پاکستان میں امریکی کردار

پاکستان اس وقت ایک شدید نوعیت کے سیاسی بحران سے دوچار ہے اور ایسے میں رچرڈ باؤچر کے اسلام آباد کے تازہ ترین دورے کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی کثرت سے جاری ہیں۔اکتوبر انیس سو ننانوے کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کے جائزے کا یہی بہترین وقت ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ عوامی دباؤ اور تناؤ کے ادوار میں ہی امریکی پالیسی کی دقیق نوعیت کی تبدیلیاں قیادتی سطح اور عوام کے لئے یکساں طور پر ناقابلِ فہم بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل باتوں پر ذرا غور کیجئے۔ اکتوبر ننانوے کی فوجی بغاوت جب ہوئی تو واشنگٹن والے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اور خاص طور پر جنرل مشرف کی کارگل والی مہم جوئی کی بدولت کلی طور پر میاں نواز شریف کے ساتھ تھے۔اسی لئے بغاوت کے بعدعالمی سطح پر جنرل مشرف کے ساتھ ایک اچھوت کی طرح کا برتاؤ ہوتا رہا۔ تاہم 9/11کے واقعات نے امریکی صدر بش کو(جنہیں اپنے انتخاب سے قبل جنرل مشرف کا نام بھی نہیں آتا تھا)پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ از سرِ نو روابط استوار کرنے اور ”دوستی“ کو مستحکم کرنے پہ مجبور کر دیا۔
سن دو ہزار دو سے لے کر سن دو ہزار پانچ تک جنرل مشر ف عالمی برادری کے بہترین حلیف بن گئے کیونکہ انہوں نے اس کے مقاصد کے لئے نہ صرف یہ کہ اپنی جان خطرے میں ڈالی بلکہ پاکستان کے شہری علاقوں اور وزیرستان میں بھی القاعدہ کے خلاف کاروائیاں کیں۔پاکستان میں ”جمہوریت“کے بارے میں امریکی تقاضوں کی جگہ پریس کی آزادی، روشن خیال اعتدال پسندی اور اقتصادی احیاء کے سلسلے میں جنرل مشرف کی پالیسیوں کی تعریف و توصیف ہونے لگی تھی۔منجدھار کی امریکی میڈیانے بھی اپنے تبصروں اور تجزیوں میں یہی خطوط اپنائے رکھے۔
تاہم سن دو ہزار پانچ کے بعد واشنگٹن والوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل مشرف کی ”مزید کچھ کرنے“ کی ”اہلیت“کے حوالے سے اپنی تحفظات کا سرعام اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔ساتھ ہی وہ بہ اصرار یہ بھی کہتے تھے کہ اپنے دوست کے ”اخلاص“ پر انہیں کوئی شبہ نہیں۔امریکی پالیسی میں یہ دقیق نوعیت کی تبدیلیاں جنرل مشرف کی جانب سے وزیرستان میں فوجی اقدام کے التواء اور عسکریت پسندوں کے ساتھ امن معاہدوں کے فیصلے اور پاکستانی علاقوں سے افغانستان میں طالبان کی بغاوتی سرگرمیوں کے باعث امریکیوں کے لئے پیدا ہونے والی مشکلات کے بعد آئیں۔امریکی میڈیا نے بھی ”مزید کچھ کرنے“ سے متعلق جملہ تحفظات کے بہ آوازِ بلند بیان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں امریکی مقاصد کی تکمیل کے لئے بہترین شخص کے طور پر جنرل مشرف کی ستائش جاری رکھی۔یہ تاثر پچھلے برس ستمبر میں اس وقت عروج کو پہنچا جب جنرل صاحب نے اپنی سوانح کی رونمائی فرمائی جس میں اپنے امریکی میزبانوں کے سامنے انہوں نے اپنی ”جمہوری ساکھ“ کا بھونپوبجایا تھااور ماضی کے منتخب وزرائے اعظم کی ”کرپشن“پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔
سن دو ہزار سات آنے تک امریکی حکومت نے طالبان کے یلغارِ گرماسے نمٹنے کے حوالے سے جنرل مشرف کی ”نا اہلی“ پر سر عام تنقید شروع کر دی تھی جبکہ امریکی میڈیا والے بھی اب ان کے اخلاص اور ”رضا مندی“ پر سوالات اٹھانے لگے تھے۔
جامعہ حفصہ والے معاملے میں جب جنرل مشرف سیاسی اسلام کو رول بیک کرنے میں ناکام نظر آرہے تھے اور جب طالبانیت زدہ قبائلیوں نے ویڈیو اور میوزک شاپس پر بم پھینکنے شروع کئے تو مغربی میڈیا نے بھی عوامی حمایت سے محروم ہوتے ہوئے ایک ”بے فائدہ آمر“ کو تنقید کا نشانہ بنانے میں بڑی عجلت دکھائی۔
جنرل صاحب کی معدوم ہوتی ہوئی ”اہلیت“کے مسئلے کا حل یہ تجویز کیا گیا کہ ان کی حیثیت کے استحکام کے لئے لبرل، مغرب نواز اورعوامی بنیاد رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کا تعاون انہیں دلا دیا جائے۔اسی لئے جب واشنگٹن میں بے نظیر بھٹو کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ اس بات کی علامت تھی کہ جنرل مشرف کی فوجی حکومت کی جگہ غیر یقینی انداز میں کسی اسلام پرست اور مغرب مخالف نظام کی آمد کے امکان کو رد کرنے کی غرض سے ملکی امور کی نگرانی کے لئے بے نظیر بھٹو کی عوامی قوت اورجنرل مشرف کی اعتدال پسند فوج کے درمیان اشتراک کے سلسلے میں کوئی ”ڈیل“ ہو سکتی ہے۔این جی او والوں کی زبان میں یہ عمل ”استعداد و اہلیت کی تعمیر یا فروغ“ کہلاتا ہے۔
تاہم اس سے قبل کہ اس ساری صورتحال میں ملوث ملکی اور غیر ملکی قوتوں کو اس ڈیل کا کچھ فائدہ سامنے آتا، جنرل صاحب نے مارچ میں ایک عدلیاتی بحران شروع کر دیا اور پھر اپنی ہی غلطیوں کے ذریعے اسے فوراً ہی ایک سیاسی بحران کی شکل بھی دے دی جس کے بعد عوامی دباؤ کے پیشِ نظر بے نظیر بھٹو ڈیل سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں۔واشنگٹن والوں کے لئے یہ امر باعثِ غور و فکر تھا۔ان کا ابتدائی خیال یہ تھا کہ عدلیاتی بحران زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گا۔اس کے سیاسی بحران کا روپ لینے کا توان میں سے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔تاہم کراچی کے پُر تشدد واقعات اور ”گو مشرف گو“ کے مسلسل نعروں کے بعدانہوں نے اس سارے معاملے پر از سرِ نو سوچنا شروع کر دیا۔پریس پر حکومتی پابندیاں اور ان پابندیوں کے خلاف پریس کی جرأت مندانہ مزاحمت ایک گرتی ہوئی دیوار کے لئے کسی آخری دھکے کی مانند ثابت ہوئی۔اس سے یہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا کہ جنرل مشرف واقعتاً الگ تھلگ ہو چکے ہیں اورتیزی سے زوال پذیر بھی ہیں!!چنانچہ واشنگٹن والوں نے اپنی پالیسی میں ایک اور دقیق نوعیت کی تبدیلی کی اور اب پاکستان میں عظیم تر جمہوریت کو انتقالِ انتظام کے تقاضے ان کی جانب سے زیادہ بلند آواز میں ہو رہے ہیں۔یہ لوگ پہلے اس معاملے میں ہچکچاہٹ دکھا رہے تھے لیکن اب واضح طور پر ان کی جانب سے اشتراکِ اقتدار کے ایک ایسے فارمولے پر عمل کی حمایت کی جا رہی ہے جس میں جنرل مشرف بغیر وردی کے صدر ہوں گے اورایک قابلِ قبول انداز میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں جمہوری اور منتخب سویلین حکومت قائم کی جائے گی۔اس تجویز کی بنیاد اس حقیقت کی تفہیم پر رکھی گئی ہے کہ جنرل مشرف یا اور کسی بھی جرنیل کی قیادت میں پاکستانی فوج تنِ تنہا امریکہ مخالفت اور انتہا پسند اسلام پرستی کا خاتمہ یا پھر اقتصادی اور سیاسی استحکام یقینی نہیں بنا سکتی ہے۔اسی طرح”جمہوری“ سیاستدان بھی فوج کے بغیر اکیلے نہیں کر سکتے ہیں۔ان حالات میں بہتر یہی ہے کہ جنرل مشرف اقتدار پر قابض رہنے کی بجائے ”عظیم تر“ جمہوریت کو ”انتقالِ انتظام“ کے عمل کی نگرانی کریں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر جنرل مشرف نے اپنی من مانی کی کوشش کی تو واشنگٹن والے بھی کسی دوسرے جرنیل کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی اجازت دے کر امریکہ مخالفت میں مزید شدت کا خطرہ مول لینے کی بجائے فی الفور مکمل سویلین جمہوریت کے تقاضوں کی حمایت کر دیں گے۔
جنرل مشرف کو نوشتہ ء دیوار صاف دکھائی دینا چاہئے۔اگر تنِ تنہا آگے بڑھنے پر انہیں اصرار رہا تو اندرونی و بیرونی طور پر وہ بالکل الگ تھلگ ہو جائیں گے۔اگر اس وقت اشتراکِ اقتدار پر وہ راضی نہیں ہوئے تو سارے اقتدار سے ہی انہیں ہاتھ دھونے پڑیں گے اور پھر ری پبلکن حکومت کے تحت امریکہ ان کی کوئی مدد کرنے کے قابل نہیں ہو گا اور ڈیموکریٹ حکومت تو ان کی مدد کے لئے راضی ہی نہیں ہو گی!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: