پاکستان میں خواتین ملکی آبادی کا 49 فیصد مگر بینک اکاؤنٹس صرف سات فیصد، ایسا کیوں؟

ثمینہ کراچی کے ایک سکول میں مونٹیسوری کلاس کے بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ ان کی ملازمت کی تنخواہ ان کے گھر کے قریب ایک بینک اکاؤنٹ میں ہر ماہ جمع ہوتی ہے۔

اکاؤنٹ سے تنخواہ نکالنے کے لیے ان کے شوہر بینک کے اے ٹی ایم جاتے ہیں۔ اگرچہ کبھی کبھار وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ اے ٹی ایم پر چلی جاتی ہیں، تاہم رقم نکلوانے کا زیادہ تر کام ان کے شوہر ہی کرتے ہیں۔

آمنہ امام کراچی میں این جی اوز کے ایک نیٹ ورک میں کام کرتی ہیں۔ کراچی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایک معروف ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والی آمنہ امام اپنے بینک کی تمام ٹرانزیکشنز خود کرتی ہیں۔

ان کے مطابق شاید پہلی مرتبہ اُنھیں بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے جب بینک جانا پڑا تو کچھ ہچکچاہٹ ہوئی تھی تاہم اس کے بعد اُنھیں کبھی بھی کوئی پریشانی اور مشکل پیش نہیں آئی اور وہ بینک کے متعلق تمام امور خود نمٹاتی ہیں۔

درِ شہوار نثار کراچی چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کی رکن ہیں اور گارمنٹس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق کاروباری خواتین کے لیے بزنس اکاؤنٹ کھلوانا بہت مشکل ہے، اور اس کے لیے بینکوں کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات اور طریقہ کار بہت مشکل ہے جو کاروباری خواتین کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔

ثمینہ، آمنہ اور در شہوار پاکستان کی آبادی کے اس اکثریتی طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جو دوسرے بہت سارے شعبوں کی طرح ملک کے مالیاتی نظام میں بھی مردوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔

پاکستان میں بالغ افراد کی آبادی کا 21 فیصد حصہ مالیاتی نظام میں بینک اکاؤنٹ کا حامل ہے۔ خواتین جو ملک کی آبادی کا 49 فیصد ہیں، وہ اپنی آبادی کے تناسب سے ملک کے بینکنگ نظام میں صرف سات فیصد حصہ رکھتی ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں مرد 34 فیصد اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔

خواتین کی ملک کے مالیاتی نظام میں اتنی قلیل تعداد کے پیش نظر پاکستان کے مرکزی بینک نے مالیاتی نظام میں مردوں اور خواتین کی مساوی شمولیت پر کام شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ڈرافٹ پالیسی بھی جاری کی ہے جس کے تحت مالیاتی نظام میں صنفی تفریق کو کم کرنے کے لیے سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔

مالیاتی نظام میں خواتین کی کتنی شمولیت ہے؟

پاکستان میں مالیاتی نظام میں خواتین کی شمولیت کے اعداد و شمار کے بارے میں عالمی بینک کے سروے کے مطابق سنہ 2017 تک پاکستان میں خواتین کی آبادی میں بینک اکاؤنٹ رکھنے والی خواتین کا تناسب صرف سات فیصد تھا۔ اس کے مقابلے میں انڈیا میں خواتین اپنی آبادی کے تناسب سے 76 فیصد اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔ سری لنکا میں یہ تعداد 73فیصد، بنگلہ دیش میں 36 فیصد اور نیپال میں 41 فیصد ہے۔

سٹیٹ بینک کی ڈرافٹ پالیسی میں عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اگر پاکستان کا مقابلہ اسلامی ملکوں سے کیا جائے تو بھی ملک کی خواتین کا مالیاتی نظام میں حصہ اسلامی ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہے۔

پاکستان، خواتین، بینکنگ

ان اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں آبادی کے اعتبار سے خواتین اکاؤنٹ ہولڈرز کی تعداد 58 فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 82 فیصد ہے تو ایران اور ترکی میں بالترتیب 92 اور 54 فیصد ہے۔

ملک میں جون 2020 تک بینکوں میں مجموعی طور پر اکاؤنٹس کی تعداد سات کروڑ سے زیادہ ہے جس میں سے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ اکاؤنٹس مردوں کے نام پر ہیں، جبکہ ایک کروڑ 80 لاکھ کے زیادہ بینک اکاؤنٹس خواتین کے نام پر ہیں۔

اگر ملک کے مالیاتی نظام میں کام کرنے والے افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی خواتین کی قلیل تعداد ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق خواتین بینکوں میں کام کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد کا 13 فیصد ہیں جبکہ یہ 15 فیصد ہیڈ آفس سٹاف کا حصہ ہیں تو 12 فیصد برانچوں میں کام کرنے والے سٹاف کا حصہ ہیں، جبکہ برانچ لیس بینکنگ سٹاف کا یہ صرف ایک فیصد ہیں۔

خواتین کی مالیاتی نظام میں شمولیت کم کیوں؟

پاکستان میں خواتین کی مالیاتی نظام میں کم تعداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کراچی ساؤتھ کی صدر شہناز رمزی نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ تو ہمارا معاشرتی نظام ہے جو خواتین کے مالیاتی تو کیا کسی بھی شعبے میں آنے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سوائے اُن خواتین کے جو کامیابی سے بزنس چلا رہی ہیں یا اداروں میں اچھے عہدوں پر کام کر رہی ہیں، ان کے علاوہ خواتین کا ذکر ہی نہیں ہوتا جو معیشت کے مختلف شعبوں میں کام کر کے اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

رمزی نے کہا کہ ملک میں بہت ساری خواتین چھوٹی سطح پر کاروبار کر رہی ہیں لیکن ان کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور جب کاروباری لین دین کا معاملہ درپیش آتا ہے تو زیادہ تر ادائیگیاں کیش میں ہوتی ہیں، اور اگر بینک اکاؤنٹ کی ضرورت پڑ جائے تو اکثر ان کے شوہر اور بھائی اپنے نام پر اکاؤنٹ کھلوا کر اُن کے کاروباری معاملات کو چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہیں سے سارا مسئلہ بنتا ہے کہ کاروبار تو خواتین کر رہی ہیں لیکن بینکنگ سسٹم میں وہ شامل نہیں ہو پاتیں۔

بینکوں میں خواتین کے لیے سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے رمزی نے کہا کہ جہاں ملک کے باقاعدہ بینکنگ سسٹم کا تعلق ہے، ان میں خواتین کے لیے کوئی ایسی خاص سہولیات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر اُنھیں زیادہ سے زیادہ مالیاتی نظام میں لایا جا سکے۔

پاکستان، خواتین، بینکنگ

اُن کے مطابق خواتین کو کاروبار کے لیے قرضے اسی شرحِ سود پر ملتے ہیں جو مرد کاروباری حضرات کو میسر ہوتے ہیں۔ شہناز کہتی ہیں کہ فرسٹ ویمن بینک خواتین کی کاروباری ضروریات کے لیے کام کرتا ہے لیکن ایک بینک آبادی کے اتنے بڑے حصے کے لیے کافی نہیں ہے۔

این جی او نیٹ ورک میں کام کرنے والی آمنہ امام نے اس سلسلے میں کہا کہ ہمارے ہاں خواتین کو یہ موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ بینکنگ ٹرانزیکشنز اور اس سے متعلق دستاویزات کے معاملات خود نمٹا سکیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ان معاملات کو دیکھنے کے لیے صلاحیت کی حامل نہیں ہیں، اس لیے اکثر مرد حضرات ہی ان کاموں کو کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ ذہنیت شہری مڈل کلاس میں بہت زیادہ ہے جہاں خواتین کو صرف گھریلو کام تک محدود سمجھتا ہے۔

سٹیٹ بینک کی ڈرافٹ پالیسی کے مطابق مردوں کے مقابلے میں خواتین کو بینکوں کی طرف سے فراہم کی جانے والی پراڈکٹس اور سروسز کے بارے میں کم معلومات ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی ملک کے مالیاتی نظام میں شمولیت بہت کم ہے۔

اس پالیسی کے مطابق خواتین کی اکثریت اپنے مالیاتی امور اپنے شوہر کی مشاورت سے کرتی ہے اور اکثر اوقات اُنھیں اپنے شوہر کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت نہیں ملتی۔

سٹیٹ بیینک اس حوالے سے کیا اقدام کر رہا ہے؟

ملک کے مالیاتی نظام میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے سٹیٹ بینک نے حال ہی میں ایک ڈرافٹ پالیسی تیار کر کے مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا ہے کہ کس طرح مالیاتی نظام میں صنفی امتیاز کو کم کیا جائے۔

اس پالیسی کے تحت مالیاتی اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ خواتین کسٹمرز کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے اداروں میں خصوصی ڈیسک قائم کریں۔ اس پالیسی کے تحت ایسے ٹچ پوائنٹس قائم کیے جائیں گے جن پر 15 فیصد خواتین کام کر رہی ہوں گی تاکہ وہ خواتین کسٹمرز کو سہولت فراہم کر سکیں۔ بینکوں کو یہ کام ایک سال میں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ تین سال کے عرصے میں 75 فیصد 'خواتین چیمپیئنز' کو ان ٹچ پوائنٹس پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کی رسائی بینکنگ سسٹم تک ممکن ہو سکے۔

پاکستان، خواتین، بینکنگ

سٹیٹ بینک کے ترجمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ خواتین کا معیشت میں کم حصہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی مالیاتی نظام تک رسائی نہیں ہے۔ سٹیٹ بینک چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین مالیاتی نظام کا حصہ بنیں۔

اُن کے مطابق اس سلسلے میں تجویز کردہ اقدامات میں خواتین کے اندر مالیاتی نظام اور اس کی پراڈکٹس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا ہے جیسے کہ اکاؤنٹ کھولنے کی آگاہی اور سستا قرض حاصل کرنے کی معلومات وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت بینکوں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ خواتین بینکوں میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جائیں اور وہاں پر پیش کی گئی خدمات اور پراڈکٹس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اُنھوں نے کہ اس پالیسی کے تحت مالیاتی اداروں میں زیادہ سے زیادہ خواتین کی شمولیت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ خواتین خود آگے بڑھیں اور قیادت کریں۔

مالیاتی اداروں میں خواتین کو ہراس سے پاک ماحول فراہم کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ یہ پہلو پاکستان میں دوسرے قوانین کے تحت محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ خواتین کو گھر سے باہر اور کام کرنے والی جگہوں پر محفوظ ماحول میسر ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *