پاک-چین دوستی کے دشمنوں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان میں موجود اپنے لوگوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی استدعا کی جس پر ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین ہمارا سب سے قریبی دوست ہے، وزیر اعظم نے آئندہ روز وزیر خارجہ کو چین جانے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے وزارت داخلہ کو بھی کہا ہے کہ چینی افراد کی سیکیورٹی کو مزید یقینی بنائیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین سے 15 رکنی ٹیم گزشتہ روز یہاں آئی ہے جس نے ایڈیشنل سیکریٹریز اور دیگر کے ہمراہ جائے حادثہ کا دورہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت چین کو یقین دلاتی ہے کہ ہم پاک چین دوستی کے دشمنوں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی لازوال ہے اور اس پر کسی قسم کا فرق نہیں پڑسکتا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چین کے وزیر داخلہ نے چینی صدر کی ہدایت پر مجھ سے رابطہ کیا اور میں نے وزیر اعظم کی ہدایت اور پاکستانی حکومت اور قوم کے جذبات کو ان تک پہنچایا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات حتمی مراحل میں ہیں، پاکستان کے اعلیٰ ترین ادارے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور چینی تفتیش کار بھی اس میں شامل ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چین اور چینی وزارت داخلہ کو اعتماد میں لیا ہوا ہے اور جیسے جیسے معلومات حاصل ہوتی ہیں ہم ان سے شیئر کرتے رہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں نے کوئٹہ میں بھی سازش کرنے کی کوشش کی تھی، داسو میں یہ سازش میں کامیاب ہوئے تاہم ان کی یہ کامیابی عارضی ہے کیونکہ پاکستان کے چین سے تعلقات ہمالیہ سے بھی بلند ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات کے حوالے سے وزارت خارجہ بہتر بریفنگ دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے وابستیہ ہے ہماری پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن ہو۔

جعلی پاس پورٹ اور شناختی کارڈ کے اجرا کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جعلی پاس پورٹ جاری کرنے میں ملوث 8 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور 19 کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ہدایت جاری کردی گئی ہیں اور جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں کو نکالنے کے لیے خصوصی وقت دیا جائے گا تاکہ انہیں بغیر کسی جرمانے کے واپس جانے کا موقع مل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پریس کانفرنس کے بعد وزیر اعظم کے ہمراہ آزاد کشمیر جاؤں گا اور امید ہے کہ آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران ہم سے جتنی سیکیورٹی مانگی گئی ہے ہم نے فراہم کی ہے اور اگر وہ مزید مطالبہ کریں گے تو ہم وہ بھی بھیجیں گے‘۔

پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے تمام امور پر وزارت داخلہ کی نظر ہے، ادارے سرحد پر ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں تاہم اب تک کسی قسم کا ایسا واقعہ نہیں ہوا جس کا نوٹس لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں مداخلت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تاہم وہ بھول چکے ہیں کہ یہ 1979 جیسا پاکستان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈو مور کے جواب میں نو مور کہہ دیا ہے، پاکستان کا واضح موقف ہے کہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ایسی ہے کہ اسے کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔