پاکستان سپر لیگ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ملتان سلطان کو 22 رنز سے ہرا دیا

نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جا رہے پاکستان سپر لیگ کے 14 ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ملتان سلطان کو 22 رنز سے شکست دے دی ہے۔

یہ اس پی ایس ایل میں پہلا موقع پے کہ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم جیتی ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مقررہ 20 اووروں میں 176 رنز بنا کر ملتان سلطان کو جیت کے لیے 177 کا ہدف دیا تھا لیکن ملتان یہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور 20 ویں اوور میں اس کی ساری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔

ملتان سلطان کے سب سے کامیاب بیٹسمین محمد رضوان رہے جو 66 سکور بنا کر زاہد محمود کی گیند پر آوٹ ہوئے۔

کوئٹہ کے سب سے کامیاب بولر قیس احمد رہے جنھوں نے چار اووروں میں 21 رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔ ان کے علاوہ زاہد محمود اور محمد حسنین نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے، جبکہ ڈیل سٹین اور محمد نواز کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ عمران طاہر رن آؤٹ ہوئے۔

محمد نواز پی ایس ایل مقابلوں میں اب تک 50 وکٹیں مکمل کر چکے ہیں۔ ان سے پہلے وہاب ریاض، حسن علی، محمد عامر اور فہیم اشرف پی ایس ایل میں پچاس یا زائد وکٹیں لے چکے ہیں۔

ملتان سلطان کی اننگز کا آغاز محمد رضوان اور جیمز ونس نے کیا اور چھٹے اوور میں ہی بغیر کسی نقصان کے پچاس رنز مکمل کر لیے۔ لیکن پھر وکٹیں گرتی چلی گئیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے حسنین شاہ نے بولنگ کا آغاز کیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی اننگز

ملتان سلطان نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تھی۔ جس کے جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 20 اووروں میں 176 رنز بنائے تھے اور ملتان سلطان کو جیت کے لیے 177 رنز کا ہدف دیا تھا۔ کوئٹہ کی اننگز کی خاص بات عثمان خان کی اننگز تھی جنھوں نے 81 رنز بنائے۔

محمد نواز اننگز کی آخری گیند پر شاہ نواز دہانی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ ان کا کیچ محمد رضوان نے لیا۔ قیس 2 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

اس سے قبل بین کٹنگز 10 رنز بنا کر شاہ نواز دہانی کی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے تھے۔ اسی اوور میں دہانی نے اعظم خان کو بھی ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ دہانی کی دونوں گیندیں تیز اور عمدہ تھیں جنھیں کھیلنا اتنا آسان نہیں تھا۔

کپتان سرفراز احمد کوئی بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور صرف چھ رنز بنا کر عمران خان کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس سے قبل ڈوپلیسی بھی 17 رنز بنانے کے بعد سہیل خان کی گیند پر بولڈ ہوئے تھے۔

عمران طاہر
،تصویر کا کیپشنعمران طاہر نے وکٹیں حاصل کرنے کے بعد اپنے روایتی انداز میں اظہار کیا

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پہلی دونوں وکٹیں سپنر عمران طاہر نے حاصل کیں۔

دونوں ٹیموں کے لیے یہ میچ جیتنا بہت اہم تھا کیونکہ پوائنٹس ٹیبل پر دونوں ٹیمیں ہی آخری نمبروں پر تھیں۔ ملتان سلطان پانچویں جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چھٹے نمبر پر تھے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے عثمان خان اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے صائم ایوب نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے نہایت محتاط طریقے سے اننگز کا آغاز کیا اور پانچ اووروں میں نو رنز کی اوسط سے بغیر کوئی وکٹ گنوائے 45 رنز بنائے اور چھٹے اوور کی تیسری گیند پر 50 رنز مکمل کیے۔ کوئٹہ کے 100 رنز میچ کے 12 ویں اوور میں بنے۔

ملتان سلطان بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
،تصویر کا کیپشنعثمان نے بہت عمدہ اننگز کھیلی اور جب بھی موقع ملا اچھی شاٹس لگائیں

ملتان سلطان کے فاسٹ بولر شروع میں وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور میچ کے آٹھویں اوور میں سپن کو متعارف کرایا گیا اور یہ اوور عمران طاہر نے کیا اور پہلے ہی اوور میں صائم کو آؤٹ کر دیا، ان کا کیچ خوشدل شاہ نے لیا۔ صائم نے 23 رنز بنائے۔

ان کے بعد ڈوپلیسی کھیلنے کے لیے آئے اور عمران طاہر کے اگلے ہی اوور میں انھیں ایک شاندار چھکا مارا۔

سولویں اوور کے اختتام تک کوئٹہ نے 136 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ اسو وقت لگتا تھا کہ ٹیم کوئی 160 کے قریب سکور کر پائے گی لیکن پھر آخر میں ایک دو اوور اچھے ملے اور ٹیم نے 176 رنز بنا لیے۔

کراچی کنگز کی جیت

اس سے قبل پی ایس ایل کے 13 ویں میچ میں کراچی کنگز نے پشاور زلمی کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

ٹاس جیت کر کراچی نے بولنگ کا فیصلہ کیا اور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی نے مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 188 رنز بنائے۔

بابر اعظم

اس کے جواب میں بابر اعظم کے 77 رنز نے کراچی کنگز کی جیت کو یقینی بنایا۔ ان کا ساتھ افغانستان کے بلے باز محمد نبی نے محض 35 گیندوں پر 67 رنز کی صورت اننگز کھیل کر دیا۔

پشاور زلمی کے ثاقب محمود دو وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کے سب سے کامیاب بولر رہے۔

189 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کا آغاز کچھ اچھا نہیں رہا تھا۔

دوسری اننگز کی شروعات ہی وکٹ سے ہوئی جب محمد عمران کی گیند پر شرجیل خان کا کیچ محمد عرفان نے پکڑا۔ عرفان نے اپنے دوسرے اوور میں جو کلارک کی وکٹ حاصل کی۔ ثاقب محمود نے کالن انگرام کو کیچ آؤٹ کیا۔

محمد نبی
،تصویر کا کیپشنبابر اور محمد بنی کے درمیان سنچری کی شراکت قائم ہوئی، دونوں نے اپنی اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں

اس طرح 43 رنز پر کراچی نے اپنی تین وکٹیں کھو دی تھیں۔ مگر کریز پر محمد نبی کی آمد نے میچ کا رُخ بدل دیا۔

اوپنر بابر اعظم اور محمد نبی کے درمیان سنچری کی شراکت قائم ہوئی جسے ثاقب محمود نے توڑ کر اپنی دوسری وکٹ حاصل کی تھی۔

زلمی
،تصویر کا کیپشن43 رنز پر کراچی نے اپنی تین وکٹیں کھو دی تھیں

لیکن اب پشاور کی میچ میں واپسی خاصی مشکل ہوچکی تھی۔ بابر 77 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے اور ڈینیئل کرسچن نے اختتامی اوور میں نو گیندوں پر 16 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا۔

پشاور کی بیٹنگ میں بوپارا اور ردرفورڈ نمایاں رہے

پشاور زلمی کی ٹیم آج اپنے کپتان وہاب ریاض کے بغیر میدان میں اتری جو زخمی ہونے کے باعث اس میچ میں شرکت نہیں کر رہے تھے۔ ان کی جگہ یہ ذمہ داری شعیب ملک کو سونپی گئی۔

تاہم پشاور زلمی ٹاس ہار گئی جس کے بعد روایت کے مطابق اسے پہلے بیٹنگ کرنا پڑی۔

بوپارا، ردرفورڈ
،تصویر کا کیپشنپشاور کی جانب سے روی بوپارا نے ننگز کو سنبھالا اور 58 رن بنائے۔ انھوں نے ردرفورڈ کے ساتھ اچھی شراکت قائم کی جس سے پشاور کی بیٹنگ مستحکم ہوئی

پشاور کا ٹاپ آرڈر کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ رہا اور پاور پلے کے دوران ہی پشاور کی ٹیم تین وکٹیں گنوا بیٹھی۔

چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے والے حیدر علی جو اس پی ایس ایل میں عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں صرف نو رنز ہی بنا سکے۔

عامر، بابر اعظم

کراچی کے لیے عباس آفریدی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ تاہم انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے روی بوپارا اور ردرفورڈ نے اس موقع پر بیٹنگ کو سنبھالا اور 82 رنز کی شراکت بنا کر پشاور کی ایک اچھے ٹوٹل تک رسائی یقینی بنائی۔

دونوں ٹیموں کے آپس کے مقابلوں کا جائزہ لیں تو پشاور کا پلڑا کافی بھاری ہے۔ پشاور نے بارہ میں سے آٹھ میچ جیتے ہیں جبکہ کراچی چار میں فاتح رہا ہے۔

تاہم اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک کوئی بھی ٹیم کامیابی کے ساتھ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے سکور کا دفاع نہیں کر سکی ہے۔

کھلاڑیوں، آفیشلز کے لیے ویکسین

دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل میں شریک تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کو کورونا ویکسین لگانے کی پیشکش کردی ہے۔ تاہم ویکسین لگانے یا نہ لگانے کا اختیار کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین کوالیفائڈ ہیلتھ ورکرز کے ذریعے لگائی جائیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *