ سے باہر اور پورے شہر میں بھی موجود ہوں گے۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کل آبادی 20 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے کئی وزرا سوشل میڈیا پر ان قافلوں کی ویڈیوز شیئر کرتے بھی نظر آئے، جو ملک کے مختلف شہروں سے جلسے میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے تھے۔

تو اس تمام صورتحال میں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جس جگہ پر اتنے لوگ جمع کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہے وہاں اتنے لوگ جمع ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں لیکن اس سے پہلے ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ پریڈ گراؤنڈ کہاں واقع ہے۔

جلسہ گاہ

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر واقع ہے۔

یہ مقام زیرو پوائنٹ اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد کے درمیان ہے۔ اس مقام پر ہر سال 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان افواج سالانہ پریڈ کرتی ہے۔

اگر گوگل میپ کے ذریعے شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں اس مقام کی پیمائش کی جائے جہاں پر تحریک انصاف نے جلسے کا انعقاد کیا ہے، تو یہ علاقہ پانچ لاکھ 74 ہزار 531 سکوائر فٹ پر پھیلا ہوا ہے۔

جلسہ

تو کیا اس مقام پر اتنے لوگ جمع بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے ہم نے’ میپ چیکنگ‘ نامی ایک ٹول کا استعمال کیا، جو کسی خاص مقام پر لوگوں کی گنجائش کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

تحریک انصاف نے پریڈ گراؤنڈ کے جس حصے میں اپنے جلسے کا اہتمام کیا، ’میپ چیکنگ‘ کے مطابق رش کی صورت میں وہاں تقریباً ایک لاکھ 67 ہزار افراد کے جمع ہونے کی گنجائش موجود ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ تحریک انصاف کے جلسے کے دوران یہ پورا علاقہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور سب لوگ کندھے سے کندھا ملا کر بھی کھڑے تھے تو اس صورت میں بھی ’میپ چیکنگ‘ کے مطابق یہاں زیادہ سے زیادہ دو لاکھ 13 ہزار افراد ہی جمع ہو سکتے ہیں۔

دو لاکھ 13 ہزار افراد جمع ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس قدر ہجوم میں ہنگامی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے اور بھگدڑ مچ سکتی ہے جس کی وجہ سے کوئی حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔

جلسہ

ان اعداد و شمار سے ایک بات تو واضح ہے کہ تحریک انصاف جس مقام پر 10 سے 20 لاکھ جمع کرنے کا دعویٰ کر رہی تھی وہاں رقبے کے اعتبار سے اتنا بڑا اجتماع ممکن ہی نہیں۔

تو پھر اتنے بڑے اجتماع کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف اپنے ’امر بالمعروف‘ جلسے میں آخر کتنے لوگ جمع کر سکی۔

پاکستان کے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کئی لوگ مختلف اندازے لگاتے دکھائی دیے تاہم اسلام آباد کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق تحریک انصاف کے جلسے میں شریک ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ تھی تاہم اگر سڑکوں پر موجود لوگوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف اپنے اس جلسے میں 10 لاکھ لوگ جمع کرنے میں تو کامیاب نہ ہو سکی تاہم جلسے کے شرکا کا جوش و ولولہ قابل دید ضرور تھا۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق جن لوگوں سے انھوں نے بات کی اور خاص کر کے خواتین کا یہ کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام وہ آئندہ انتخابات میں بھی ووٹ عمران خان کو ہی دیں گے۔

error: