پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ سے دس یادگار لمحات

پاکستان نے اپنی کھیلوں کی تاریخ میں جو غیرمعمولی فتوحات حاصل کی ہیں ان کی فہرست نہ صرف طویل ہے بلکہ چند الفاظ میں ان کا احاطہ ممکن نہیں۔

یہ فیصلہ کرنا بھی بہت مشکل ہے کہ کس فتح یا کس یادگار لمحے کو نمایاں جگہ دی جائے اور کسے نہیں کیونکہ ہر فتح اپنے طور پر اہم ہے۔

پاکستان نے یوں تو متعدد کھیلوں میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر وہ چار کھیل ہیں جن میں فتوحات کا سلسلہ طویل ہے۔

یہ وہ کھیل بھی ہیں جن میں پاکستان بیک وقت عالمی چیمپئن رہ چکا ہے۔

کرکٹ
یہ میچ نذر محمد کی ناقابل شکست سنچری اور فضل محمود کی شاندار بولنگ کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے

ٹیسٹ میں اولین فتح (بمقابلہ بھارت سنہ 1952)

ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا استحقاق ملنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پہلا دورہ بھارت کا کیا جس میں کھیلی گئی پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھارت نے دو ایک سے جیتی۔

بھارت نے دلی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ اننگز اور 70 رنز سے جیتا لیکن پاکستان نے لکھنؤ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں اننگز اور 43 رنز کی جیت سے حساب بے باق کردیا۔

یہ میچ نذر محمد کی ناقابل شکست سنچری اور فضل محمود کی شاندار بولنگ کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔

نذر محمد نے پاکستان کی واحد اننگز میں حنیف محمد کے ساتھ بیٹنگ کا آغاز کیا اور آخری بیٹسمین امیرالہی کے آؤٹ ہونے تک 124 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے اس طرح انہوں نے بیٹ کیری کیا۔

فضل محمود نے بھارت کی پہلی اننگز میں باون رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں وہ زیادہ خطرناک ثابت ہوئے اور بیالیس رنز دے کر سات وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان
پاکستان نے فائنل میں بھارت کو ایک گول سے شکست دی یہ تاریخی گول نصیر ُبندہ نے کیا

پہلا اولمپک ہاکی گولڈ میڈل (روم اولمپکس، سنہ 1960)

پاکستان نے 1948 سے اولمپک مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ لندن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم چوتھے نمبر پر آئی۔

سنہ 1952 کے ہیلسنکی اولمپکس میں بھی اس کی چوتھی پوزیشن رہی۔ سنہ 1956 کے میلبرن اولمپکس میں پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچی لیکن اسے بھارت کے خلاف ایک گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 1960 کے روم اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے بریگیڈئر عبدالحمید (حمیدی) کی قیادت میں نہ صرف میڈل نہ جیتنے کا جمود توڑا بلکہ بھارت کا چھ لگاتار اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کا سلسلہ بھی ختم کر دیا۔

پاکستان نے فائنل میں بھارت کو ایک گول سے شکست دی یہ تاریخی گول نصیر ُبندہ نے کیا۔

روم اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے صرف چھ میچوں میں پچیس گول کیے اور اس کے خلاف صرف ایک گول ہوا تھا۔

پاکستان
خالد محمود کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے فائنل میں اسپین کو ایک گول سے شکست دے کر وہ ٹرافی حاصل کی جسے پاکستان نے ہی اس ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر تیار کرایا تھا

ورلڈ ہاکی چیمپیئن (بارسلونا، سنہ 1971)

اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کے بعد بین الاقوامی ہاکی میں پاکستان کی دوسری یادگار فتح بارسلونا میں منعقدہ پہلے ہاکی ورلڈ کپ کی جیت تھی۔

خالد محمود کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے فائنل میں اسپین کو ایک گول سے شکست دے کر وہ ٹرافی حاصل کی جسے پاکستان نے ہی اس ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر تیار کرایا تھا۔

فائنل میں فیصلہ کن گول کرنے والے اخترالاسلام تھے۔ اس سے قبل سیمی فائنل میں پاکستان نے بھارت کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرایا تھا۔ فیصلہ کن گول منورالزماں مرحوم نے کیا تھا۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی یہ کامیابی اس لیے بھی یاد رکھی جاتی ہے کہ ایک مرحلے پر وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کی پوزیشن میں آگئی تھی لیکن ہالینڈ کی مضبوط ٹیم کی جاپان کے ہاتھوں غیرمتوقع شکست کے نتیجے میں وہ باہر ہونے سے بچ گئی تھی۔

جہانگیر
جہانگیرخان کا ورلڈ چیمپئن بننا دراصل اس خواب کی تعبیر تھی جو ان کے بڑے بھائی طورسم خان نے دیکھا تھا لیکن وہ اپنے چھوٹے بھائی کو ورلڈ چیمپئن بنتا دیکھنے سے دو سال پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے

جہانگیرخان پہلی بار ورلڈ چیمپئن (ٹورنٹو، سنہ 1981)

سنہ 1981 میں ٹورنٹو میں کھیلی گئی ورلڈ اوپن جیف ہنٹ سے شروع ہوئی لیکن جب ختم ہوئی تو جہانگیر خان کی شکل میں ایک نئے فاتح عالم کی بالادستی کا آغاز ہوچکا تھا جنھوں نے چار بار کے ورلڈ چیمپئن جیف ہنٹ کو فائنل میں چار گیمز میں شکست دے کر سترہ سال کی عمر میں دنیا کے سب سے کم عمر سکواش ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

جہانگیرخان کا ورلڈ چیمپئن بننا دراصل اس خواب کی تعبیر تھی جو ان کے بڑے بھائی طورسم خان نے دیکھا تھا لیکن وہ اپنے چھوٹے بھائی کو ورلڈ چیمپئن بنتا دیکھنے سے دو سال پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جہانگیر خان نے جس تاریخ یعنی 28 نومبر 1981 کو عالمی اعزاز حاصل کیا اسی تاریخ یعنی 28نومبر 1979 کو طورسم خان کا انتقال ہوا تھا۔

جہانگیرخان نے اپنے شاندار کریئر میں ورلڈ اوپن کا اعزاز چھ بار حاصل کیا۔

پاکستان
یہاں تک کہ انھوں نے 1990 میں جیف ہنٹ کا یہ ریکارڈ توڑ دیا۔ فائنل میں انھوں نے آسٹریلیا کے راڈنی مارٹن کو شکست دی

جہانگیر خان کا دسواں برٹش اوپن ٹائٹل (لندن، سنہ 1991)

ورلڈ چیمپئن بننے کے اگلے ہی سال جہانگیرخان نے ہدی جہاں کو شکست دے کر پہلا برٹش اوپن ٹائٹل بھی جیتا۔

اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ ایک دہائی تک یہ برٹش اوپن صرف اور صرف جہانگیرخان کے نام سے پہچانی جائے گی۔

جہانگیرخان ہر سال لندن جاتے اور برٹش اوپن جیت کر جیف ہنٹ کے آٹھ بار یہ چیمپئن شپ جیتنے کے ریکارڈ سے خود کو قریب کرتے رہے۔

یہاں تک کہ انھوں نے 1990 میں جیف ہنٹ کا یہ ریکارڈ توڑ دیا۔ فائنل میں انھوں نے آسٹریلیا کے راڈنی مارٹن کو شکست دی۔

1991میں جہانگیر خان نے آخری بار برٹش اوپن میں حصہ لیا۔ فائنل میں ان کے حریف جان شیر خان تھے۔ جہانگیر خان نے یہ بازی چار گیمز میں جیتی اور دس برٹش اوپن ٹائٹل جیتنے کے منفرد اعزاز کے ساتھ اس چیمپئن شپ کو الوداع کہا۔

جہانگیرخان بلاشبہ سکواش کے عظیم ترین کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں جو تقریباً ساڑھے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے اور اس عرصے میں انہوں نے پانچ سو سے زائد میچز جیتے۔

پاکستان
کپتان عمران خان کا سر کالن کاؤڈرے کے ہاتھ سے کرسٹل ٹرافی لینا پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے یادگار لمحہ سمجھاجاتا ہے

کرکٹ کا عالمی کپ (آسٹریلیا سنہ 1992)

پچھلے تین عالمی کپ مقابلوں میں سیمی فائنل سے آگے نہ بڑھنے والی پاکستانی ٹیم نہ صرف پہلی بار فائنل تک پہنچی بلکہ عالمی چیمپئن بھی بنی لیکن جس انداز سے یہ سب کچھ ہوا وہ ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔

ابتدائی میچوں میں اس کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی تھی اور وہ پہلے پانچ میچوں میں سے تین ہارچکی تھی لیکن بعد میں اس نے آسٹریلیا۔

سری لنکا اور نیوزی لینڈ کو شکست دی تاہم انگلینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ میچ میں ملنے والا ایک پوائنٹ ہی اسے سیمی فائنل تک لے گیا۔

سیمی فائنل میں اس نے نیوزی لینڈ کو زیر کیا اور پھر میلبرن کے فائنل میں اس نے انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دی۔

وسیم اکرم فائنل کے ہیرو تھے جن کی لگاتار دو گیندیں امر ہوچکی ہیں جن پر انہوں نے ایلن لیمب اورکرس لوئس کو بولڈ کیا تھا۔

اس ورلڈ کپ میں نوجوان انضمام الحق ایک زبردست دریافت کے طور پر سامنے آئے۔

سیمی فائنل میں انہوں نے صرف سنتیس گیندوں پر ساٹھ رنز کی اننگز کھیلی جبکہ فائنل میں وہ پنتیس گیندوں پر بیالیس رنز بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

کپتان عمران خان کا سر کالن کاؤڈرے کے ہاتھ سے کرسٹل ٹرافی لینا پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے یادگار لمحہ سمجھاجاتا ہے۔

سنوکر
محمد یوسف 1998 میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے پہلے پاکستانی بھی بنے

محمد یوسف سنوکر کے عالمی چیمپئن (جوہانسبرگ، سنہ 1994)

محمد یوسف پاکستان کے سب سے تجربہ کار سنوکر کھلاڑی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

پرسکون انداز میں کھیلنے والے محمد یوسف نے 1994 ء میں جوہانسبرگ میں منعقدہ ورلڈ امیچر سنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں آئس لینڈ کے جوہانسن کو نوکے مقابلے میں گیارہ فریم سے شکست دے کر پہلی بار پاکستان کو سنوکر کی دنیا میں ورلڈ چیمپئن بنوایا۔

محمد یوسف 1998 میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے پہلے پاکستانی بھی بنے۔ 2006 میں انھوں نے ورلڈ ماسٹرز چیمپئن شپ بھی جیتی جس کے فائنل میں انہوں نے آسٹریلیا کے گلین ولکنسن کو شکست دی تھی۔

پاکستان
جان شیر خان نے آٹھویں اور آخری بار ورلڈ اوپن 1996 میں کراچی میں جیتی۔ فائنل میں ان کے مدمقابل آسٹریلیا کے راڈنی آئلز تھے جنہیں وہ چار گیمز میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے

جان شیر خان کا آٹھواں ورلڈ ٹائٹل (کراچی، سنہ 1996)

جان شیر خان اپنی فتوحات اور کارکردگی کے اعتبار سے جہانگیرخان سے کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔

وہ جہانگیرخان کا دس برٹش اوپن ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ نہ توڑ سکے اور جب ان کا کریئر اختتام کو پہنچا تو وہ برٹش اوپن چھ مرتبہ جیت چکے تھے لیکن انھوں نے سب سے زیادہ آٹھ مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا منفرد اعزاز ضرور حاصل کیا ہے۔

جہانگیر خان چھ بار ورلڈ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔

جان شیر خان نے آٹھویں اور آخری بار ورلڈ اوپن 1996 میں کراچی میں جیتی۔ فائنل میں ان کے مدمقابل آسٹریلیا کے راڈنی آئلز تھے جنہیں وہ چار گیمز میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

جان شیر خان کو اگلے سال کوالالمپور میں اپنے عالمی اعزاز کا دفاع کرنا تھا لیکن ملائشین بیوی کی جانب ہونے والی قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے وہ ملائشیا نہ جا سکے اس طرح بغیر کھیلے انہیں اپنے عالمی اعزاز سے محروم ہونا پڑا۔

جان شیر خان کا کریئر اسوقت اختتام کو پہنچا جب انہوں نے گھٹنے کے آپریشن کے لیے لندن کے بجائے لاہور کو ترجیح دی اور گھٹنے کی تکلیف دور نہ ہوسکی اور انہیں ریٹائر ہونا پڑا۔

انھوں نے چند سال بعد کھیل میں واپس آنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

پاکستان
پاکستان نے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو سات رنز سے ہرایا جس میں شاہد آفریدی کی نصف سنچری اور دو وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کا عمل دخل نمایاں تھا

پاکستان ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن (انگلینڈ، 2009)

2007 ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل دلچسپ مقابلے کے بعد بھارت سے ہاری تھی لیکن دو سال بعد اس نے یونس خان کی قیادت میں ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

پاکستان نے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو سات رنز سے ہرایا جس میں شاہد آفریدی کی نصف سنچری اور دو وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کا عمل دخل نمایاں تھا۔

فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی ۔ شاہد آفریدی نے ایک بار پھر فتح گر کا کردار ادا کیا اور ناقابل شکست نصف سنچری بناکر مسلسل دوسرے میچ میں مین آف دی میچ رہے۔

اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی بولرز کی کارکردگی بہت عمدہ رہی ۔ عمرگل تیرہ وکٹوں کے ساتھ سرفہرست رہے جبکہ سعید اجمل نے بارہ اور شاہد آفریدی نے گیارہ وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان
اس جیت میں فخرزمان کی سنچری اور محمد عامر کی تین وکٹوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی جیت (انگلینڈ، سنہ 2017)

یہ ایک ایسا ٹورنامنٹ ہے جسے پاکستانی ٹیم انیس سال سے جیتنے کی کوشش کررہی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوپارہی تھی۔ سرفراز احمد کی قیادت میں اس کی یہ کامیابی اتار چڑھاؤ کے بعد ممکن ہو سکی۔

سری لنکا کے خلاف تین وکٹوں کی جیت نے اسے سیمی فائنل میں پہنچایا جہاں اس نے انگلینڈ کو آٹھ وکٹوں سے ہرایا۔

فائنل میں پاکستانی ٹیم کا مقابلہ بھارت سے تھا جس سے وہ پہلا میچ ہاری تھی لیکن فائنل میں اس نے 180 رنز کی بھاری جیت سے روایتی حریف کو آؤٹ کلاس کردیا۔

اس جیت میں فخرزمان کی سنچری اور محمد عامر کی تین وکٹوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔