پاکستان کی معاشی گراوٹ اورعالم دیگر

معیشت ہمارے ہاں کوئی دلچسپ موضوع نہیں سمجھا جاتا ہے۔مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہمیں معاشیات کے مضمون سے دلچسپی ہو یا کہ بالکل بھی نہ ہو، یہ ہماری اجتماعی قومی زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے۔جن لوگوں کومعاشیات کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہے،ان کی زندگی بھی اقتصادی اتار چڑھاؤ سے اتنی ہی متاثر ہوتی ہے جتنی کسی ماہرمعاشیات کی زندگی متاثرہوتی ہے۔یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ہمارے اہل قلم میں بھی یہ موضوع کبھی مقبول نہیں رہا،جس کی وجہ شائد یہ بھی ہے کہ اردومصنفین میں علمی و ادبی موضوعات پر اظہارخیال کو ترجیح دی جاتی ہے۔مشکل مگر یہ ہے کہ ہماری ترجیحات کی ترتیب سے زمانے کا رخ متعین نہیں ہوتا۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ انہیں سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بعض خواتین وحضرات سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ انہیں سیاست دوراں سے نفرت ہے۔عرض اس بابت یہ ہے کہ کسی کو سیاست سے عدم دلچسپی ہو یا پھر نفرت و بیزاری،آپ کی اجتماعی قومی زندگی اور ملک کے مستقبل پر سیاست کے اثرات اوراہمیت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حتیٰ کہ آپ کی ذاتی زندگیوں پرسیاسی حکومتی پالیسیوں کے اچھے یا برے اثرات سے مفر ممکن ہی نہیں ہے۔ملک میں مہنگائی کی تپش ہر شہری کے گھر پہنچتی ہے اوراگر ارزانی ہوتوآسانی کی ٹھنڈی ہوا بھی ہر فرد محسوس کرتاہے۔
پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تمام معاشی اعشاریے سرنگوں ہیں اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔روپے کی قدراپنی تاریخ کی پست ترین سطح پر اور بے روزگاری ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو پہنچ چکی ہے۔معاشی شرح نموقیام پاکستان کے بعد کبھی بھی منفی میں نہیں تھی مگر گزشتہ برس یہ صفر سے بھی نیچے رہی۔کچھ مہربان موجودہ معاشی زبوں حالی کا سبب کروناوبا کو گردانتے ہیں،مگر عرض یہ ہے کہ یہی کرونا،اسی حشرسامانی کے ساتھ سرحد کے اس پار انڈیااور بنگلہ دیش میں بھی آیا۔بنگلہ دیشی معیشت دنیا کی تیز ترین شرح نموکی حامل سات ممالک میں سے ایک معاشی حقیقت ہے۔سقوط ڈھاکہ کے وقت بنگال کی آبادی ہم سے زیادہ اور معاشی اعتبار سے پچھڑے ہوئے لوگ تھے۔آج معاملہ الٹا ہو گیا ہے۔بنگلہ دیش کی معیشت کاحجم ہم سے سو ارب ڈالر زیادہ ہے۔ان کی ایکسپورٹ ہم سے دو گنا ہوگئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائرپہلے تو دوگنا تھے،اس سال کئی گنا زیادہ ہو گئے ہیں۔اگر موجودہ معاشی رجحان اورسیاسی انتظام برقرار رہتا ہے توقوی امکان ہے کہ معیشت کامجموعی حجم بھی بنگلہ دیش کا ہم سے دوگنا ہو جائے گا۔
اس وقت ہندوستان کی معیشت کا حجم روس،برازیل اور کینیڈاسے بھی بڑھ چکا ہے۔بھارت پونے تین کھرب ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی ساتویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔آئندہ چند ہی سال میں وہ فرانس اور برطانیہ سے بھی معاشی اعتبار سے آگے نکل جائے گا،اگرمعاشی رجحان یہی رہتا ہے۔یعنی دنیا کی پانچویں بڑی معاشی و اقتصادی قوت۔یہ وضاحت یہاں ضروری ہے کہ یہ میرا ذاتی خیال،رائے یا خواہش بالکل بھی نہیں ہے، آئی ایم ایف کے جاری کردہ اعدادوشمار ہیں۔یادرہے کہ دنیا کی پہلے تین بڑی معاشی قوتیں بالحاظ پیداواربالترتیب امریکہ،چین اورجاپان ہیں۔بھارت اس وقت چین اور امریکہ سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے،اس سال کی متوقع شرح نمونو فیصد جبکہ بنگلہ دیش کی موجودہ برس متوقع شرح نموہندوستان سے بھی زیادہ ہے۔یاد رہے کہ امریکہ سات فیصداورچین کی معیشت آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کی اوسط معاشی نموکی شرح چھ فیصد رہنے کی اس برس توقع ہے۔ہمارے ملک کے بارے میں توقع اس اوسط سے بھی آدھی،یعنی تین فیصد رہنے کی ہے۔
ہمارے ہاں عموماًامریکی عسکری قوت اور خارجہ پالیسی زیر بحث رہتی ہے مگرشاذہی امریکہ کا اقتصادی ڈھانچہ اورمعیشت کا حجم ہماری گفتگو کا موضوع بنتا ہے۔حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ امریکی دفاعی طاقت اور خارجی معاملات میں اسکی سفارتی بے پناہ قوت کاسرچشمہ اس کی معیشت ہے۔عالمی منڈی پر امریکی کنٹرول ہے جو اس کے مخالفین کو گھٹنوں کے بل لے آتا ہے۔امریکی ڈالر اب عالمی کاروبار کی کرنسی ہے۔جب ڈالر ایک ملک سے دوسرے ملک کسی بھی بنک کے ذریعے جاتا ہے توپہلے یہ رقم نیویارک کے کسی بھی بنک میں چلی جاتی ہے،امریکی بنک اس رقم کی منتقلی کی اجازت دیتا ہے تو یہ تیسر ے ملک جاتی ہے ورنہ ترسیل ممکن ہی نہیں ہے۔امریکہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے دنیاکی سب سے بڑی معیشت ہے،اس وقت جس کا حجم اکیس کھرب ڈالر ہو گیا ہے۔
بات اگر عسکری قوت اور اسلحے کے مقابلے کی ہوتوسوویت یونین کسی طورپر بھی امریکہ سے پیچھے یاکمترنہیں تھا۔گزشتہ صدی کے بیشترحصے میں وہ امریکہ کے مقابلے کی دفاعی سپر پاوررہا۔سوویت یونین کے ٹوٹنے کے اسباب خالصتاً معاشی تھے۔معیشت روسی کیمونسٹوں سے چل نہیں پا رہی تھی۔ورنہ امریکہ بیس سال بعدافغانستان سے نکلاتواس کی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت تین ہفتے بھی نہیں نکال سکی،جبکہ سوویت یونین دس برس گزار کرجب افغانستان سے نکلا تو اس کی قائم کردہ حکومت تین سال تک بغیر کسی بیرونی امداد کے قائم رہی۔یہاں تک کہ ہمارے جنرل حمید گل نے جب جلال آباد پر حملہ کروایا توبری طرح ناکام ہوئے،حالانکہ روس تو افغانستان سے نکل چکا تھا۔اسی نسبت سے پیرپگاڑاہمارے جنرل حمید گل کو فاتح جلال آباد کہہ کربلاتے تھے مگر یہ تذکرہ پھر کبھی سہی۔سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد منظر یہ تھا کہ روسی کسانوں نے ٹینکوں میں ترمیم کر کے انہیں ٹریکٹرکے طور پر اپنے کھیتوں میں استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔گولے پھینکنے کے پائپ فصلوں میں نکاسی آب کے لئے استعمال ہو رہے تھے۔بکھرنے والے سوویت سماج سے نئی تشکیل پانے والی نوزائیدہ ریاستوں کے پاس اتنااسلحہ تھا کہ اسے تلف کرنامشکل ہو رہا تھا۔قازقستان کے حصے میں آئے ایٹمی اسلحے کو تلف کرنے کے لئے تو اقوام متحدہ نے باقاعدہ اسکی مدد کی،یوں اس کا ایٹمی پروگرام ختم ہوا۔
انیسویں صدی کے سب سے عظیم جرنیل مانے جانے والے نپولین بونا پارٹ،جنہوں نے فرانس کو بام عروج پر پہنچایا،ان کا یہ قول پوری دنیا میں نقل کیا جاتا ہے،”فوجیں پیٹ کے بل چلتی ہیں“یعنی اقتصادی وسائل اور معاشی سہولیات میسر ہوں تب ہی فوجی جوان محاذجنگ پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔بھوکے پیٹ فوج کے لئے آگے کا سفر کرنامحال ہوتا ہے۔ہمارے وزیراعظم سمارٹ بھی ہیں اورسن بانوے کا ورلڈکپ بھی انہوں نے جیتاہے مگرمعیشت چلانے میں وہ مکمل ناکام رہے ہیں۔اپنی معاشی ٹیم میں پے در پے تبدیلیوں کے باوجوداقتصادی شعبے میں ناکامیوں کا یہی سلسلہ آگے چلتا ہوانظر آرہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *