پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش اور ژالہ باری: ’پاؤ، پاؤ بھر وزنی اولے‘ لگنے سے رکشہ ڈرائیور زخمی

پاکستان میں ہونے والی حالیہ بارشوں سے مکانوں کی چھتیں گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے ملک کے کئی علاقوں میں جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

حکام کے مطابق حالیہ بارشوں سے وسطی اور جنوبی پنجاب میں تیز ہواؤں اور ژالہ باری سے فصلوں کے نقصان کے علاوہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ژالہ باری سے متاثر ہونے والوں میں صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے اسلم بلوچ بھی شامل ہیں۔

بستی مراد آباد کے رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پیر کی رات محنت مزدوری کر کے موٹر سائیکل پر واپس گھر جا رہے تھے کہ راستے میں بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری شروع ہو گئی۔

اسلم کے مطابق 'ژالہ باری اتنی شدید تھی کہ مجھے موقع ہی نہیں ملا کہ میں کسی محفوظ جگہ تک پہنچ جاؤں۔‘ ان کے مطابق انھیں ایسے لگا جیسے ان کے سر پر کوئی پتھر برسا رہا ہے۔‘

سر پر بڑے، بڑے اولے پڑنے سے اسلم کے سر پر چوٹیں آئیں اور وہ خون میں لت پت موٹر سائیکل سے نیچے گر پڑے۔ ان کے مطابق جب ژالہ باری تھمی تو وہ قریب میں ایک ڈاکٹر کی کلینک پہنچے جہاں انھیں طبی امداد ملی۔

ان کے مطابق اسی ڈاکٹر نے ان کی تصاویر اتار کر سوشل میڈیا پر لگائیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئیں۔

ان کے مطابق اولے نہ صرف بہت بڑے بڑے تھے بلکہ بہت تیزی سے اور زور زور سے ان کے سر پر گرے۔ ان کے اندازے کے مطابق ایک اولے کا وزن تقریباً ایک پاؤ کے قریب ہوگا۔

یہی نہیں، چند روز قبل اسی علاقے میں برفباری بھی ہوئی (جسے مقامی زبان میں 'اینڑ‘ کہا جاتا ہے)، جو کہ ایک بہت حیران کن بات تھی۔ مقامی پولیس اہلکار ارشد نواز کے مطابق عام طور پر رحیم یار خان اور صادق آباد کے علاقوں میں ایسے مناظر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ارشد نواز کے مطابق پولیس کو گذشتہ شب ایسی چند اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بارش اور ژالہ باری سے مختلف علاقوں میں نقصانات ہوئے ہیں اور ایک گھر کی چھت گرنے سے اُس گھر کے تمام چھ رہائشی ملبے تلے دب گئے تاہم ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے انھیں بچا لیا۔

یہ واقعہ صادق آباد کے نواحی علاقے بستی لاٹکی میں پیر کی رات کے آخری پہر پیش آیا۔

چونکہ یہ واقعات زیادہ تر نواحی علاقوں میں پیش آئے اس لیے پولیس کو ان کی براہ راست معلومات نہیں ملیں بلکہ یہ خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر سرگرم ایک مقامی صحافی عزیر چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں جو نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں وہ ان کی بنا پر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے واقعات باخبر رکھنے سے زیادہ خبردار کرنے کے لیے شیئر کیے گئے تاکہ لوگوں کی امداد یقینی بنائی جا سکے۔

عزیر چوہدری کے مطابق انھیں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ گذشتہ شب رحیم یار خان کی ایک بستی میں ایک شخص بجلی کا کرنٹ لگنے سے بھی ہلاک ہوا ہے۔

rain

یہ بارشوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

محکمہ موسمیات کے چیف میٹیرولوجسٹ ڈاکٹر محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر سیزن میں بارش کے پانچ سپیل ہوتے ہیں جبکہ بارشیں اس سیزن کا دوسرا سپیل ہیں۔ ان کے مطابق یہ بارشیں بارانی علاقوں میں گندم کی فصلوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہیں۔

تاہم ان کے مطابق وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں ان بارشوں سے فصلوں کا اس وجہ سے نقصان کے امکانات بھی ہیں کہ ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے علاوہ ژالہ باری بھی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر حنیف کے مطابق حالیہ بارشوں نے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے سو فیصد علاقوں میں ہوئی ہیں جبکہ پنجاب میں 70 سے 80 فیصد یہ بارش برسی ہے۔ اندرون سندھ، بلوچستان، کشمیر اور گلگلت بلتستان سمیت مجموعی طور پر یہ بارشیں ملک کے 70 فیصد علاقوں میں ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر حنیف کے مطابق ان بارشوں سے ملک کے دارلحکومت اسلام آباد میں پولن میں نمایاں کمی واقع ہو گی جبکہ ایسے موسم میں کورونا وائرس کی منتقلی (کووڈ ٹرانسمشن) کی رفتار بھی تھم جاتی ہے۔