پاکستان میں لگژری اشیا اور گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کیوں لگائی گئی اور اس کا کیا فائدہ ہو گا؟

پاکستان میں وفاقی حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے جن میں لگژری آئٹمز، کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں اور موبائل فون کے علاوہ بھی چند دوسری چیزیں شامل ہیں۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ روز لیا گیا تھا جس کا باضابطہ اعلا ن وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

حکومت کی جانب سے ان اشیا کی ایک فہرست بھی جاری کی گئی ہے جن کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس فہرست کے مطابق جیم اور جیولری، لیدر، چاکلیٹ اور جوسز، سگریٹ کی درآمد پر پابندی کے ساتھ ساتھ ہی امپورٹڈ کنفیکشنری، کراکری کی امپورٹ فرنیچر، فش اور فروزن فوڈ کی امپورٹ، ڈرائی فروٹ میک اپ کی، ٹشو پیپرز کی امپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ملک کا تجارتی خسارہ زیادہ درآمدات کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے اور شہباز شریف حکومت پر معاشی فیصلوں کا دباو بڑھتا جا رہا تھا۔

اس مالی سال کے پہلے دس ماہ میں تجارتی خسارہ لگ بھگ چالیس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستانی روپیہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں ملکی تاریخ کی نچلی سطح پر موجود ہے اور جمعرات کو ایک ڈالر کی قیمت دو سو روپے کی حد کو عبور کر گیا۔

حکومت کی جانب مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی سے تجارتی خسارے کو کم کر کے روپیہ کو مستحکم کرنے کی کوشسش کی جا رہی ہے کیونکہ حکومت کے مطابق درآمدات پر پابندی سے چھ ارب ڈالر کی کم درآمدات ملک میں کی جائیں گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کے بعد کہا کہ اس فیصلے سے ملک کے زرمبادلہ کو بچایا جا سکے گا جو درآمدات پر خرچ ہو رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم خرچ کم کریں گے اور معاشی طور پر مضبوط لوگوں کو اس کوشش میں آگے بڑھنا ہو گا تاکہ معاشرے کے غریب طبقے کو اس بوجھ سے کم نقصان ہو جو گزشتہ حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے ملک پر پڑا۔

حکومت کے اس فیصلے پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت قدم ہے لیکن اس فیصلے سے غریب عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔

دوسری جانب تحریک انصاف حکومت کے معاشی ترجمان مزمل اسلم نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان مریم اورنگزیب نے کیا جب کہ یہ کام تو وزارت کامرس کا ہے۔ نوید قمر کہاں ہیں؟ سارا بوجھ مسلم لیگ ن پر ڈال دیا۔ بہت اچھا کھیلا پیپلز پارٹی نے۔‘

ایک جانب جہاں اس معاملے کو معاشی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے وہیں اس کا ایک ایسا پہلو بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں چند لوگ یہ شکایت کرتے نظر آئے کہ ان کی ضرورت کی چند اشیا پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’کم از کم کافی اور زیتون کے تیل کی درآمد پر تو پابندی نا لگائیں۔‘

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے سخت فیصلے کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔‘

ماہرین معیشت کے مطابق لگژری چیزوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے سے ملک کے تجارتی خسارے میں تھوڑی کمی تو ہوگی لیکن اس سے روپے کو مستحکم کرنے کا تصور ٹھیک نہیں ہے کیونکہ روپے میں کمی کی وجہ درآمدات کے بڑھتے ہوئے بل کے علاوہ بھی ہیں جن پر اب تک کام نہیں کیا گیا۔

معاشی امور کے ماہر اور عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے کہا کہ اس اقدام سے تجارتی خسارے میں زیادہ کمی آنے والی نہیں۔

انھوں نے کہا اصل مسئلہ تیل کی درآمد ہے جو درآمدی بل کو بڑھانے اور تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ ہے۔

انھوں نے مشورہ دیا کہ ’تجارتی خسارے میں نمایاں کمی لانے کے لیے حکومت کو ملک میں تیل کی کھپت کم کرنا پڑے گی جس کا ایک حل یہ ہے کہ ملک میں کام کرنے کے اوقات میں کمی لائی جائے۔‘

’ایک دن گھر سے کام کی پالیسی اپنائی جائے۔ ہفتے اور اتوار کو مکمل چھٹی ہو۔‘

’اسی طرح مہنگی ایل این جی کی خریداری کی وجہ سے صرف مئی کے مہینے میں حکومت کو ساڑھے سات ملین ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جو بجلی بنانے کے لیے استعمال ہو گی۔ بجلی ڈیمانڈ کو بھی کم کیا جائے اور سورج کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بڑھایا جائے۔‘

انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں معیشت کے استاد صائم علی بھی حکومت کی جانب سے مختلف چیزوں کی درآمد پر پابندی سے کوئی خاص فائدہ نہیں دیکھتے۔

انھوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تیل اور گیس کی درآمد ہے اور اب پاکستان کو گندم بھی درآمد کرنا پڑے گی۔

انہوں نے حکومتی کے ان اعداد شمار، جن کے مطابق دعوی کیا گیا کہ چھ ارب ڈالر کے درآمدی بل میں کمی ہو گی، سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس کا اثر تین ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔

درآمدات پر پابندی سے کیا روپے کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

روپے کی قدر

طاہر عباس نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کیجانب سے جن چیزوں کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے اس سے روپے کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ روپے کی قدر میں اضافے کی درآمدی بل کے علاوہ اور بہت ساری وجوہات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف سے پاکستان کے مذاکرات کے سلسلے میں غیر یقینی کا ماحول ہے جو روپے کی قدر کو گھٹا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ نئی حکومت ابھی کوئی معاشی پلان نہیں دے سکی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک بے یقینی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔

طاہر نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ پاکستان کی بیرونی قرضے کی ادائیگی بھی ہے اور جون کے مہینے کے اختتام تک پاکستان کو ساڑھے چار ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ادا کرنا ہے۔ ’اس کے ساتھ اگر دو مہینے میں جاری کھاتوں کے خسارے کے موجودہ رجحان پر دیکھا جائے تو وہ تین ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے جو روپے کی قدر میں کمی لا رہا ہے۔‘

صائم علی نے کہا روپے کی قدر پر پریشر تیل کی قیمتوں اور گیس کی قیمتوں کی وجہ سے آیا ہوا ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت اوپر جا چکی ہیں۔ ’ان کی درآمد تو جاری رہے گی اس لیے نہیں لگتا کہ روپے کی قدر میں کوئی خاص کمی ہو۔‘

درآمدات پر پابندی سے عام آدمی متاثر ہو سکتا ہے؟

حکومت کیجانب سے مختلف چیزوں کی درآمد پر پابندی کے عام آدمی پڑنے والے اثرات کے بارے میں طاہر عباس نے کہا کہ جن چیزوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان کا ایک عام فرد، جو درمیانے اور کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھتا ہے، پر اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ یہ چیزیں استعمال نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ امپورٹڈ گاڑیاں اور امپورٹڈ فوڈز عام لوگ استعمال نہیں کرتے۔

صائم علی نے کہا کہ وہ چیزیں جو عام آدمی بھی استعمال کرتا ہے جیسے موبائل فون وغیرہ ان کی قیمت بڑھ جائے گی کیونکہ ان کی ڈیمانڈ تو ہے لیکن مقامی پیداوار اتنی نہیں ہے کہ وہ طلب کو پورا کر سکے۔

error: