Site icon Dunya Pakistan

پاکستان کو شام اور یمن بننے سے روکیں 

رحمتہ اللہ العالمین ﷺ کی بدولت نصیب ہوئے دین کی من مانی تشریح کے ذریعے مخالفین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے رویے کی میں نے ہمیشہ مزاحمت کی ہے۔میرا دل مگر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اس وڈیو کو دیکھ کر شدید دُکھی ہوا جس میں روضہ رسولﷺمیں حاضری کے لئے گئے شاہ زین بگتی اور مریم اورنگزیب پر آوازے کسے گئے۔گلی کے اوباش لونڈوں کی طرح ایک فسادی نے بگتی کے بال نوچے ۔مریم پر ایسا غلیظ لفظ اچھالا جسے دہرانے کی مجھ میں تاب نہیں۔ایسا واقعہ پاکستان کی کسی سڑک یا اجتماع میں بھی سرزد ہوا ہوتا تو ناقابل معافی تھا۔مریم اورنگزیب کی جرأت، بہادری اور حوصلہ کو سلام۔قابل ستائش صبرواعتماد سے وہ اسے برداشت کرگئیں۔

اپنے تئیں حق وصداقت کے علم برادر ہوئے چند جنونیوں نے تاہم مذکورہ واقعات کو نہایت مان سے اپنے فونوں پر ریکارڈ کیا۔ انہیں سوشل میڈیا کے سپرد کرتے ہوئے رعونت بھرے فخر کے ساتھ یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ پاکستانی زائرین کی کثیر تعداد ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کے نمائندوں کو اپنے درمیان پاکر جذبات پر قابو نہ رکھ پائی۔ان کی ایجاد کردہ توجیہہ اندھی نفرت وعقید ت پر مبنی تقسیم کی بدترین مثال تھی۔

ہمارے مقدس ترین مقام پر ہوا واقعہ اگر واقعتا ’’برجستہ‘‘ ہوتا تو شاید اسے نظرانداز کرنے کو کوئی دلیل گھڑی جاسکتی تھی۔فسادیوں کا گروہ مگر جس وقت ہنگامہ آرائی میں مصروف تھا تو عمران خان صاحب کے ایک دیرینہ رفیق اس کی حوصلہ افزائی کرتے بھی نظر آئے۔لندن میں مقیم ان صاحب کو فرطِ جذبات میں ’’چیکو‘‘ بھائی پکارتے ہوئے دادوصول کرنے کی کوشش بھی ہوئی۔ بعدازاں راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراط عصر کے بھتیجے جو قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں سوچ سمجھ کر ریکارڈ کی ویڈیو کے ذریعے مذکورہ واقعہ کی تحسین میں مبتلا پائے گئے۔

’’چیکو بھائی‘‘ اور راشد شفیق کی سعودی عرب میں موجودگی اور ہنگامہ آرائی سے ایک دن قبل کیمروں کے روبرو بقراطِ عصر کی لگائی بڑھک نے کئی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ مدینہ شریف میں ہوا واقعہ ’’برجستہ‘‘ نہیں تھا۔ جنگی بنیادوں پر تیار ہوا ایک منصوبہ تھا جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ’’چیکو بھائی‘‘ لندن اور راشد شفیق پاکستان سے ہنگامی طورپر وہاں پہنچے تھے۔ مقصد اس کا دُنیا کو یہ بتانا تھا کہ ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ میں شامل افراد ہمارے مقدس ترین مقامات پر بھی نظر آئے تو پاکستانی انہیں ذلیل ورسوا کرتے ہوئے وہاں سے بھاگنے کو مجبور کردیں گے۔

مذکورہ واقعہ کی وجہ سے میرا دل تو دُکھی ہوا ذہن مگر مخمصے کا شکار ہوگیا۔ خود کو ذہنی اذیت سے محفوظ رکھنے کی خاطر سوشل میڈیا سے کتراتا رہا۔یہ خدشہ لاحق رہا کہ مذکورہ واقعہ نے غم وغصہ کی جو لہر بھڑکائی ہے اس میں ٹویٹ وغیرہ لکھ کر حصہ ڈالنے کو مجبور نہ ہوجائوں۔

عمران خان صاحب کا اخلاقی فرض تھا کہ مذکورہ واقعہ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی اس کی پرخلوص مذمت فرمادیتے۔انہوں نے مگر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ان کی خاموشی نے تحریک انصاف کے دیگر رہ نمائوں کو عذرگناہ بدتراز… والی تاویلات پیش کرنے کو اُکسایا۔اصرار کرتے رہے کہ جوکچھ بھی ہوا ’’برجستہ‘‘ تھا۔

سعودی حکومت نے ازخود مذکورہ واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ وہاں قوانین بھی بہت سخت گیر ہیں۔ ہلڑبازی کے چند ذمہ داروں کی گرفتاری کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔عمران مخالف جماعتوں کے حامی مگر اس سے مطمئن نہیں ہوئے۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو ’’بزدل‘‘ کے طعنے دیتے رہے۔یہ سوال بھی کئی لوگوں کی جانب سے تواتر سے اٹھایا گیا کہ اگر حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ان کی جماعت’’اپنے لوگوں‘‘ کی تذلیل کرنے والے افراد کو لگام نہیں ڈال سکتی تو وہ اس کی حمایت میں ہلکان کیوں ہوں۔

حکومت’’انتقام‘‘ کے الزام سے بچنے کے لئے لیت لعل سے کام لیتی رہی۔ملک بھر کے کئی شہروں میں تاہم چند لوگ مذکورہ واقعہ کو بنیاد بناتے ہوئے ان دفعات کے تحت مقدمات چلانے کی درخواستیں دینا شروع ہوگئے جن کا ذکر کرتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایسے ’’مقدمات‘‘ نے 2014سے ٹی وی سکرینوں پر چھائے کئی سٹاراینکرز کی زندگی اجیرن بنانا شروع کردی تھی۔اس کے بعد 2017میں انتخابی قوانین میں متعارف ہوئی ایک ترمیم کی بے بنیاد تشریح کرتے ہوئے راولپنڈی ہی کے بقراطِ عصر نے ایسی زہریلی فضا بنائی جو نواز شریف صاحب پر لاہور کے ایک دینی مدرسے میں جوتا اچھالنے کا سبب ہوئی۔ احسن اقبال وزیر داخلہ ہوتے ہوئے بھی گولی کی زد میں آئے۔ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی اچھالی گئی۔بالآخر فیض آ باد میں دھرنا ہوا جس کے روبرو ہماری ریاست ڈھیر ہوئی نظر آئی۔

تحریک انصاف اور چند ٹی وی چینل مذکورہ واقعات کی واضح مذمت کے بجائے اپنے ناپسندیدہ افراد پر اچھالے ’’دین مخالف‘‘ الزامات کا دفاع کرتے رہے۔ میں بدنصیب ان دنوں بھی ہاتھ باندھ کر ’’مکافاتِ عمل‘‘ کی حقیقت یاد دلاتا رہا۔ آج کی حکومت سے بھی یہ التجا کرنے کو مجبور ہوں کہ مدینہ شریف میں ہوئے واقعہ کو نفرت وغصے کی خونی لہر میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

دورِ حاضر میں سی سی ٹی وی،ٹیلی فون ریکارڈز اور لوگوں کی نقل وحرکت معلوم کرنے کے جدید ترین آلات دنیا کی کمزور ترین حکومتوں کو بھی میسر ہیں۔سعودی حکام کی معاونت سے بآسانی یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان کے ملک میں جو ہلڑبازی ہوئی وہ ’’برجستہ‘‘ تھی یا کسی سوچے سمجھے منصوبے کا شاخسانہ۔اس ضمن میں ٹھنڈے ذہن کے ساتھ جو معلومات جمع ہوں وہ مدینہ شریف میں ہوئے واقعہ کے ذمہ دار افراد کو تعزیرات پاکستان کی کئی دیگر دفعات کے تحت کٹہرے میں کھڑا کرسکتی ہیں۔’’شہریوں‘‘ کی جانب سے پیش ہوئی درخواستوں کو نظرانداز کرنا ہی مناسب ہوگا۔

ہمارے میڈیا کے چند ’’ذہن سازوں‘‘ نے مجھ جیسے بے وقعت اور گوشہ نشین ہوئے صحافی کو بھی کئی برسوں سے ’‘’لفافہ‘‘ اور ’’ٹوکرا‘‘ بنارکھا ہے۔اس کے باوجود فریاد ہے کہ وہ صحافی اور چینل جو ان دنوں کی حکومت سے خائف محسوس کررہے ہیں ان کی زندگی کو اجیرن نہ بنایا جائے ۔’’بدلہ‘‘ لینے کی تڑپ ہر اعتبار سے ’’جبلی‘‘ ہے۔ آدمی مگر ’’فطری‘‘ اور ’’جبلی‘‘ خواہشات اور ردعمل پر قابو پاتے ہوئے ہی ’’انسان‘‘ کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔عمل اور ردعمل کے دائرے سے خدارا نکلنے کی کوشش کیجئے۔ برداشت کے رویے کو ہمارے معاشرے کے لئے اجتماعی انداز میں ’’فطری‘‘ اور ’’جبلی‘‘ بنانا ہوگا۔ پاکستان کو شام اور یمن کی راہ پر مت دھکیلیں۔

Exit mobile version