پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر قرض فراہمی کے معاہدے پر چین نے دستخط کردیے، مفتاح اسمٰعیل

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ چین کے کنسورشیم بینکوں نے آج پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر کے قرض فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں اور آئی ایم ایف 39 ماہ کے لیے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے حجم اور مدت میں اضافہ کرے گا۔

ٹوئٹر پر جاری پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے معاہدے پر کل دستخط کیے گئے تھے جبکہ دو، تین دن میں یہ رقم موصول ہونے کی توقع ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس معاہدے میں سہولت کاری فراہم کرنے پر چین کی حکومت کے شکرگزار ہیں۔

'امید ہے کہ آئی ایم ایف قرض کی مدت اور رقم میں اضافہ کرے گا'

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض کی قسط جاری کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اسلام آباد کو توقع ہے کہ آئی ایم ایف 39 ماہ کے لیے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے حجم اور مدت میں اضافہ کرے گا۔

دونوں طرف سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کی معیشت مالیاتی بحران کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر ہے کیونکہ معاشی غیر یقینی کی صورتحال نے آئی ایم ایف کی طرف سے قرض کی قسط کو روکا ہوا تھا۔

اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے رائٹرز کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان آنے والے سال میں میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط بنانے کی پالیسیوں پر بات چیت جاری ہے اور مالی سال 2023 کے بجٹ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

پاکستان نے رواں مہینے مالی سال 2022-23 کے لیے 47 ارب ڈالر کا بجٹ پیش کیا ہے جس کا مقصد آئی ایم ایف کی طرف سے انتہائی ضروری قرض کی اقساط دوبارہ شروع کرنے پر راضی کرنے کی کوشش میں سخت مالی استحکام ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پروگرام کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو بجٹ میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ دونوں فریقوں نے منگل کی رات معاہدہ طے کرنے کے لیے بات چیت کی اور بجٹ اور مالیاتی اقدامات پر اتفاق کیا لیکن پھر بھی مالیاتی اہداف کو مزید پورا کرنے کے لیے اتفاق کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو آئی ایم ایف کے ساتھ بقیہ مذاکرات میں کسی ہچکچاہٹ کی توقع نہیں ہے اور میکرو اکنامک اور مالیاتی اہداف پر ابتدائی یادداشت پیش کرنے اور اس کے بعد ایک سرکاری معاہدے کی توقع ہے۔

دونوں فریقین میں طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر رائٹرز کے پاس موجود نہیں ہے۔

وزیر خزانہ نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ بھی امید ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مدت ایک سال تک بڑھائی جائے گی اور قرض کی رقم بھی بڑھائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے تاحال اس پر عمل نہیں کیا مگر جو مذاکرات ہوئے ہیں اس کی بنیاد پر امید ہے کہ ایسا ہوگا۔

رواں سال اپریل میں جب وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے حکام کے ساتھ ملے تو انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کی مدت اور مالیت میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان نے 2019 میں آئی ایم ایف پروگرام میں دستخط کیے تھے لیکن آج تک صرف نصف فنڈز ہی جاری کیے گئے ہیں کیونکہ اسلام آباد نے پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے مستقل کاوشیں کی ہیں۔

آئی ایم ایف کی طرف سے آخری قسط فروری میں جاری ہوئی تھی اور اگلی قسط مارچ میں نظرثانی کے بعد آنی تھی، لیکن حکومت سے برطرف وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں مہنگی حد متعارف کروائی جس سے مالیاتی اہداف اور آئی ایم ایف پروگرام تعطل کا شکا ہوگیا تھا۔

پاکستان کی نئی حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کردیا ہے اور تین ہفتوں کے اندر ایندھن کی قیمتوں میں 70 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.