پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے سنہ 2021 کامیاب سال لیکن اب بھی کئی معرکے جیتنے ہوں گے

ہر جیت کے بعد شاہین شاہ آفریدی کا اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو پس منظر میں کھڑا کر کے سیلفی بنانے کا منظر اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔

ان کھلاڑیوں کے چہروں پر سجی مسکراہٹ نے پاکستانی عوام کو بھی خوشی کے بہترین لمحات فراہم کیے ہیں۔ انہی خوشیوں کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 2021 سال کو الوداع کہا ہے۔

چھوٹے فارمیٹ میں بڑی کامیابیاں

سال 2021 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس سال اس نے 29 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جن میں سے 20 میں کامیابی حاصل کی اور صرف چھ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ایک سال کے دوران اتنی بڑی تعداد میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ جیتے ہوں۔

پاکستانی ٹیم نے اس سال سات دو طرفہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلیں جن میں اسے صرف انگلینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی ٹیم متحدہ عرب امارات میں منعقدہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اگرچہ سیمی فائنل سے آگے نہ بڑھ سکی لیکن اس کی مجموعی کارکردگی نے اسے اس ٹورنامنٹ کی سب سے مقبول ٹیم بنا دیا تھا۔ گروپ کے ہر میچ میں اس کی کامیابی میں ایک نیا فتح گر کھلاڑی سامنے آتا رہا۔

اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اس کی شاندار کارکردگی کا نقطہ عروج دراصل پہلے ہی میچ میں ظاہر ہو گیا تھا جب اس نے انڈیا کو 10 وکٹوں کی شکست سے دوچار کیا۔ انڈین ٹیم اس سے قبل کبھی بھی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 10 وکٹوں کی ہزیمت سے دوچار نہیں ہوئی تھی۔

بابر اور رضوان کا رنز کا سمندر

سنہ 2021 کو بجا طور پر محمد رضوان اور بابر اعظم کا سال کہا جا سکتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی فتوحات میں ان دونوں بلے بازوں کا کلیدی کردار رہا جس کا اندازہ ان کے چمکتے اعداد و شمار سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

وہ لمحہ سب کو اچھی طرح یاد ہے جب محمد رضوان نے پاکستان سپر لیگ کے دوران میڈیا کے سامنے اس بات کا شکوہ کیا تھا کہ کراچی کنگز کی طرف سے اُنھیں کھیلنے کے مناسب مواقع نہیں مل رہے ہیں جس کے بعد اُنھوں نے ملتان سلطانز میں کپتان کی حیثیت سے نہ صرف شمولیت اختیار کی بلکہ اسے فاتح بھی بنا دیا۔

محمد رضوان نے سنہ 2021 میں کھیلے گئے 29 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 1326 رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور 12 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

محمد رضوان کی شاندار کارکردگی نے انگلش کاؤنٹی سسیکس کو بھی ان سے معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

کپتان بابر اعظم اس سال ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے کے معاملے میں محمد رضوان کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔ اُنھوں نے ایک سنچری اور نو نصف سنچریوں کی مدد سے 939 رنز سکور کیے۔

یہ دونوں حریف بولرز پر کس طرح حاوی رہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان دونوں نے ایک ہی سال میں چھ سنچری شراکتیں قائم کیں جن میں سے پانچ شراکتیں پہلی وکٹ کے لیے تھیں جبکہ ایک سنچری پارٹنرشپ دوسری وکٹ کے لیے تھی۔

یہ دونوں اب آئی سی سی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد ہوئے ہیں۔ بابر اعظم کی نامزدگی سال کے بہترین ون ڈے کرکٹر کے لیے ہوئی ہے جبکہ محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی کے بہترین کرکٹر کے لیے نامزد ہوئے ہیں۔

پاکستان، کرکٹ

شاہین اور حسن علی حریفوں کے لیے آتش فشاں

پاکستانی ٹیم کو جہاں ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کے لیے محمد رضوان اور بابر اعظم سے بھرپور مدد ملی وہیں بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی حریف ٹیموں کے لیے آتش فشاں ثابت ہوئے۔

حسن علی کے لیے یہ سال اس لیے بھی اہم تھا کہ وہ پچھلے کچھ عرصے سے فٹنس مسائل سے دوچار رہے تھے لیکن ان پر قابو پا کر اُنھوں نے پہلے قائدِ اعظم ٹرافی میں اپنی بہترین آل راؤنڈ کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کیا اور پھر پاکستانی ٹیم میں واپس آنے کے بعد ان کا روایتی جنریٹر پوری توانائی کے ساتھ چل پڑا۔

حسن علی نے اس سال صرف آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 41 وکٹیں حاصل کیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں اُنھوں نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کیں جبکہ زمبابوے اور بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں بھی ان کی بولنگ نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

شاہین آفریدی نے سال کا اختتام ٹیسٹ میچوں میں 47 وکٹوں کی متاثر کُن کارکردگی پر کیا جو روی چندرن اشون کی 52 وکٹوں کے بعد اس سال کسی بھی بولر کی ٹیسٹ میچوں میں دوسری بہترین کارکردگی ہے تاہم یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اشون نے اپنی 52 میں سے 46 وکٹیں ہوم گراؤنڈز پر کھیلے گئے میچوں میں حاصل کی ہیں۔

شاہین آفریدی نے ویسٹ انڈیز میں کھیلی گئی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 18 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان، کرکٹ

ون ڈے میں مایوسی برقرار

پاکستانی ٹیم کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی یہ سال اچھا رہا اور اس نے نو میں سے سات ٹیسٹ میچز جیتے لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں یہ سال پاکستان کے لیے خاصا مایوس کُن رہا اور اسے چھ میں سے صرف دو میچز میں کامیابی مل سکی اور چار میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

اس نے جنوبی افریقہ میں سیریز دو ایک سے جیتی لیکن انگلینڈ میں اسے سیریز کے تینوں میچوں میں شکست ہوئی۔

پاکستان کے لیے اطمینان کا واحد لمحہ فخر زمان کی 193 رنز کی اننگز کو کہہ سکتے ہیں جو اُنھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں کھیلی جو اس سال کسی بھی بیٹسمین کی ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔

بڑی ٹیمیں بڑا مسئلہ

پاکستانی ٹیم کی 2021 میں مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس نے ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور بنگلہ دیش کے خلاف سیریز جیتی ہیں لیکن ویسٹ انڈیز میں وہ ٹیسٹ سیریز نہ جیت پائی اور پہلا ٹیسٹ ایک وکٹ سے ہار گئی تاہم دوسرا ٹیسٹ جیت کر اس نے سیریز برابری پر ختم کی۔

سنہ 2022 میں پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیموں کا سامنا کرنا ہے۔ یہ وہ ٹیمیں ہیں جنھیں پاکستانی ٹیم حالیہ برسوں میں انہی کے میدانوں میں جا کر ہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی خاص کر آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم 1995 کے بعد سے کوئی بھی ٹیسٹ نہیں جیت پائی۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے گذشتہ دوروں میں پاکستانی ٹیم کو جیت کے مواقع میسر آئے تھے لیکن وہ ان سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی تھی۔ بڑی ٹیموں کے خلاف آنے والی ٹیسٹ سیریز پاکستان میں ہوں گی لہٰذا پاکستان کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ ان ٹیموں کو ہرا کر ورلڈ ٹیسٹ کرکٹ چیمپیئن شپ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکے۔

پاکستان، کرکٹ

کیا ایک آئیڈیل ٹیم تیار ہو چکی ہے؟

سال 2021 میدان میں ٹیم کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے ضرور یاد رہے گا لیکن میدان سے باہر بھی یہ ٹیم کسی تنازع سے دور رہی اور اس کے کھلاڑیوں کا رویہ مثالی رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کی باگ ڈور احسان مانی سے سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کو منتقل ہوئی۔

احسان مانی بھی وزیرِ اعظم عمران خان سے قریب ہونے کی وجہ سے بورڈ کے چیئرمین بنے تھے اور رمیز راجہ کے چیئرمین بننے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ رمیز راجہ کے لیے ابھی سکون کے دن ہیں کیونکہ وہ خود یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستانی ٹیم نے اچھی کارکردگی نہ دکھائی ہوتی تو میڈیا کی توپوں کا رخ ان کی طرف ہو جاتا۔

رمیز راجہ بڑے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے دعووں کے ساتھ کرکٹ بورڈ میں آئے ہیں۔ آہستہ آہستہ سابقہ دور کے اہم عہدیدار کرکٹ بورڈ سے دور ہوتے جا رہے ہیں جن میں بڑا نام چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا ہے جن کی جگہ اب فیصل حسنین آئے ہیں۔

رمیز راجہ پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کارکردگی پر خوش تھے کیونکہ جس ٹیم پر غیر مستقل مزاج کارکردگی کی چھاپ لگی ہوئی تھی، اس ٹیم نے جو کارکردگی دکھائی وہ کسی معرکے سے کم نہ تھی۔ اس ٹیم نے سب کو اکٹھا کر دیا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان کا کہنا ہے کہ ٹیم کی موجودہ کارکردگی میں غیر معمولی بہتری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کپتان بابر اعظم کو اب کھل کر کپتانی کا موقع مل رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے وہ دو بڑے کرکٹرز مصباح الحق اور وقار یونس کے سائے تلے تھے اور وہ کھل کر ان دونوں کے سامنے بات نہیں کر پا رہے تھے۔ سابقہ مینیجمنٹ بہت زیادہ اثرانداز ہوا کرتی تھی لیکن اب بابر اعظم اپنی اتھارٹی کا استعمال کر رہے ہیں اور تمام فیصلے وہ خود کر رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم پر ایک نظر ڈالیں تو وہ ہر شعبے میں مکمل وسائل کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ ٹیسٹ میں اس کی بیٹنگ لائن عابد علی، بابر اعظم، فواد عالم، اظہر علی اور محمد رضوان کے تجربے سے مالا مال ہے۔ عبداللہ شفیق کا اضافہ خوش آئند ہے ان کے ساتھ ساتھ عمران بٹ، شان مسعود اور امام الحق بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کی وجہ سے منظرنامے میں موجود ہیں۔ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کے ساتھ اب آف سپنر ساجد خان جیسا نیا فتح گر میسر آیا ہے۔

پاکستان، کرکٹ

جہاں تک محدود اوورز کی کرکٹ کا تعلق ہے تو بابر اعظم اور محمد رضوان کے علاوہ حیدر علی، آصف علی، فخر زمان اور خوشدل شاہ موجود ہیں۔ شعیب ملک اور محمد حفیظ کا کریئر اب زیادہ دور جاتا نظر نہیں آتا۔

بولنگ پاکستان کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ تجربہ کار حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی کا ساتھ دینے کے لیے محمد وسیم جونیئر اور شاہنواز دھانی کا ٹیلنٹ پوری طرح عیاں ہو چکا ہے۔ حارث رؤف کا اعتماد اُنھیں آگے بڑھائے جا رہا ہے۔ سپن بولنگ میں شاداب خان اور محمد نواز ٹیم کا حصہ ہیں۔ وقت پڑنے پر عثمان قادر بھی ٹیم میں آ جاتے ہیں البتہ باصلاحیت زاہد محمود ابھی تک پوری طرح موقع ملنے کے منتظر ہیں۔

آنے والے سال میں پاکستان کے لیے ایک جانب ورلڈ ٹیسٹ کرکٹ چیمپیئن شپ بڑا چیلنج ہے تو دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی ایک سخت امتحان ہے۔

مصباح الحق اور وقار یونس کے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے وقتی طور پر میتھیو ہیڈن اور ثقلین مشتاق سے کام ضرور لیا ہے اور ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں لیکن مبصرین کے خیال میں ٹیم کو یقینی طور پر ایک مستقل ہیڈ کوچ کی ضرورت ہے۔

error: