پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ: نوجوان کرکٹرز کن مراحل سے گزر کر انٹرنیشنل سطح پر کھیلتے ہیں؟

پاکستان میں کسی بھی دوسرے کھیل کے مقابلے میں کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت کا ہی اثر ہے کہ عام طور پر بچہ ہوش سنبھالتے ہی بیٹ اور گیند سے دوستی کر لیتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا یہ شوق پروان چڑھتا ہے۔

اکثر نوجوان لڑکے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ یا کم از کم فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں تو انھیں کیا کرنا ہو گا اور وہ کن مراحل سے ہوتے ہوئے اپنے خواب پورے کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں عام طور پر کسی بھی نوجوان کرکٹر کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ تک آنے کے تین بڑے راستے ہیں۔

ابتدائی کرکٹ ظاہر ہے کہ سکول سے شروع ہوتی ہے لیکن سنجیدہ کرکٹ کا پہلا پڑاؤ کلب کرکٹ ہے۔ ابتدا میں لڑکا کسی چھوٹے کلب میں شامل ہوتا ہے اور اس کی کارکردگی اسے کسی بڑے کلب تک لے جاتی ہے جہاں سے وہ سب کی نظروں میں آنا شروع ہوتا ہے۔

کرکٹر کے لیے کلب کرکٹ کے بعد اگلا مرحلہ اس کے اپنے ڈسٹرکٹ اور ڈویژن کی کرکٹ ہے جہاں وہ اچھی کارکردگی کی بنیاد پر صوبائی ایسوسی ایشن کی ٹیم تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

کرکٹ

کرکٹر کے لیے آگے بڑھنے کا دوسرا راستہ انڈر 19 کرکٹ ہے۔ مقامی سطح پر ہونے والی کلب انڈر19 کرکٹ میں کھلاڑی کی عمدہ کارکردگی اسے ٹرائلز کے ذریعے ڈویژن کی سطح پر انڈر 19 تک لاتی ہے اور اگر وہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹرائلز میں کامیاب ہو جائے تو اس کے لیے پاکستان انڈر 19 کے ٹرائلز تک پہنچنا ممکن ہو جاتا ہے۔

ان دو راستوں کے علاوہ اب کسی بھی کرکٹر کے لیے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نے مواقع فراہم کر دیے ہیں جس میں فرنچائزز نے مختلف شہروں میں جا کر ٹرائلز لیے اور انھیں کھیلنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

کوئی بھی نوجوان کرکٹر اگر ان فرنچائز کے ٹرائلز میں سیلیکٹ ہو جاتا ہے تو وہ اسے مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور وہ ان کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں اچھی پرفارمنس دکھا کر پی ایس ایل کے مرکزی دھارے میں شامل ہو سکتا ہے۔

متعدد ایسے کرکٹرز ہیں جو کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ ٹیپ بال کرکٹ سے بھی آگے بڑھ سکیں گے۔ اس کی سب سے بڑی مثال حارث رؤف کی ہے جنھوں نے لاہور قلندرز کے ابتدائی ٹرائلز میں حصہ لے کر آناً فاناً ٹیم میں جگہ بنائی۔

وہ نہ صرف لاہور قلندرز کی ٹیم میں شامل ہوئے بلکہ بگ بیش بھی کھیلنے میں کامیاب ہو گئے اور آج وہ پاکستان کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ ہیں۔

موجودہ نظام میں کرکٹرز کو کتنا معاوضہ مل رہا ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2019 میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کر کے چھ ایسوسی ایشنز کی ٹیموں پر مشتمل فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ متعارف کروایا تھا جس کے تحت اس نے مجموعی طور پر 191 کرکٹرز کو فرسٹ کلاس کرکٹ کے دھارے میں شامل کرتے ہوئے انھیں پانچ مختلف کیٹیگریز میں کنٹریکٹ دے رکھے ہیں جن کے معاوضوں میں اضافہ گذشتہ ستمبر میں کیا گیا تھا۔

پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق اے پلس کیٹگری میں دس کرکٹرز شامل ہیں۔ ہر کرکٹر کو ماہانہ ڈھائی لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔ میچ فیس ڈیلی الاؤنسز اور انعامی رقم کو شامل کر کے یہ آمدنی سالانہ تقریباً 50 لاکھ روپے بن جاتی ہے۔

اے کیٹگری میں 40 کرکٹرز شامل ہیں۔ اس کیٹگری میں ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔

بی کیٹگری میں بھی 40 کرکٹرز شامل ہیں اس کیٹگری میں ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے ہے۔

سی کیٹگری میں 64 کرکٹرز ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 65 ہزار روپے ہے جبکہ ڈی کیٹگری میں شامل 37 کرکٹرز میں ہر ایک کو ایک لاکھ 40 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔

ان تمام 191 کرکٹرز کو پاکستان کرکٹ بورڈ سال بھر میں تقریباً دو کروڑ 11 لاکھ 70 ہزار روپے ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ یہ بھی کہتا ہے کہ نہ صرف فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے ان کرکٹرز کو اچھے پیسے مل رہے ہیں بلکہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر ہونے والی کرکٹ میں بھی کرکٹرز کا خیال رکھا گیا ہے جن میں میچ فیس رہائش اور سفری سہولتیں شامل ہیں۔

ماضی میں یہ تک دیکھنے میں آیا کہ کھلاڑیوں کو ڈریسنگ روم تک میں سونے پر مجبور ہونا پڑا لیکن اب کھلاڑیوں کو مناسب ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔

یونس

پرانا کرکٹ نظام بحال کرنے کا مطالبہ کیوں؟

اگر یہ تمام سہولتیں موجودہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں کرکٹرز کو میسر ہیں تو پھر مختلف حلقوں کی طرف سے ڈپارٹمنٹل یعنی ادارتی کرکٹ کے نظام کو بحال کرنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا ڈھانچہ کیا تھا۔ یہ کب شروع ہوا اور کب اور کیوں ختم کیا گیا؟

پاکستان میں اداروں کی بنیاد پر فرسٹ کلاس کرکٹ کا نظام ستر کی دہائی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے سربراہ عبدالحفیظ کاردار نے شروع کیا تھا جس کے تحت ملک کے تمام بڑے بینکوں اور پی آئی اے وغیرہ نے اپنی کرکٹ ٹیمیں بنا کر کھلاڑیوں کو نہ صرف روزگار فراہم کیا بلکہ انھیں کھیلنے کے بہترین مواقع بھی دیے تھے۔

یہ ادارے پاکستان کی کرکٹ میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے تاہم حالیہ چند برسوں میں ملک کی معاشی صورتحال کی وجہ سے متعدد اداروں کی ٹیمیں ختم ہونا شروع ہو گئیں۔

اس صورتحال کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب عمران خان اقتدار میں آئے اور انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کو علاقائی یا صوبائی سطح کے طریقہ کار پر استوار کرتے ہوئے اداروں کی ٹیموں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے سے باہر کرنے کا فیصلہ کر ڈالا۔

مئی 2019 میں جب عمران خان کے کہنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے چھ ایسوسی ایشن کی ٹیموں کی فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ مرتب کیا تو اس وقت پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں آٹھ اداروں کی ٹیمیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہی تھیں۔

ان میں حبیب بینک، نیشنل بینک، پی ٹی وی، زرعی ترقیاتی بینک، سوئی سدرن گیس، سوئی ناردن گیس، واپڈا اور کے آر ایل شامل تھیں۔ یہ آٹھ ٹیمیں آٹھ ریجنل ٹیموں کے ساتھ فرسٹ کلاس کرکٹ کا حصہ تھیں۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے بارے میں عمران خان ہمیشہ سے ایک سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ اسے پاکستان کی کرکٹ کی ترقی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

وہ ہمیشہ سے علاقائی اور شہری سطح پر ٹیموں کے حامی رہے ہیں۔ وہ جب وزیراعظم بنے تھے تو اسی وقت یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو زیادہ دیر رہنے نہیں دیں گے اور ایسا ہی ہوا پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے حکم پر ملک میں ہونے والی فرسٹ کلاس کرکٹ سے اداروں کی ٹیموں کو ختم کر کے صوبوں کی بنیاد پر چھ ٹیمیں بنا دیں۔

عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں وہیں پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام بھی موضوع بحث بن گیا ہے کہ کیا عمران خان کے جانے کے بعد اسے اس کی پرانی شکل میں واپس لایا جاسکتا ہے؟

سوال یہ پید ہوتا ہے کہ اگر موجودہ فرسٹ کلاس ڈھانچے میں ان کرکٹرز کو کھیلنے کے مواقعوں کے ساتھ اچھے معاوضے بھی مل رہے ہیں تو پھر یہ مطالبہ کیوں زور پکڑ رہا ہے کہ اداروں کی بنیاد پر ہونے والی کرکٹ کو بحال کیا جائے؟

اقبال

کرکٹ انا پرستی کی بھینٹ چڑھ گئی

سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ بات سمجھنی ہو گی کہ کرکٹ صرف ایک شوق نہیں ہے بلکہ یہ ایک انڈسٹری اور کرکٹرز کا ذریعہ معاش بھی ہے۔

پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز صرف بڑے شہروں سے تعلق نہیں رکھتے ہیں بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا درجہ رکھنے والے ان اداروں نے سینکڑوں کی تعداد میں ان کرکٹرز کو کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار بھی مہیا کر رکھا تھا اور یہ سسٹم کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ 'ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں نوجوان کرکٹرز کو اچھا مستقبل نظر آتا تھا۔ والدین اسی لیے اپنے بچوں کو کھیلنے کی اجازت دے دیتے تھے۔ آج تو صورتحال بالکل بے یقینی سی ہے۔‘

اقبال قاسم کہتے ہیں کہ ’آج جو لوگ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے خلاف باتیں کر رہے ہیں کیا انھوں نے خود اداروں میں رہتے ہوئے کرکٹ کے نام پر مراعات حاصل نہیں کیں؟ کیا عمران خان خود اپنے دور میں پی آئی اے اور داؤد انڈسٹریز سے نہیں کھیلے؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے علاوہ تمام ہی سابق ٹیسٹ کرکٹرز اداروں سے کھیلتے رہے ہیں۔ ان سابق کرکٹرز کو ملازمتوں کی ضمانت حاصل تھی اسی لیے وہ یکسوئی کے ساتھ کھیلتے رہے اور ان میں کئی ایسے کرکٹرز بھی تھے جن کی تعلیم زیادہ نہیں تھی لیکن ان کے کھیل کی وجہ سے انھیں ترقیاں ملیں۔‘

اقبال قاسم کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے اپنی بیشتر کرکٹ انگلینڈ میں کھیلی لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی کرکٹ کا ایسا ہی نظام ہو جائے لیکن پاکستان اور برطانیہ کے معاشرتی اور معاشی نظام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘

اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ کرکٹ ٹیموں والے اداروں نے کھلاڑیوں کو مستقل نہیں بلکہ کنٹریکٹ پر رکھا ہوا تھا یہ صورتحال صرف کرکٹ کی نہیں ہے بلکہ اب تمام دوسرے اداروں میں بھی کنٹریکٹ پر ملازمتیں دی جاتی ہیں جہاں پنشن کا سسٹم موجود نہیں ہے۔‘

اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ’صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ حکومتی احکامات کی وجہ سے اداروں نے دیگر کھیلوں کی ٹیمیں بھی ختم کر دی ہیں۔ اگر فرسٹ کلاس کرکٹ سسٹم میں تبدیلی لانی تھی تو یہ مرحلہ وار کیا جاتا لیکن اسے انا پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔‘

احسان

'ماضی کا کرکٹ سسٹم فراڈ تھا'

عمران خان کے کہنے پر جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی تو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی تھے۔

پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے سے رخصت ہونے کے بعد احسان مانی نے میڈیا کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’جب میں چیئرمین بنا تو اس وقت سوائے حبیب بینک کے دیگر تمام بینکوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ حبیب بینک نے بھی ہمیں کہہ دیا تھا کہ یہ ہمارا آخری سیزن ہے۔ یہ ادارے معاشی صورتحال کی وجہ سے اسے بوجھ سمجھ رہے تھے۔‘

احسان مانی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا اور آناً فاناً بورڈ نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کر دی بلکہ ’میں نے بورڈ میں آنے کے بعد تمام معاملات کا خود بغور جائزہ لیا تھا اور جو بات سامنے آئی تھی وہ یہ کہ سارا سسٹم فراڈ تھا۔‘

احسان مانی کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر ڈپارٹمنٹس فرسٹ ڈویژن میں تھے لیکن یہ اپنے کرکٹرز کو سیکنڈ ڈویژن کھیلنے کے لیے ریلیز کر دیتے تھے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا مقصد پاکستان کے لیے کرکٹرز بنانا ہوتا ہے لیکن ایسے کرکٹرز جو کئی برسوں سے کھیل رہے ہوتے تھے اور جن کا پاکستان کی طرف سے کھیلنے کا کوئی بھی چانس نہیں تھا وہ پہلے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کھیلتے تھے اور پھر سیکنڈ ڈویژن بھی کھیلتے تھے۔‘

کرکٹ

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی ایک مثال فیصل آباد کی ہے جس نے گریڈ ٹو سے گریڈ ون میں کوالیفائی کیا لیکن اس کے کئی کھلاڑی اس لیے دستیاب نہیں تھے کیونکہ وہ پہلے ہی کسی اور ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔‘

احسان مانی کہتے ہیں کہ ’چھ اسوسی ایشنز کی بنیاد پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھلانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ بہترین کھلاڑی کھیلیں جو پاکستانی ٹیم میں آ سکتے ہوں۔ ہمیں ان کھلاڑیوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جو پچھلے آٹھ دس سال سے کھیل رہے تھے جن کی کوئی امید نہیں تھی کہ پاکستان کی نمائندگی کر سکیں گے۔انھیں صرف نوکری ملی ہوئی تھی۔‘

احسان مانی کا کہنا ہے کہ ’دنیا میں کسی بھی کرکٹ بورڈ کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ کرکٹرز کو ملازمتیں دے۔ آج کے کرکٹرز کو ڈپارٹمنٹ سے زیادہ تنخواہ مل رہی ہے۔'

احسان مانی کا کہنا ہےکہ 'نہ صرف موجودہ کرکٹرز کو ایک سسٹم کے تحت کرکٹ کھلا کر معاوضے دیے جا رہے ہیں بلکہ سابق کرکٹرز کو بھی کہا گیا کہ وہ میچ ریفری امپائرنگ اور کوچنگ میں آئیں اور ان میں سے کئی اب ان ایسوسی ایشن ٹیموں کے کوچز ہیں۔‘

احسان مانی کہتے ہیں کہ 'کرکٹ کلبوں کی بھی سکروٹنی کی گئی جس سے پتہ چلا کہ پچیس فیصد کلب فراڈ تھے، ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا اس فراڈ کو ختم کرنے کے لیے لائیو سکورنگ کا طریقہ اختیار کیا گیا۔‘