پاکستان میں فوج اور انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان کی تشہیر پر بحث: ’خفیہ ایجنسی میں کام کرنے والے شخص کا تو کام ہی خفیہ رہنا ہے‘

جولائی 2009 میں برطانیہ میں اس وقت ایک ہنگامہ برپا ہو گیا جب لیڈی شیلے سیورز نے اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ ساحل پر تفریح کرتے ہوئے تصاویر فیس بک پر شیئر کیں اور جلد ہی اُن تصاویر پر اُن کے دوست احباب اور رشتہ داروں کی جانب سے تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اُن کے شوہر کی تصویر پر ایک رشتہ دار نے تبصرہ کیا: ’آپ کو مبارک ہو انکل سی۔‘

فیس بُک پر ہونے والی اس پوسٹ کے کچھ ہی دیر بعد برطانوی خفیہ ایجنسی نے یہ تصاویر ناصرف سوشل میڈیا ویب سائٹ سے ہٹوا دیں بلکہ وہ پروفائل ہی ڈیلیٹ کروا دیا جس کے ذریعے یہ پوسٹ کی گئی تھیں۔

یہ تصاویر دراصل سر جان سیورز اور اُن کے اہلخانہ کی تھیں۔ ان تصاویر کے پوسٹ ہونے سے چند روز قبل ہی سر جان سیورز کو ’ایم آئی سکس‘ کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا اور انھوں نے چند ماہ بعد یہ نیا عہدہ سنبھالنا تھا۔

برطانیہ کی خفیہ انٹیلیجنس سروس ’ایم آئی سکس‘ کے سربراہ کو عام طور پر اُن کے اصلی نام کے بجائے کوڈ نیم 'سی' سے لکھا اور پکارا جاتا ہے۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سر جان سیورز اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر کے طور پر تعینات تھے مگر چونکہ ان کی نامزدگی ایم آئی سکس کے لیے ہو چکی تھی اس لیے بطور انٹیلجنس چیف اُن کی تصاویر کو ’سکیورٹی رسک‘ قرار دیا گیا اور انھیں اور ان کے اہلخانہ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ان تصاویر کو پوسٹ کرنے کے معاملے پر تنقید اتنی بڑھی کہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے بعض عہدیداروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حکومت سر جان سیورز کو ایم آئی سکس کا سربراہ تعینات کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

تاہم بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس وقت برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ ملیبینڈ نے کہا تھا کہ اس واقعے سے اُن (سر جان سیورز) کا کریئر متاثر ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، اور پھر ہوا بھی یہی۔ وہ اُسی سال ایجنسی کے 15ویں سربراہ بنے اور ایک سال بعد یعنی اکتوبر 2010 میں وہ عوام سے مخاطب بھی ہوئے۔ یہ ایم آئی سکس کی تاریخ میں کسی حاضر سروس سربراہ کی جانب سے پہلی عوامی تقریر تھی۔

خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان، افسران اور ایجنٹس کی پبلک پروفائل کا نہ ہونا ناصرف دہائیوں پُرانی روایت ہے بلکہ ان اداروں کے رائج قوانین میں بھی شامل ہے۔ خود برطانیہ میں چند دہائیوں پہلے تک برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے وجود کو ہی سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

جنرل راحیل شریف
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف تشہیر کے حوالے سے اپنے دور میں مشہور رہے اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے بے شمار ٹرینڈز بھی بنتے تھے، جیسے ’تھینک یو راحیل شریف‘

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس واقعے کو یہاں بیان کرنے کا مقصد کیا ہے۔ تو وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر یہ بحث کئی روز سے جاری ہے کہ کیا پاکستان کے خفیہ ادارے یعنی آئی ایس آئی کے سربراہان کی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر تشہیر ہونی چاہیے اور انھیں خبروں میں موضوع بحث ہونا چاہیے یا نہیں۔

اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نوعیت کی خبریں شائع ہوئیں کہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ ندیم انجم نے متعلقہ حکام کو اپنی تصاویر یا ویڈیوز تشہیر کی غرض سے میڈیا یا دیگر ذرائع ابلاغ کو فراہم کرنے سے منع کیا ہے۔

حال ہی میں نئے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بعض اجلاسوں میں شریک تھے جن کی صدارت وزیراعظم کر رہے تھے تاہم ان کی ویڈیوز، تصاویر یا ان ملاقاتوں کے حوالے سے سرکاری بیانات یا تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔

تاہم موجودہ آئی ایس آئی چیف کے پیشرو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی وجہ شہرت ہی وہ تصاویر اور ویڈیوز رہی ہیں جو ان کے بطور ڈی جی آئی ایس آئی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جاتی رہی ہیں۔

پاکستان میں آئی ایس آئی سربراہان کی تشہیر کا معاملہ کب اور کیسے شروع ہوا اور اس حوالے سے قواعد یا روایت کیا ہے؟ یہ جاننے سے قبل دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی جانب سے ماضی میں اس حوالے سے برتی جانے والی احتیاط کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

جب خفیہ اداروں کے سربراہان عوام اور میڈیا کی نظروں سے دور رہتے تھے

سنہ 1923 میں ایک برطانوی ناول نگار کامپٹن مکینزی کو ایک ایسے مقدمے کا سامنا تھا جس میں انھوں نے اس وقت برطانیہ کی خفیہ ایجنسی سیکرٹ سروس بیورو (جس کی موجودگی کو حکومت نے عوامی سطح پر تسلیم ہی نہیں کر رکھا تھا) کے پہلے سربراہ سر مینز فیلڈ کمنگز کے مرنے کے بعد ایک خط میں اُن کا نام شائع کر دیا۔

پرانے زمانوں میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی شناخت سے متعلق احتیاط کا عالم یہ تھا کہ عدالت میں جب جج نے یہ سوال کیا کہ سر کمنگز کب فوت ہوئے تو اُن کے مرنے کی تاریخ عدالت میں موجود انٹیلجنس سربراہ اور اٹارنی جنرل سمیت کسی کو بھی معلوم نہیں تھی۔ اس کا علم صرف ناول نگار کو تھا۔

ایم آئی فائیو کی موجودگی کو پہلی بار سنہ 1989 کے اواخر میں سرکاری اور قانونی طور پر تسلیم کیا گیا۔ سنہ 1992 میں پہلی بار سرکاری طور پر اس کے نئے سربراہ کا اعلان کیا گیا جو کہ پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل بھی تھیں۔

ڈیم سٹیلا رمینگٹن کی تعیناتی کے اعلان کے کچھ دن بعد ہی ایک فوٹوگرافر نے اُن کے گھر کے قریب اُن کی تصویر کھینچی، جو اگرچہ واضح نہیں تھی مگر پھر بھی انھیں وہ علاقہ اور گھر تبدیل کرنا پڑا۔ ایم آئی سکس کی موجودگی سے متعلق سنہ 1994 میں انٹیلیجنس سروسز ایکٹ میں بس یہی الفاظ موجود تھے 'ایک سیکرٹ انٹیلیجنس سروس موجود رہے گی۔'

اس احتیاط کا مقصد صرف یہ تھا کہ خفیہ اداروں، ان کے سربراہان، اہلکاروں اور فرائض کو خفیہ رکھا جائے۔

لیکن آہستہ آہستہ دنیا کے مختلف ممالک میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی حد تک روایت تبدیل ہوتی رہی ہے تاہم وہ اب بھی پبلک پروفائل نہیں رکھ سکتے۔

مگر ان کی تعیناتی وغیرہ کے بارے میں عام طور پر متعلقہ محکمے پریس ریلیز یا اُن کے کیریئر سے متعلق کچھ معلومات ضرور شائع کرتے ہیں۔ ان سے متعلق معلومات کا انحصار اس امر پر بھی ہے کہ وہ ماضی میں کس حیثیت میں اپنی حکومت یا اداروں کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

مثلاً امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ فوج کا حاضر سروس افسر ہی ہو۔ وہ ریٹائرڈ افسر، سفارتکار یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں صرف ایک بار ہی ایسا ہوا کہ حاضر سروس افسر کی بجائے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کو خفیہ ایجنسی آئی آیس آئی کا سربراہ تعینات کیا گیا۔ مگر پاکستان میں یہ تعیناتی خاصی اہم سمجھی جاتی ہے۔

پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی تشہیر کا معاملہ

پرویز مشرف
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی میڈیا میں رہنا پسند تھا

پاکستان میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ اخبار کی سرخیوں اور ٹی وی کے خبرناموں سے نکل کر پہلے ٹاک شوز اور پھر سوشل میڈیا ٹرینڈز تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مسلح افواج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو کسی بھی قسم کی تشہیر یا اپنی شناخت، مقام، فوجی املاک اور اپنی ڈیوٹیز سے متعلق معلومات پبلک کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ان ممالک کے قوانین میں ایسے کسی بھی اقدام کی صورت میں سزائیں بھی متعین ہیں۔ یہ عام طور پر سیکرٹ ایکٹس کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

مگر پاکستان میں خفیہ ایجنسی یا فوج کے سربراہان کے حوالے سے روایت کچھ مختلف رہی ہے۔ چونکہ آئی ایس آئی کا سربراہ عموماً ایک حاضر سروس فوجی افسر ہوتا ہے اس لیے فوجی قوانین میں موجود قواعد و ضوابط کا پابند ہوتا ہے۔

مگر یہ اتنی طاقتور پوزیشن سمجھی جاتی ہے کہ یہاں تعینات ہونے والے سربراہان تشہیر کے حوالے سے ذاتی پسند، ناپسند کے قائل نظر آتے ہیں۔ اسی لیے مختلف ادوار میں مختلف طرز عمل نظر آتا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کو میڈیا میں رہنا پسند تھا اور جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف تو پاکستان میں پبلیسٹی کے حوالے سے مشہور ترین شخصیت رہے، جن پر سوشل میڈیا پر بے شمار ٹرینڈز بنے۔

مگر پرویز مشرف، اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف اور موجود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کام کرنے والے آئی ایس آئی سربراہان کا رویہ ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے۔

حال ہی میں آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اپنی ایجنسی میں کیریئر کے دوران متنازع طور پر خبروں کی زینت بنے رہے ہیں۔ ان کا نام پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کو ختم کرنے کی دستاویز پر ان کے دستخط نظر آئے۔ اس وقت وہ بطور میجر جنرل آئی ایس آئی میں تعینات تھے۔ ان کی تصاویر، ویڈیوز اور ان سے متعلق خبریں ان کے بطور ڈی جی آئی ایس آئی ہمشیہ ہی زیرِبحث رہی ہیں۔

یہاں تک افغان حکومت کے خاتمے کے بعد کابل کے سرینا ہوٹل میں قہوے کی پیالی ہاتھ میں تھامے ان کی تصویر وائرل ہوئی اور پھر کچھ صحافیوں نے ویڈیو بناتے ہوئے وہیں ان سے سوال کیے جس کا انھوں نے مختصراً جواب بھی دیا۔

فیض حمید
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں آئی ایس آئی سے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اپنی ایجنسی میں کیریئر کے دوران متنازع طور پر خبروں کی زینت بنے رہے

ان کی آئی ایس آئی میں سروس کا خاتمہ بھی سوشل میڈیا ٹرینڈز اور بڑی ہیڈلائنز پر ہوا جب وزیراعظم عمران خان نے ان کی پوسٹنگ کا نوٹیفکشن کئی ہفتے روکے رکھا۔

مگر آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ بظاہر اپنی کسی بھی قسم کی تشہیر سے گریز کر رہے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق اُن کے عملے کے پاس یہ واضح ہدایات موجود ہیں کہ اُن کی تصاویر یا ان کی ملاقاتوں کی ویڈیوز میڈیا کو نہیں دی جائیں گی، چاہے یہ ملاقاتیں وزیراعظم یا آرمی چیف سے ہی کیوں نہ ہوں۔

خیال رہے کہ کوئی بھی ایسی تصویر یا ویڈیو جس میں آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی موجود ہوں، مسلح افواج کے شعبہ برائے تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی منظوری کے بعد ہی میڈیا کو ریلیز کی جاتی ہے۔

نئے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور وہ گذشتہ روز اور اس سے پہلے ہونے والے بعض اجلاسوں میں بھی شریک تھے جن کی صدارت وزیراعظم کر رہے تھے تاہم ان کی ویڈیوز، تصاویر یا ان ملاقاتوں کے حوالے سے سرکاری بیانات جاری نہیں کیے گئے۔

’خفیہ ایجنسی کا تو کام ہی خفیہ رہنا ہے‘

بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستانی فوج میں جج ایجوٹنٹ جنرل برانچ کے سربراہ رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب سمیت ماضی میں آئی ایس آئی اور انٹیلجنس بیورو یعنی آئی بی کے ساتھ منسلک رہنے والے اہلکاروں سے بات کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر کہتے ہیں کہ خفیہ ایجنسی میں کام کرنے والے شخص کا تو کام ہی خفیہ رہنا ہے۔ 'ماڈرن انٹیلیجنس کی تاریخ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ خفیہ اداروں کے سب سے کامیاب سربراہان وہی رہے جنھوں نے اپنی تشہیر سے اجتناب کیا۔'

آئی ایس آئی کے سابق اہلکار کہتے ہیں کہ خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا 'کھلے مزاج کے آدمی تھے اور انھیں بہت شوق تھا کہ وہ خبروں میں رہیں۔ لیکن جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام آئے تو انھوں نے اپنی میڈیا کوریج سے منع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے متعلق آپ کو بہت زیادہ مواد نہیں ملے گا۔ اسی طرح جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نوید مختار آئے تو وہ بھی میڈیا یا عوامی نظر میں رہنا پسند نہیں کرتے تھے اور ان کے عملے کو بھی ہدایت تھی کہ 'لو پروفائل' ہی رکھا جائے۔'

جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب بتاتے ہیں کہ فوج میں میڈیا پر آنے اور اپنی نمود و نمائش کا کلچر جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کے وقت سے شروع ہوا 'جب ایک بہت بڑی فوجی مشق ضربِ مومن کی تشہیر کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ اس سے انڈیا کو پیغام ملے گا کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔ اور اس مشق کی بہت اچھی کوریج بھی ہوئی۔'

لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم، آئی ایس آئی
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں نئے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بعض اجلاسوں میں شریک تھے جن کی صدارت وزیراعظم کر رہے تھے تاہم ان کی ویڈیوز، تصاویر یا ان ملاقاتوں کے حوالے سے سرکاری بیانات جاری نہیں کیے گئے

وہ بتاتے ہیں 'مگر اس کے بعد یہ ایک ٹرینڈ ہی بن گیا کہ میڈیا پر بھی آنا ہے، اخباروں اور ٹی وی پر تصاویر بھی ہوں اور جو بھی کام کیا جا رہا ہے اس کی مکمل تشہیر بھی ہو۔ فوجی اصولوں کی بنیاد پر یہ بالکل غلط رواج ہے جو ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔'

خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار کے مطابق جب سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی آئی ایس آئی کے سربراہ تھے تو وہ بھی خبروں میں زیادہ نظر نہیں آتے تھے۔ 'یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان میں فوجی حکومت تھی اور خود جنرل پرویز مشرف ہائی پروفائل پبلک فگر رہنا پسند کرتے تھے اور ان کی طرف سے کوئی ایسی پابندی بھی نہیں تھی۔ مگر یہ عہدے کا تقاضا ہے کہ آپ نظروں سے اوجھل رہیں اور اپنا کام کرتے رہیں۔'

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب جو پاکستانی فوج میں جج ایجوٹننٹ جنرل برانچ کے سربراہ بھی رہے ہیں، نے بھی اس بارے میں فوج کی پالیسی سے متعلق بات کی۔

وہ کہتے ہیں کہ انٹیلیجنس کے سربراہان ہوں یا فوجی اہلکار، ان کی شناخت اور شخصیت کے بارے میں جاننے کے لیے دشمن کو بہت کوشش کرنی پڑتی ہے، 'لیکن جب آپ بہت زیادہ پبلک میں آتے ہیں تو آپ دراصل دشمن کو وہ تمام معلومات پلیٹ میں رکھ کر پیش کر رہے ہیں جس کے لیے اسے خاصی تگ و دو کرنی پڑتی تھی۔'

اسی بارے میں انٹیلجنس بیورو سے منسلک رہنے والے ایک اہلکار نے کہا کہ 'انٹیلجنس سربراہ کا فرض ہے کہ وہ اپنا 'سگنیچر' کہیں نہ چھوڑے۔' یعنی کوئی یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ ایک انٹیلجنس سربراہ کے پاس متعدد سفری دستاویزات ہوتی ہیں، اسی طرح کسی کو علم نہیں ہوتا کہ وہ کن ممالک کے دورے کر رہے ہیں اور کن شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے خفیہ رکھا جاتا ہے کہ ان کی نقل و حرکت کو فالو کرنے والوں کو یہ اندازہ لگانا مشکل ہو کہ ملک کی پالیسی کیا ہے، یا کوئی بھی حکومت یا فوج کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاقاتیں، دورے اور ایجنڈے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔'

جنرل ر امجد شعیب کہتے ہیں کہ انٹیلجنس ایجنسیوں کے سربراہان مسلسل سفر کرتے ہیں اور دوسرے ممالک میں متعلقہ حکام سے خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، 'یہ دوسرے ملکوں میں جاتے رہتے ہیں، ملاقاتیں کرتے ہیں جو خفیہ ہوتی ہیں، اب اگر یہ پہچانے جائیں کیونکہ ان کی ہر طرح کی تصویریں عوامی ڈومین میں موجود ہیں۔ اس طرح آپ کا معلومات خفیہ رکھنے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انٹیلیجنس کے سربراہان اور اہلکار کی شناخت اور پہچان متعلقہ افراد کے علاوہ کسی کے پاس نہ ہو۔'

وہ کہتے ہیں 'انٹلیجنس کے انڈر کور رہنے کے قوانین نہیں بلکہ روایات اور اصول ہوتے ہیں اور اس میں سب سے بنیادی اصول رازداری اور ناقابلِ شناخت رہنا ہے۔ جہاں تک ڈی جی آئی ایس آئی کا معاملہ ہے تو اول تو انھیں عوامی ڈومین اور تشہیر وغیرہ سے خود ہی دور رہنا چاہیے۔ اور اگر آرمی چیف یہ کہہ دیں کہ اب آپ نے میڈیا پر نہیں آنا تو اس صورت میں جو بھی انٹیلیجنس سربراہ کو اس حکم کی پابندی کرنا ہوگی۔'

آئی ایس آئی کے سبکدوش ہونے والے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی کابل سے منظر عام پر آنے والی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شعیب امجد سمجھتے ہیں کہ 'یہ ممکن ہے کہ خود فیض حمید کا ایسا کوئی ارادہ نہ ہو کہ ان کے کابل دورے کی تشہیر ہو، مگر وہ میڈیا میں اتنے عام اور عوامی سطح پر اتنے مشہور ہو چکے تھے کہ انھیں کوئی بھی کسی بھی مقام پر دیکھے گا تو فورا پہچان لے گا۔ اور یہی کابل میں بھی ہوا۔ یہی وہ قیمت ہے جو انٹیلیجنس کمیونٹی کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔'

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.