پاکستان کی 2 کروڑ سے زائد اہل آبادی کی ویکسینیشن اب تک نامکمل

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کی 7 ویکسینز کی 6 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ خوراکیں دستیاب ہیں جبکہ 2 کروڑ سے زائد لوگوں کو ابھی تک ویکسین کی دوسری ڈوز نہیں لگی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر ویکسین کی 17 کروڑ 20 لاکھ خوراکیں شہریوں کو لگائی جا چکی ہیں، تقریباً 10 کروڑ 30 لاکھ افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگ چکی ہے جن میں سے 8 کروڑ سے زائد افراد کی ویکسینیشن مکمل اور 20 لاکھ سے زائد افراد کوویکسین کے بوسٹر شاٹس لگ چکے ہیں۔

این سی او سی کی دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان کی 68 فیصد آبادی ویکسین کی اہل ہے، ملک بھر میں اس وقت 7 ویکسینز لگائی جارہی ہیں جن میں سائنوفارم، سائنوویک، پاک ویک، کینسائنو، فائزر، ایسٹرازینکا، موڈرنا اور اسپوٹنک شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق ملک کی آبادی 22 کروڑ 85 لاکھ 67 ہزار 704ہے جن میں سے 15 کروڑ 36 لاکھ 15 ہزار 747 افراد ویکسین کے اہل ہیں، تقریباً 2 کروڑ 37 لاکھ 63 ہزار 473 افراد کو ویکسین کی پہلی ڈوز اور 8 کروڑ 4 ہزار 63 کو ویکسین کی دونوں ڈوز لگ چکی ہیں۔

دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ پنجاب میں 8 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ آبادی ویکسین کی اہل ہے، جن میں سے 5 کروڑ 90 لاکھ آبادی کو کم از کم ایک خوراک لگ چکی ہے جو کہ ویکسین کی اہل آبادی کا 74 فیصد ہے۔

پاکستان میں سب سے پہلے متعارف کروائی جانے والی چینی ویکسین ’سائنو فارم‘ کی مجموعی طور پر 3 کروڑ 50 لاکھ خوراکیں شہریوں کو لگائی جاچکی ہیں اور دوسری ڈوز کے طورپر لگائے جانے کے لیے 21 لاکھ خوراکیں ابھی موجود ہیں۔

ویکسین کی سب سے زیادہ خوراکیں پنجاب میں لگائی گئیں جن کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ ہے، ملک بھر میں سائنوفارم کی 4 کروڑ 20 لاکھ خوراکیں دستیاب ہیں۔

ایک اور چینی ویکسین سائنوویک ملک بھر میں سب سے زیادہ لگائی جانے والی ویکسین ہے، اب تک اس ویکسین کی 7 کروڑ 90 لاکھ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں اور 1 کروڑ 10 لاکھ خوراکیں دوسری خوراک کے طور پر لگائے جانے کے لیے دستیاب ہیں، پاکستان میں کُل ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد خوراکیں دستیاب ہیں۔

چینی ویکسین کنسائنو پاکستان میں پاک ویک کے نام سے فراہم کی جا رہی ہے، یہ اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو لگائی جا چکی ہے جبکہ 50 لاکھ خوراکیں ابھی دستیاب ہیں۔

امریکی ویکسین فائزر کی 2 کروڑ 70 لاکھ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں اور 66 لاکھ خوراکیں دوسری خوراک کے طور پر موجود ہیں، یہ ویکسین کا پہلا برانڈ ہے جسے ابتدائی طور پر نوعمر اور مدافعتی نظام سے محروم لوگوں کے لیے استعمال کیے جانے کا آغاز کیا گیا، اس وقت پاکستان میں فائزر ویکسین کی ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ خوراکیں دستیاب ہیں۔

آکسفورڈ آسٹرا زینیکا ویکسین کی 69 لاکھ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں اور دوسری خوراک کے طور پر 16 لاکھ خوراکیں موجود ہیں جب کہ 11 لاکھ خوراکیں اس کے علاوہ دستیاب ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسری خوراک کی ضرورت کے مقابلے میں پہلی خوراک کے لیے یہ ویکسین کم تعداد میں دستیاب ہے۔

موڈرنا ویکسین کی 68 لاکھ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں اور 11 لاکھ خوراکیں دوسری خوراک کے طور پر موجود ہیں، جب کہ موڈرنا ویکسین کی 21 لاکھ خوراکیں اس کے علاوہ دستیاب ہیں۔

روسی ویکسین سپوتنک کی 29 لاکھخوراکیں لگائی جاچکی ہیں اور 10 لاکھ خوراکیں دوسری خوراک کے طور پر موجود ہیں، پاکستان میں سپوتنک کی کُل 60 لاکھ خوراکیں دستیاب ہیں۔

طلباء کی ویکسی نیشن کے حوالے سے اس دستاویز میں درج اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب اور سندھ میں تعلیمی ادارے کھلے ہیں لیکن طلبا کی حاضری کم ہے، اسلام آباد میں یہ مہم تسلی بخش رفتار سے جاری ہے، تاہم کے پی کے اور بلوچستان میں 28 فروری تک، آزاد جموں و کشمیر میں 22 فروری اور گلگت بلتستان میں 31 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.