پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت: گاڑیاں زیادہ فروخت ہونے کا مطلب معیشت میں بہتری ہے؟

کراچی میں کاروبار کرنے والی تارا عذرا داؤد نے حال ہی میں ہنڈا کمپنی کی ایک سیڈان کار خریدی ہے۔ ان کے پاس پہلے بھی یہی کار موجود تھی تاہم انھوں نے نئے ماڈل کی کار خریدنے کو ترجیح دی۔

تارا نے بتایا کہ انھیں ہنڈا کے سیفٹی فیچرز یعنی حفاظتی خصوصیات پسند ہیں اور نئے ماڈل کی کار میں وہ زیادہ بہتر ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے نئی کار خریدی ہے۔

بی بی سی کے لیے انٹرویو میں تارا نے بتایا کہ ویسے تو وہ کوئی دوسری لگژی گاڑی بھی خرید سکتی تھیں مگر ہنڈا کار خریدنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں آپ ’زیادہ نمایاں‘ نظر نہیں آتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ بہت زیادہ مہنگی گاڑی میں گھوم رہے ہوں تو لوگوں کی نظروں میں آ جاتے ہیں۔ لیکن ہنڈا اور اس کے برابر کی دوسری کمپنیوں کی بہت زیادہ گاڑیاں سڑکوں پر نظر آتی ہیں۔‘

ان کے مطابق موجودہ حالات میں یہ کار ’حفاظتی لحاظ سے بھی بہتر ہے اور کام کی ضرورت کے لیے بھی مناسب ہے۔‘

دوسری جانب کراچی کے متمول علاقے ڈیفنس میں رہائش پذیر ملک اسحاق نے گذشتہ دنوں ایک مہنگی ایس یو وی گاڑی (یعنی سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل) بُک کرانے کی کوشش کی تاہم انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان، گاڑیاں
،تصویر کا کیپشنحیران کن طور پر گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہا ہے جب ملک میں معیشت کی حالت بہتر نہیں ہے اور مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے عام افراد شدید متاثر ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملک اسحاق نے بتایا کہ اس گاڑی کی بُکنگ کے لیے پہلے سے ہی اتنے زیادہ آرڈرز موجود تھے کہ ان کا آرڈر بُک نہیں ہو سکا۔ پاکستان کے قوانین کے مطابق ایک ڈیلر کو بُکنگ کے دو ماہ کے اندر اندر گاڑی کی ڈیلیوری کرنا ہوتی ہے۔

اسحاق نے بتایا کہ انھیں نئی گاڑی رکھنے کا شوق ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے اس گاڑی کو خریدنے کا ارادہ کیا تھا۔

سندھ کے شہر ٹنڈو اللہ یار کے رہائشی فیصل سجاد نے بھی چند ہفتے پہلے ایک نئی کار خریدی ہے۔ فیصل سجاد کا خاندان زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے۔

فیصل نے بتایا کہ اس سال ان کی گنے اور کیلے کی فصل اچھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے انھیں مالی طور پر بہت فائدہ ہوا ہے۔ فیصل کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک گاڑی پہلے سے موجود تھی تاہم اس کا ماڈل پرانا ہونے کی وجہ سے انھوں نے اسے بدلنے کا سوچا۔

فیصل سجاد ایک درمیانے درجے کے زمیندار ہیں اس لیے انھوں نے ٹویوٹا کرولا گاڑی کا نیا متعارف کرایا جانے والا یارس ماڈل خریدا جو ان کے مطابق ان کی مالی استعداد کے اندر تھا۔

سٹاک مارکیٹ کے کام سے جڑی ایک بروکریج فرم میں نوکری کرنے والے یوسف کو ان کی کمپنی کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں نئی گاڑی خرید کر دی گئی ہے۔

یوسف نے بتایا کہ کمپنی نے انھیں جنوبی کوریا کی کمپنی کِیا موٹرز کی تیار کردہ پکانٹو گاڑی خرید کر دی ہے۔

تارا عذرا داؤد، ملک اسحاق، فیصل سجاد اور یوسف سعید، یہ چاروں فرد پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد ہیں جنھوں نے حال ہی میں نئی گاڑیاں خریدیں یا خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اور نئی گاڑی خریدنے کی خواہشمند وہ اکیلے نہیں ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گاڑیوں کی طلب میں اضافے کی وجہ سے اس مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں 37 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہا ہے جب ملک میں معیشت کی حالت بہتر نہیں ہے اور مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے عام افراد شدید متاثر ہیں۔

گاڑیوں کی فروخت میں اس قدر اضافہ اس لیے بھی حیران کن ہے کہ پاکستان میں اس وقت گاڑیاں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت مہنگی سمجھی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی فروخت میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں مل رہا ہے۔

معیشت، کاروبار اور گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ معیشت کے ایک خاص شعبے میں ترقی کی نشاندہی تو کرتا ہے تاہم یہ معشیت کی مجموعی صورت حال کی عکاسی نہیں کرتا۔

ان ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں ایک وجہ شرح سود میں کمی ہے تو اس کے ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کار بھی سرگرم ہیں جو گاڑیوں کی بڑی تعداد میں بُکنگ کرا کر اسے فروخت کر کے منافع کما رہے ہیں۔

پاکستان، گاڑیاں، معیشت
،تصویر کا کیپشنآٹو سیکٹر کے بعض ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے

گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم پاکستان آٹو میٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کاروں کی فروخت میں موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہنیوں میں 37 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سٹاک مارکیٹ اور معیشت کے دوسرے شعبوں پر کام کرنے والے ادارے ٹاپ لائن کی ریسرچ کے مطابق لکی موٹرز (جو پاما کا رکن نہیں) اس کی کاروں کی فروخت میں بھی 46 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق نئی کمپنی ہنڈائی نشاط نے بھی مارچ کے مہینے میں 723 گاڑیاں فروخت کیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاک سوزوکی کی نو مہینوں میں فروخت میں 13 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ٹویوٹا کار بیچنے والی انڈس موٹرز کی فروخت میں زیر جائزہ عرصے میں 69 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا، تو ہنڈا کار کمپنی کی کاروں کی فروخت میں 54 فیصد اضافے دیکھنے میں آیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال مارچ کے مہینے میں لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گاڑیاں تیار کرنے والے پلانٹس بند کر دیے گئے تھے اور گذشتہ برس اپریل کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت مکمل طور پر رک گئی تھی۔

تاہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد موجودہ مالی سال کے آغاز سے اس شعبے میں بہتری کے آثار پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔

گاڑیوں کی فروخت میں کیوں اضافہ دیکھنے میں آیا؟

پاکستان میں موجودہ مالی سال میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے ڈارسن سیکورٹیز میں ہیڈ آف ریسرچ یوسف سعید نے بتایا اس کی ایک بڑی وجہ شرح سود گرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں 60 سے 65 فیصد گاڑیاں بینک فنانسگ کے ذریعے خریدی جاتی ہیں۔

یوسف سعید کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب مرکزی بینک نے شرح سود کو گرایا تو اس کی ایک فائدہ آٹو سیکٹر کو بھی ہوا جہاں بینک فناننسگ کے ذریعے زیادہ تر کام کیا جاتا ہے۔

کراچی میں گاڑیوں کے ڈیلر اقبال شاہ نے بتایا کہ ان کے شو روم پر 90 فیصد گاڑیاں بینک فناننسگ کے ذریعے بک ہوتی ہیں اور شرح سود گرنے کی وجہ سے اس بکنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈیفنس کے رہائشی ملک اسحاق نے اس سلسلے میں کہا کہ شرح سود میں کمی نے گاڑیوں کی فروخت میں اضافے میں بہت زیادہ مدد دی ہے تاہم اس کے ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کاروں کا بھی بہت زیادہ دخل ہے۔

انھوں نے کہا کہ پراپرٹی کے شعبے کی طرح گاڑیوں کے شعبے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ کار شامل ہیں کیونکہ یہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

پاکستان، گاڑیاں، معیشت
،تصویر کا کیپشناس شعبے میں کئی سرمایہ کار داخل ہوگئے ہیں جو آسانی سے گاڑیاں بُک کرا کر انھیں منافع پر بیچ دیتے ہیں

’آپ کے پاس سرمایہ ہے تو آپ آسانی سے پانچ دس گاڑیاں بک کرا کر اسے منافع پر آگے بیچ سکتے ہیں اور اس شعبے میں اب بہت سارے لوگ کام کر رہے ہیں۔‘

آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود خان نے بھی شرح سود میں کمی کی وجہ سے اس شعبے میں فروخت میں اضافے کو ایک وجہ قرار دیا تاہم اس کے ساتھ انھوں نے اس شعبے میں سرمایہ کاروں کے داخلے کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔

’انھیں اس شعبے میں بہت اچھا ریٹرن نظر آتا ہے کیونکہ پانچ دس گاڑیوں کی بکنگ کرا کر اسے اچھے داموں فروخت کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔‘

ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ شرح سود میں کمی کے ساتھ گاڑیوں کے نئے ماڈل بھی فروخت میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔

مہنگی گاڑیاں کون خرید رہا ہے؟

پاکستان میں اس وقت گاڑیوں کی قیمتیں بہت اوپر چلی گئی ہیں تاہم اس کے باوجود ان کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

مہنگی گاڑیاں کون خرید رہا ہے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مشہود خان نے کہا کہ اس میں تین طبقے شامل ہیں۔

'ایک تو سرمایہ کاری کرنے والے افراد جو اس کی فروخت بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں، جو پانچ دس گاڑیوں کی بکنگ کرا کر وہ منافع پر اسے آگے بیچ رہے ہیں۔ دوسرا طبقہ بزنس مینوں اور صعنت کاروں کا ہے جو بڑی لگژری گاڑیوں ایس یو ویز کی خریداری میں بہت زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں، اور تیسرا طبقہ پاکستان کا کاروباری شعبہ ہے جو اپنے ملازمین کو گاڑیاں دے رہا رہا ہے۔'

انھوں نے کہا کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ ٹیکسٹائل اور معیشت کے کچھ دوسرے شعبے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں اور اچھا منافع کما رہے ہیں جسی کی وجہ سے وہ اپنے ملازمین کو گاڑیاں بھی فراہم کر رہے ہے ہیں جو کم شرح سود کی وجہ سے انھیں سستی پڑ رہی ہیں۔

یوسف سعید نے اس سلسلے میں کہا نئی گاڑیاں اپر مڈل کلاس اور اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد لے رہے ہیں تو اس کے ساتھ کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کو بھی کم شرح سود کی وجہ سے گاڑیاں دی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا اگر گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو تمام ماڈل اور رینج کی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کے مطابق لگژری گاڑیاں یعنی ایس یو ویز بھی زیادہ فروخت ہوئی ہیں جو اپر کلاس ہی افورڈ کر سکتا ہے تو اسی طرح درمیانے رینج کی گاڑیاں جیسے یارس، اور ہنڈا سٹی وغیرہ کی فروخت میں بھی اضافے دیکھنے میں آیا ہے جو درمیانے درجے کے کاروباری افراد اور زراعت پیشہ افراد خرید رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسی طرح کم قیمت والی گاڑیاں جیسے کہ آلٹو اور کلٹس وغیرہ کی زیادہ فروخت کمپنیوں کی جانب دیکھنے میں آئی ہے جو اپنے ملازمین کو یہ گاڑیاں فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اپر مڈل کلاس میں وہ طبقہ بھی شامل ہے جو اپنی ملازمت میں لاکھوں روپے تنخواہ وصول کر رہا ہے اور وہ بھی نئی گاڑیاں خرید رہا ہے

ویمن چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ساؤتھ کی صدر شہناز رمزی نے اس سلسلے میں بتایا کہ خواتین زیادہ تر وہ گاڑیاں خریدتی ہیں جو ان کے کام کے سلسلے میں مدد گار ثابت ہوں۔

پاکستان، گاڑیاں، معیشت
،تصویر کا کیپشنماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ خان کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اضافے سے یہی لگتا ہے کہ ایک خاص طبقہ اس میں شامل ہے جبکہ عام آدمی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ خواتین بہت زیادہ مہنگی گاڑیاں خریدنے میں کم دلچسپی دکھاتی ہیں اور درمیانے درجے کی گاڑی ہی خریدتی ہیں۔

کیا زیادہ گاڑیوں کی فروخت معیشت کی کیا اصل تصویر ہے؟

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کو معیشت میں بہتری کی ایک نشانی قرار دیا ہے اور اس پر ان کا کہنا تھا کہ معیشت اپنے ٹریک پر واپس آچکی ہے۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ خان نے کہا ایک کنزیومر آئٹمز یا اشیا کی طلب میں اضافے اور اس کی زیادہ فروخت کو معیشت کی مجموعی صورت حال کی تصویر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ملک کے پورے سٹرکچر آف گروتھ کو دیکھنا ہوگا کہ وہ ایک عام آدمی کو کیسے متاثر کر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ ایک مخصوص طبقے تک محدود ہے اور ایک فکسڈ آمدن والا فرد اس میں شامل نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دولت کی تقسیم صرف بالائی طبقے تک ہے۔

انھوں نے کہا گاڑیوں کی فروخت میں اضافے سے یہی لگتا ہے کہ ایک خاص طبقہ اس میں شامل ہے جبکہ عام آدمی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر عالیہ نے کہا گاڑیوں کی زیادہ فروخت کو ملک میں معاشی اشاریوں کے ساتھ جانچنا ہوگا کہ کیا واقعی معیشت ترقی کی راستے پر گامزن ہو چکی ہے جس میں معاشرے کے آمدنی کے مختلف طبقوں کے لیے فائدہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *