پاکستان کا جون تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار رہنے کا امکان

اضافی معیار کے تحت کچھ اہداف کی تعمیل کے لیے پاکستان کے مزید 4 ماہ یعنی جون تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں رہنے کا امکان ہے۔

 رپورٹ کے مطابق پیرس میں قائم عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کے پلانری سیشن کا اختتامی اجلاس (آج) جمعہ کو ہونا ہے جس کےایجنڈے میں پاکستان کا جائزہ شامل ہے۔

پاکستان اب انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) سے متعلق 2021 کے ایکشن پلان کو جنوری 2023 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان جون 2018 سے دہشت گردی کی مالی معاونت اور انسداد منی لانڈرنگ کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہے۔تحریر جاری ہے‎

اکتوبر 2021 میں ایف اے ٹی ایف نے اپنے 27 نکاتی ایکشن پلان کے 26 آئٹمز کی تکمیل پر پاکستان کی پیشرفت کو تسلیم کیا تھا لیکن اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کی اعلٰی قیادت کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور ان کے خلاف قانونی کارروائیاں دکھانے کے لیے ملک کو ’اضافی نگرانی کی فہرست‘ میں برقرار رکھا گیا تھا۔

اس وقت ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے کہا تھا کہ پاکستان کو کل 34 آئٹمز کے ساتھ بیک وقت دو ایکشن پلان مکمل کرنے ہیں، اب تک ملک 30 آئٹمز پر عمل یا بڑی حد تک عمل کرلیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف سے منسلک علاقائی گروپ، ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کا منی لانڈرنگ پر 2021 کا تازہ ترین ایکشن پلان بڑی حد تک منی لانڈرنگ پر مرکوز تھا اور اس میں سنگین خامیاں پائی گئی تھیں۔

اس نئے ایکشن پلان کے اب 7 میں سے 4 آئٹمز کی تعمیل یا بڑی حد تک عمل کرلیا گیا ہے۔

اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سی ایف ٹی سے متعلق ایک باقی ماندہ آئٹم کو جلد از جلد حل کرنے میں پیش رفت جاری رکھے اور یہ ظاہر کرتا رہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور مقدمات اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں اور کمانڈروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

خیال رہے کہ جون 2021 میں پاکستان کی 2019 کی اے جی پی باہمی تشخیصی رپورٹ میں سامنے آنے والی اضافی خامیوں کے جواب میں پاکستان نے بنیادی طور پر منی لانڈرنگ سے نمٹنے پر مرکوز ایک نئے ایکشن پلان کے تحت ان اسٹریٹجک خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید اعلیٰ سطح کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مارچ کے اختتام تک انسداد منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی مؤثریت کے لیے اے پی جی کا ایکشن پلان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بھی اسٹرکچرل بینچ مارک ہے۔

حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ 2018 کے اے ایم ایل/ سی ایف ٹی ایکشن پلان میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے نامزد کردہ دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیوں کی مؤثریت سے متعلق بقیہ آئٹم کو مکمل کرے اور2021 کے اے ایم ایل/سی ایف ٹی ایکشن پلان کے تحت منی لانڈرنگ کی باہمی تشخیص کی رپورٹ پر پاکستان کے ایشیا پیسفک گروپ میں نشاندہی کی گئی خامیوں کو فوری طور پر دور کرے۔