پاکستان میں شراب بنانے والی چینی کمپنی کا کارخانہ: ’یہ صرف چینی شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا‘

صوبہ بلوچستان کے کراچی سے متصل صنعتی علاقے حب میں چینی کمپنی کی جانب سے قائم کردہ شراب بنانے والا کارخانہ نہ صرف مکمل ہو گیا ہے بلکہ یہ فعال بھی ہے۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے حکام کا دعویٰ ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے منصوبوں کے باعث چینی شہریوں کی بڑی تعداد میں پاکستان آمد کی وجہ سے یہ کارخانہ ان کی شراب کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے تاہم ابھی یہ بیرون ملک شراب برآمد نہیں کرے گا۔

حکام کے مطابق اس کارخانے سے وفاقی حکومت اور بلوچستان دونوں کو ٹیکس کی مد میں آمدنی ہو گی جبکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

یہ چینی کمپنی ہوئی کوسٹل بریوری اینڈ ڈسٹلری لمیٹڈ کے نام سے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں اپریل 2020 میں رجسٹر ہوئی اور اس نے حب میں اپنا پہلا کارخانہ لگایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مسلمان اکثریتی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں نہ صرف شراب بنتی ہے بلکہ اسے سمگل کر کے بھی یہاں لایا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر اسے خریدنے پر پابندی ہے تاہم دوسری مذہبی اقلیتوں کے افراد کو شراب خریدنے کے لیے خصوصی لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔

حب میں پہلے سے ایک کارخانے کی موجودگی میں نئے کارخانے کی کیا ضرورت تھی؟

صوبہ بلوچستان میں نہ صرف شراب بڑی مقدار میں بیرون ملک سے سمگل ہو کر آتی ہے بلکہ حب ہی کے علاقے میں کوئٹہ ڈسٹلری لمیٹڈ (کیو ڈی ایل )کے نام سے شراب کا ایک اور کارخانہ بھی قائم ہے۔

خیال رہے کہ کیوڈی ایل کا شراب بنانے والا کارخانہ پہلے کوئٹہ میں تھا جسے چند سال قبل حب منتقل کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شراب کے استعمال اور کاروبار کا لائسنس صرف اقلیتوں کو جاری کیا جاتا ہے۔

شراب
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

پہلے ہی اقلیتوں کی محدود آبادی کے لیے ایک کارخانے کی موجودگی میں دوسرے کارخانے کے قیام کی ضرورت سے متعلق سوال پر صوبائی ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ساؤتھ محمد زمان کا کہنا تھا کہ شراب بنانے والے اس کارخانے کا مقصد چینی شہریوں کے لیے ان کے معیار اور تقاضوں کے مطابق شراب بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سی پیک کے مختلف منصوبوں میں کام کے لیے 25 سے 30 ہزار چینی شہری آ رہے تھے جس کے باعث وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت سے چینی کمپنی کو لائسنس جاری کرنے کے لیے کہا تھا۔

محمد زمان نے بتایا کہ یہ شراب بنانے کا کارخانہ صرف بیئر بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چینی کمپنی کا 2018 کا منصوبہ تھا اور اس میں تین ارب روپے کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس سے بلوچستان کے علاوہ وفاقی حکومت کو بھی ٹیکسوں کی مد میں بڑی آمدنی آئے گی۔

دیگر ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس کارخانے سے بیئر کی پیداوار ہو رہی ہے تاہم بی بی سی کو بتایا گیا کہ اس فیکٹری میں شراب بنانے کی مشینری بھی لگ رہی ہے۔

’کمپنی کی انتظامیہ چینی باشندوں پر مشتمل ہے‘

چینی کارکنوں کی تعداد سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر محمد زمان نے بتایا کہ کارخانے کی انتظامیہ چینی افراد پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر یہ طے کیا ہے کہ وہ کارخانے میں تین سے چار سو لوگ بلوچستان سے رکھے گی۔

تاہم حب میں ڈان نیوز کے نمائندے اسماعیل ساسولی نے بتایا کہ اب تک کمپنی میں جو چینی افراد آئے ہیں ان کی تعداد 20 کے لگ بھگ ہے جبکہ اس میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد 140 ہے۔

شراب
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

کیا چینی کمپنی اپنی پراڈکٹ برآمد بھی کرے گی؟

ڈائریکٹر جنرل ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن محمد زمان نے بتایا کہ فی الحال اس کی پیداوار پاکستان کے لیے ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ کارخانہ صرف چینی شہریوں کی بیئر کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے تاہم اگر کہیں وفاقی حکومت نے اس کارخانے میں بننے والی بیئر کو بیرون ملک برآمد کرنے کی اجازت دی تو اس کی مصنوعات کو چین یا دیگر ممالک میں برآمد بھی کیا جا سکے گا۔

ایس ای سی پی میں ’ہوئی کوسٹل بروری اینڈ ڈسٹلری لمیٹڈ‘ کی رجسٹریشن گذشتہ برس 30 اپریل کو ہوئی تھی۔ لیکن کیا ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی اجازت دی جاسکتی ہے جن کی مصنوعات کا استعمال مسلمان معاشروں میں ممنوع ہے؟

اس سوال پر ایس ای سی پی کے ترجمان ساجد گوندل کا کہنا تھا کہ یہ مینڈیٹ ان کے ادارے کا نہیں۔

ان کا کہنا تھا جب کسی ادارے کی جانب سے کسی کمپنی کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے تو سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا کام اس کو رجسٹر کرنا ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جس طرح پٹواری کا کام اراضی کا ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے خواہ کوئی اس اراضی پر مسجد بنائے یا مندر، اسی طرح ایس ای سی پی کا کام ان کمپنیوں کا ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اس چیز کی نگرانی نہیں کرتا کہ کونسی کمپنی حلال چیز بنا رہی ہے اور کونسی کمپنی حرام۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *