پاکستان کی ایک اور جیت

قوموں کی تاریخ کے پھیلے ہوئے منظر نامے میں پاکستان جیسے کم عمر ملک نے جہاں بہت سے صدمے سہے، مصیبتیں جھیلیں، وہاں کئی تاریخی کامیابیاں بھی اُس کا مقدر بنیں۔اِس ملک میں انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کی منفرد تاریخ ہے۔پاکستان میں اب تک ہونے والے تمام انتخابات پر مختلف سیاسی جماعتوں اور گروہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ 1970ء کے عام انتخابات کے بارے میں یہ تأثر عام ہے کہ وہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھے، مگر اُن کی حقیقت بھی ڈھکی چھُُپی نہیں اور اُن کے یک طرفہ ہونے کا شک دور کرنے کے لئے اردو ڈائجسٹ 71۔ 1970ء کے شماروں میں چیف ایڈیٹر الطاف حسن قریشی کی تحریروں سے خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔پھرانتخاب صرف ووٹ ڈالنے کے عمل کا نام نہیں، بلکہ یہ پورا پیکج ہے جس کے نتیجے میں مُلک میں پُر امن انتقالِ اقتدار ہوجائے نیز اُس کے نتیجے میں امن و سلامتی اور ترقّی و خوشحالی کی راہیں کھلیں۔ 1970ء کے انتخابات کا اِس حوالے سے جونتیجہ نکلا، وہ سب پر عیاں ہے۔
مارچ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں ایک اورقومی انتخابات ہوئے۔ 7مارچ کو قومی اسمبلی کے لئے ووٹنگ ہوئی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب قرار پائی۔مگرمفتی محمود کی صدارت میں حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحادنے دھاندلی کے شدید الزامات لگاتے ہوئے10 مارچ کو ہونے والی صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔چار مہینے حکومت کے خلاف بھر پور عوامی تحریک چلی۔ شہر شہر، قصبہ قصبہ دھاندلی کے خلاف، حکومت سے استعفیٰ اور نظامِ مصطفی کے نفاذ کے مطالبے پر عوامی جلسے اور جلوس نکلتے رہے۔ سیاسی کارکن جیل گئے اور کچھ شہروں میں جلوس پر فائرنگ کے نتیجے میں اموات بھی ہوئیں۔ حکومت اور حزبِ اختلاف میں مذاکرات بھی ہوتے رہے، لیکن نتیجہ 5جولائی 1977ء کو مارشل لاء کی صورت میں نکلا۔ اگلا منظر بھٹو کی پھانسی کی صورت میں کھلا جس کے نتیجے میں پاکستان میں غربت، جہالت، انصاف کی عدم فراہمی، آبادی میں اضافے پر کنٹرول اور صنعتی ترقی جیسے اہم مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ قوم بھٹو اور اینٹی بھٹو، دو گروہوں، میں ایسی تقسیم ہوئی کہ آج بھی کسی نہ کسی طور یہ خلیج موجود ہے اوراِس کے مضمرات پاکستان ابھی تک بھکت رہا ہے۔ ریفرنڈم، غیر جماعتی انتخابات، مقبول سیاسی قیادت کی در بدری، جونیجو حکومت کی بر طرفی وغیرہ جیسے مسائل مذکورہ واقعات کا شاخسانہ ہیں جن کے نتیجے میں پاکستان ترقی کے سفر میں کئی عشرے پیچھے رہ گیا۔
11مئی 2013ء کو ایک اور قومی انتخابات ہوئے جو ملک میں آئینی اصلاحات کے نتیجے میں قائم مرکزی اور صوبائی عبوری حکومتوں نے کروائے۔ واضح رہے کہ آئینی بند و بست کی روشنی میں یہ عبوری حکومتیں حزبِ اقتدار اور اختلاف کی مشاورت سے قائم ہوئیں نیز چیف الیکشن کمیشن کا تقرر اِسی فارمولے پرہوا۔یہ انتظام بذات خود پاکستان میں جمہوری نظام کی مضبوطی اور مختلف پارٹیوں کی طرف سے ایک دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے کے نتیجے میں ہی رو بہ عمل آسکا۔انتخابات کے نتیجے میں ملکی تاریخ میں پہلی بار عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے،جہاں جس پارٹی نے زیادہ نشستیں جیتیں،وہاں اپنی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی۔ چنانچہ مرکز، پنجاب اور بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور اُس کے اتحادیوں، خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کی۔ اِسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے،کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں نے اعلیٰ اقدار کی بنیاد رکھنے میں اپنا حصّہ ڈالااور ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ایک دوسرے کا مینڈیٹ ہتھیانے کی بجائے اپنے اپنے حصّے پر قناعت کی۔اِس عمل سے حکومت سازی کے عوامی استحقاق کی توثیق ہوئی اور ملک کی تمام اکائیوں کا اُس پر اعتماد بڑھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی سربراہی میں 2013ء کے انتخابات میں بھر پور شرکت کی، پرجوش انتخابی مہم چلائی اور ہماری انتخابی تاریخ میں اِس کریڈٹ کے حقدار قرار پائے کہ نوجوانوں خاص طور پر کھاتے پیتے گھرانوں کے پڑھے لکھے افراد کو جو عام طورپر انتخابات سے بے تعلق رہتے تھے، مرکزی سیاسی دھارے میں لے آئے۔ اُن کا میرٹ اور شفّافیّت کا نعرہ ہمہ گیر رہاجس کا پاکستان میں میرٹ کے نفاذ میں ہمیشہ مثبت رول رہے گا۔عمران خان نے نتائج کے اعلان پر اُن کو تسلیم کیا، اُنہی کی روشنی میں خیبرپختونخوا میں حکومت بنائی اور امور مملکت میں مصروف ہو گئے۔ مگر ایک سٹیج پر اُنہوں نے عبوری حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے نواز شریف کے حق میں منظم دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے بھر پور احتجاجی تحریک کا اعلان کیا۔پروگرام یہ بنا کہ 14 اگست 2014ء کو عمران خان اور علّامہ طاہرالقادری علیحدہ علیحدہ لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ دس لاکھ افراد اور ایک لاکھ موٹر سائیکلوں کے جلوس کے ساتھ اسلام آباد کا رُخ کریں گے۔ عمران خان کا مطالبہ حکومت سے استعفیٰ اور نئے الیکشن کا انعقاد ہو گا، جب کہ علامہ صاحب ’سیاست نہیں ریاست‘ کا نعرہ لگائیں گے۔ چنانچہ مذکورہ دونوں جماعتوں نے دستیاب چند ہزار افراد اور بیسیوں موٹر سائیکلوں سے یہ جلوس لاہور سے شروع کیا جو راستے میں مختلف شہروں میں لیڈروں کے خطاب سُنتا اگلے روز اسلام آباد میں کشمیر روڈ پر جا کے خیمہ زن ہو گیا۔ پھروہ سرکتا سرکتا قومی اسمبلی کے سامنے ڈی چوک جاپہنچا۔ وہاں دو کنٹینر ایستادہ تھے، ایک پر علامہ صاحب اپنے مرید نما حامیوں دوسرے پر جناب عمران خان اپنے فین نما سیاسی ورکروں کے سامنے خطابت کے جوہر دکھاتے اور حکومتِ وقت کو للکارا کرتے، ساتھ ہی شرکائے دھرنا کی دل پشوری کے لئے موسیقی اور قوالی کے سائیڈ پروگرام جاری رہتے۔ مخالفین کے لئے نا مناسب زبان کا استعمال سیاسی عوامی احتجاج میں پہلی بار منظرِ عام پر آیا۔پھرایک دن دھرنا پارٹی نے انتہائی اقدام کے طور پر پاکستان ٹیلی ویژن اورپارلیمنٹ ہاؤس جیسی ریاستی وقار کی علامتوں پر یلغارکردی۔اہلِ پاکستان نے اقبال اور قائدِ کے پاکستان کو یوں جگ ہنسائی کا نمونہ بنتے دیکھا۔
1977ء اور 2013ء میں منعقدہ دونوں انتخابات پر مخالف پارٹیوں نے دھاندلی کی شکایت کی اور حکومتِ وقت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریکیں چلائیں۔ دونوں کے موازنے سے پتہ چلتا ہے 77ء میں نو جماعتوں نے مل کر تحریک چلائی، چونکہ ساری پارٹیاں اپنے منشور کے حوالے سے ایک پیج پر نہیں تھیں،اِس لئے اُن کی تحریک میں کشتیاں جلا کر آگے بڑھنے والا جذبہ مفقود تھا۔ پھر یہ کہ اُس زمانے میں بریکنگ نیوزدینے، احتجاجی قائدین کی تقاریر لائیو اور مکمل نشر کرنے والا میڈیا نہیں ہوا کرتا تھا۔ انفرمیشن ٹیکنالوجی نامی جن بھی ابھی بوتل سے باہر نہیں آیا تھا،چنانچہ عوام کو صرف بی بی سی سے احتجاجی خبروں کی بھنّک پڑتی، جن میں ہیجان کا عنصرمفقود ہوتا تھا۔ سوشل میڈیا کا تصور بھی نہیں تھا۔ پھرکثیر وسائل اور سرمایہ کی مالک حکومت وقت کے مقابلے میں سرمائے کی کمی سے دوچار حزبِ اختلاف تھی جو چندے اور عطیات سے کام چلا رہی تھی۔ تارکینِ وطن کی مالی سپورٹ سے بھی77ء کی احتجاجی تحریک محروم تھی۔پڑھے لکھے آسودہ حال نوجوانوں کا بھی کوئے سیاست میں داخلہ نہیں ہوا تھا۔ مگراِن مشکلات کے باوجود چار ماہ کے عرصے کی ملک کے مختلف حصوں میں جگہ جگہ بکھری تحریک کا نقد نتیجہ نکلا کہ 5 جولائی کو ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا۔ حزبِ اختلاف کے لیڈروں کی اکثریت جیلوں میں بھیج دی گئی۔ رائے عامہ پر طرح طرح کی قدغن لگی اور شخصی آزادیاں مصلوب ہو گئیں۔
مذکورہ تحریک کے مقابلے میں 2013 ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف چلنے والی عوامی احتجاجی تحریک کو ایک آئیڈیل ماحول ملا۔ وکلا کا آزاد عدلیہ کی کامیاب تحریک کے بعد مورال بلند تھا، نیز چونکہ اِس کمیونٹی نے کورٹ کچہری سے بالآخر کوئے سیاست میں داخل ہونا ہوتا ہے، اِس لئے اپنے احتجاجی تجربہ کی مشق کے لئے بے تاب تھے، چنانچہ نعرہئ مستانہ لگا کے میدان میں اُتر گئے اور احتجاج کو ابتدا ہی میں انتہا تک پہنچا دیا۔ایسا پہلی بارہو رہا تھاکہ احتجاجی تحریک چلانے والی قوت کے پاس بھی صوبائی حکومت تھی، اِس لئے وسائل کی 77ء والی کمی کا اُنہیں سامنا نہیں تھا، پھر تارکینِ وطن کی بھرپور امداد سونے پر سہاگہ ثابت ہوئی، جس نے احتجاج کو ماند نہیں پڑنے دیا۔ 77ء کی تحریک میں فکرِ روزگار کے مارے عوام کے مقابلے میں 2013ء میں خوشحال گھرانوں کے آسودہ حال نوجوانوں کی کمٹمنٹ نے بھی تحریک میں جان ڈال دی تھی۔ انفرمیشن ٹیکنالوجی نے پل پل کی خبر عوام تک پہنچا کے نقیب کا کردار ادا کیا۔ 77ء میں پابند یوں کے شکار پرنٹ میڈیا اور پی ٹی وی کے مقابلے میں سوشل میڈیا، کثیر تعداد میں اخبارات اور لا تعداد پرائیویٹ ٹی وی چینل اور اُن کی احتجاجی لیڈروں کی تقاریرکی لائیو اور مکمل کوریج نے عوام الناس کے دلوں میں جنون بھر دیا۔ بریکنگ نیوز اور ٹاک شوز میں عوامی مزاج آشنا تجزیہ کاروں اور اینکر پرسنز کی حکومت گرائے جانے کی پیش گوئیاں اِس پر مستزاد تھیں، نتیجتاً عوام الناس کو سونامی اسلام آباد کے دامنِ کوہ میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا نظرآیا۔ 77ء کے مقابلے میں موجودہ تحریک میں پر جوش احتجاجی جمع غفیر نے عین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنادیا ہوا تھا، جس سے حکومت پر ہر آن دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔77ء کی تحریک میں صرف احتجاجی جلسوں میں شریک لوگ لیڈران کی تقریریں سن کر جوش میں آرہے تھے، جب کہ 2014ء میں ٹیلی ویژن، موبائل اور انٹرنیٹ کی برکت سے جو جہاں تھا وہیں سے شریکِ احتجاج ہو رہا تھا اور لیڈروں کے خطاب کے زیرِ اثر مبینہ طور پر عوامی مینڈیٹ چرانے والی حکومت کے خلاف کھل کر اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔ اِس سب اشتعال انگیزی کے باوجود تمام فریقوں نے مذاکرات کا راستہ اپنایا، اِس کے کئی دور ہوئے، نتیجتاً پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی شکایت کی چھان بین کے لئے تمام فریقوں کی رضا مندی سے حکومت نے 6 اپریل 2015ء کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو ججوں پرمشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دیا۔ کمیشن نے بڑی عرق ریزی سے اپنے ذمہ داری کو بہ طریقِ احسن انجام دیا اور 22 جولائی کو 85 دن بعد فیصلہ سنا دیا، جسے حکومت کے ساتھ ساتھ شکایت کنندہ فریقوں نے بھی قبول کر لیا۔ یوں شاید پہلی بار پاکستان میں کسی بڑے معاملے کی تحقیقی رپورٹ بر وقت عوام تک پہنچی اور سارے متعلقہ فریقوں نے اُس پر صاد بھی کیا۔ نتیجتاً عوامی بالغ نظری اورسٹیک ہولڈر زکے شعور کی پختگی کی وجہ سے پاکستان اُس انجام سے محفوظ رہا جو اِس طرح کی صورتِ حال میں اُسے 1977ء میں بھگتنا پڑا۔ چنانچہ وطن عزیز نہ صرف پیش آمدہ بحران سے محفوظ رہا، بلکہ عدالت عظمیٰ نے آئندہ پیش آنے والے ایسے کسی بھی بحران کے حل کے آئینی راستے کی نشاندہی بھی کر دی۔ بحران کے حل کی یہ ایسی صورت ہے جس میں سب کی فتح اور پاکستان کی جیت ہے کہ وہ اِس بحران سے سر خرو ہو کے نکلا اور آیندہ کے لئے بھی سب کو خبر ہو گئی کہ ہر بحران کا حل صرف آئین کی پیروی میں ہے، سڑکوں، چوراہوں پر دھرنوں اور قومی املاک پر دھاوے بولنے اور یلغار کرنے میں نہیں۔یوں پاکستان نے ترقّی کا ایک اور زینہ عبور کر لیا، جس کے ثمرات اِسے پسماندگی سے نکال کر خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر دیں گے۔ آئین کی پاسداری سے عالمی برادری میں بھی اُس کے وقار میں اضافہ ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *