پاکستان سپر لیگ: کراچی اور کوئٹہ سمجھیں کہ پی ایس ایل میں وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا،

کہنے کو تو شعیب ملک اس لیگ کے معمر ترین کھلاڑیوں میں سے ہیں مگر جس طرح سے انھوں نے کراچی کے بولرز کی خاک اڑائی، ان کی اگلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش بجا نظر آتی ہے۔ کیونکہ جس طرح کی وکٹ کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے میچ کے لیے تیار کی گئی تھی، یہاں ان کے جیسا گھاگ بلے باز ہی ایسی فیصلہ کن اننگز کھیل سکتا تھا۔

کسی بھی ٹورنامنٹ کی کامیابی میں کلیدی کردار اس کی فراہم کردہ کنڈیشنز کا ہوتا ہے کہ آؤٹ فیلڈ اور پچ کس حد تک مثبت کرکٹ کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ حالیہ ایونٹ کے پہلے میچ میں وکٹ نے جس قدر مایوس کیا تھا، باقی کے میچز میں اس کے برعکس پرجوش اور مسابقتی کرکٹ دیکھنے کو ملی۔

اگرچہ حالیہ سیزن سے پہلے پی ایس ایل کو بولرز کی لیگ کہا جاتا تھا مگر رواں سیزن میں، کچھ مستثنیات کے علاوہ، وکٹوں نے بلے بازوں کی خوب طرف داری کی ہے اور لگ بھگ سبھی ٹیموں کی جانب سے ضخیم مجموعے دیکھنے کو ملے۔ محض کراچی کی ٹیم ہے کہ جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے محروم رہی۔

بدقسمتی سے کراچی کنگز ایک بار پھر ٹورنامنٹ کے بیچ صحیح الیون بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ شاید بابر اعظم کو قیادت کی باگ ڈور تھما کر یہ مینیجمنٹ بے فکر ہو گئی تھی کہ باقی سب وہ سنبھال لیں گے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ متوازن اور مسابقتی ٹیم کمبینیشن کے بغیر محض اچھی کپتانی سے ایسے ایونٹ میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس پر مستزاد کہ محمد عامر کی شمولیت بھی خارج از امکان قرار دی جا چکی ہے۔ پہلے ہی گہرے پانیوں کی جانب بڑھتے کراچی کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا بھی کچھ یہی المیہ ہے جو بیٹنگ میں بھلے بہتر نظر آ رہے ہیں مگر بولنگ میں درست تال میل ترتیب نہیں دے پا رہے۔ اور محمد حسنین پر حالیہ پابندی کے بعد ان کی مشکلات دوچند ہو سکتی ہیں۔ سو، اگر کوئٹہ کو اس سیزن میں اپنا بھرم رکھنا ہے تو سرفراز احمد کو قیادت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹنگ میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ جس طرح کے مضبوط کمبینیشن کے ساتھ ملتان اور اسلام آباد ابھی تک سامنے آئے ہیں، کسی بھی اوسط سی بیٹنگ لائن یا پوری پوری سی بولنگ لائن کا ان کے سامنے قدم جمانا خاصا دشوار ہو گا۔ فی الوقت یہ دونوں ٹیمیں ایسی ہیں کہ ان کے کمبینیشن ہر لحاظ سے مکمل اور درست دکھائی دیتے ہیں۔

ملتان کو ٹاپ آرڈر میں محمد رضوان اور شان مسعود کی بہترین فارم کا سہارا ہے۔ مڈل آرڈر میں صہیب مقصود اور رائلی روسو اپنے اپنے تئیں ڈیمیج کنٹرول میں خوب مہارت رکھتے ہیں۔ جبکہ ڈیتھ اوورز کی بولنگ میں انھیں ڈیوڈ ولی کی شکل میں ایک ایسا گھوڑا میسر ہے کہ جس پر آنکھیں موند کے بھی شرط باندھی جا سکتی ہے۔

رضوان

بالآخر یہ محمد رضوان کی کپتانی اور ملتان کی ڈیتھ اوورز بولنگ کا ہی کمال تھا کہ پچھلے برس سے چلتے آ رہے رجحان کو توڑا اور پہلے بیٹنگ کر کے بھی جیت اپنے نام کی۔ پے در پے دو بار ہدف کا دفاع کر چکنے کے بعد یہ یقینی ہے کہ سلطانز ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی ٹیم ہو گی۔

ٹی ٹوئنٹی میں چلن ہی کچھ ایسا ہو چلا ہے کہ آخری پانچ اوورز میں مطلوبہ رن ریٹ بھلے 15 سے بھی سوا ہو، فیورٹ بیٹنگ ٹیم ہی ہوتی ہے۔ اور یہی چال ہمیں گذشتہ سیزن سے اب تک مسلسل نظر آئی تاآنکہ ملتان سلطانز نے یہ رجحان توڑا۔ اور یہ ان کے چیمپئین مائنڈ سیٹ کی خوب عکاسی کرتا ہے۔

اُدھر اسلام آباد یونائیٹڈ بھی ٹاپ آرڈر میں بے انتہا تگڑے نظر آ رہے ہیں جنھوں نے سالہا سال سے کامیاب ثابت ہونے والے فارمولے کے تحت اس بار بھی اوپر کے تین نمبروں پر مستند غیر ملکی بلے بازوں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ جبکہ شاداب خان مڈل آرڈر میں کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اس کی عملی نظیر بھی ہم دیکھ چکے ہیں۔ اور دو روز پہلے ہی شاداب خان نے اپنی بولنگ کے گم گشتہ جواہر بھی ڈھونڈ لیے۔

اگرچہ لاہور قلندرز بھی گذشتہ سیزنز کے برعکس خاصے مستحکم نظر آ رہے ہیں مگر شاہین شاہ آفریدی کی نوآموز کپتانی کے بہت سے امتحاں ابھی باقی ہیں۔ فی الوقت لاہور کے لیے مثبت پہلو فخر زمان کی شاندار فارم ہے جو کسی کے ہاتھ نہیں آ رہے۔

بولنگ میں دیکھا جائے تو لاہور قلندرز کا لائن اپ غالباً اس سیزن کے بہترین کمبینیشنز میں سے ایک ہے۔ چونکہ اس بار لیگ کا حتمی راؤنڈ بھی لاہور کے ہوم گراؤنڈ پر ہو گا، اس لیے قلندرز بہت پراُمید ہوں گے کہ وہ اپنا پہلا ٹائٹل جیتیں۔ لیکن راشد خان کی واپسی کے بعد نیا بولنگ لائن اپ طے کرنا یقیناً ایک چیلنج ہو گا۔

نگاہیں اب صرف کراچی اور کوئٹہ پر ہیں کہ وہ کب اپنی ہستی کا ثبوت لاتے ہیں۔ کیونکہ ابھی تک ان دونوں ٹیموں نے ٹیبل کے نچلے خانوں پر ہی قبضہ جما رکھا ہے۔ تو ایک ایسا ایونٹ جہاں کل ٹیمیں ہی چھ ہوں، ان میں سے ٹاپ فور اگر شروع سے ہی ایسی برتر اور مضبوط نظر آنے لگیں تو میلے کی رونق ماند پڑ جاتی ہے۔

مزہ تو جب ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے تک یہی گومگو کی کیفیت چلتی رہے کہ کون کون آگے جا پائے گا۔ بلاشبہ سبھی ٹیمیں اچھی تفریح فراہم کر رہی ہیں مگر کراچی اور کوئٹہ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پی ایس ایل جیسے تفریحی ایونٹس میں وقت گزرنے کا پتا بھی نہیں چلتا۔