پاکستان کو چین سے کووڈ ویکسین کی مزید ساڑھے 15 لاکھ خوراکیں موصول

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا خصوصی طیارہ چین سے سائنو ویک ویکسین کی ساڑھے 15 لاکھ خوراکیں لے کر اسلام آباد پہنچ گیا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کھیپ 'چین سے ویکسینز خریداری کے لیے ہوئے معاہدے کا حصہ ہیں'۔

بیان میں بتایا گیا کہ تمام وفاقی اکائیوں کی ضرورت کے اعتبار سے انہیں ویکسین منتقل کرنے کے تمام اقدامات کرلیے گئے ہیں۔

ساتھ ہی این سی او سی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مزید 20 سے 30 لاکھ چینی ویکسینز کی آمد آئندہ ہفتے تک متوقع ہے جس کے بعد مسلسل فراہمی کا سلسلہ ہوگا۔

این سی او سی کے بیان میں کہا گیا کہ چین نے پاکستان کے آزمائے ہوئے دوست کی حیثیت سے ویکسین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے۔

خیال رہے کہ ویکسین کی خوراکیں ایسے وقت میں پاکستان آئی ہیں جب ملک کو ویکسین کی قلت کا سامنا ہے اور کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی کے بڑی ویکسینیشن سینٹرز میں یا تو ویکسینیشن کا عمل معطل کردیا گیا یا سست روی کا شکار ہے۔

نتیجتاً یومیہ ویکسینیشن کی تعداد جو کہ رواں ماہ کے آغاز میں 4 لاکھ تھی اس میں 40 فیصد تک کمی آئی ہے۔ strong text مزید پڑھیں: کووِڈ ویکسین کی قلت، اپوزیشن کی حکومت پر تنقید

محکمہ صحت پنجاب کے ایک عہدیدار نے ڈان کو تصدیق کی کہ لاہور کے 3 سینٹرز کے سوا صوبے میں تمام ویکسینشین مراکز ویکسین کی قلت کی وجہ سے گزشتہ 3 روز سے بند ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں بھی ویکسین کی قلت کے باعث تمام ویکسینیشن مراکز اتوار کے روز بند تھے، قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ 225 موبائل ویکسینیشن یونٹس بند کردیے گئے ہیں جبکہ 60 نجی ہسپتالوں کو ویکسینیشن لگانے کی سہولت بھی عارضی طور پر بند کردی ہے۔

رواں ہفتے ریکارڈ ویکسینیشن

دریں اثنا وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ رواں ہفتے کے دوران ویکسین کی 23 لاکھ سے زائد خوراکیں لگائی گئیں جو ایک ریکارڈ ہے۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران یومیہ اوسطاً 3 لاکھ 32 ہزار 877 ویکسین لگائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'آج 15 لاکھ ویکسینز پہنچنے اور آئندہ 10 روز میں مزید 50 لاکھ خوراکیں آنے سے انشا اللہ آئندہ ہفتے ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگا'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: