پاگل پن؟

ابھی تھوڑی دیر پہلے میرا ایک عزیز دوست اٹھ کر گیا ہے، آج وہ بالکل کوئی اور شخص دکھائی دے رہا تھا، وہ نہیں، جسے میں کئی دہائیوں سے جانتا ہوں۔ اچھی انسانی قدروں کا حتیٰ المقدور حامل شخص، مگر جو مجھ سے ابھی مل کر گیا ہے وہ تو بہت عجیب و غریب تھا۔ اس نے آتے ہی مجھے کہا کہ وہ گزشتہ چند دنوں سے پاگل ہو گیا ہے اور پھر اس نے اپنے پاگل پن کی جو کہانی سنائی، اس نے مجھے پریشان کر کے رکھ دیا۔ اس نے مجھے کیا بتایا، میں نے اسے کیا جواب دیا، پہلے اس کا احوال اسی کی زبانی آپ کو سنائوں گا اور آخر میں اپنا جواب۔میرا یہ دوست جس کا چہرہ اجڑا پجڑا لگ رہا تھا، جس کی زبان میں لکنت محسوس ہو رہی تھی مگر وہ آگ کا گولہ بنا ہوا تھا، جو آج بات بات پر ہائپر ہو رہا تھا، اس نے پوری کرسی پر آدھا بیٹھتے ہوئے کہا کہ عطا میں پاگل ہو گیا ہوں، مجھے الٹے سیدھے خواب آرہے ہیں، جن کا کبھی کوئی جزو بھی میری سوچ میں نہیں آیا تھا۔ ایک خواب میں مَیں نے یہ دیکھا کہ میں ایک دن ویگن میں بیٹھ کر ایک دوست سے ملنے اس کے گھر جاتا ہوں، دروازے پر دستک دیتا ہوں تو اندر سے میرا ایک سابقہ ڈرائیور نکلتا ہے جسے وفات پائے کئی سال گزر چکے ہیں۔ وہ مجھے پہچانتا تک نہیں، کہتا ہے آپ باہر بیٹھیں، میں صاحب کو بلاتا ہوں۔ پھر اچانک یہ منظر بدل جاتا ہے اور میں خود کو ایک سڑک کنارے چٹائی پر بیٹھا دیکھتا ہوں، میرے ساتھ ایک بزرگ بیوہ بیٹھی ہے، میں جس کے گھر میں رہتا ہوں مگر یہ تو معدے کی بدہضمی کے خواب ہیں، میرا اصل پاگل پن یہ ہے کہ میں نے اپنے ایک عزیز ترین دوست کو فون کرکے اپنے گھر بلایا اور اس کی اتنی توہین کی جو میں کسی کی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ میں نے ٹریفک سگنل پر کھڑے ایک فقیر کو گالیاں دیں۔ ایک محفل میں میرے کچھ فین میرے ساتھ سیلفیاں بنانا چاہتے تھے، میں نے کہا میں ہر ایرے غیرے کے ساتھ سیلفی نہیں بناتا۔ ایک اور محفل میں ایک پڑھے لکھے شخص کو میں نے روکا اور کہا تم جانتے ہو میں کون ہوں، مگر تم مجھے سلام کئے بغیر گزر رہے تھے، تم کیا سمجھنے لگ گئے ہو خود کو؟ عطا، یہ تو کچھ بھی نہیں، کل میں نے اپنے گھر میں وہ تباہی مچائی کہ میرے بچے پریشان ہو گئے۔ میں اپنی تصنیفات کو کوڑے کے ڈبے میں پھینکتا رہا۔ اپنے کئی قیمتی سوٹ جو باہر سے خرید کر لایا تھا، چن چن کر نکالے اور باہر لان میں انہیں آگ لگا دی۔ میں اب انسان کو انسان نہیں سمجھتا سوائے ان کے جو صرف مجھے خوش کرنے اور میری خوشامد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ میں نے ترقی کا جو سفر طے کیا، وہ صرف میری اپنی ذہانتوں اور محنت کا نتیجہ ہے مگر میں تو اس حوالے سے پتہ نہیں کتنے دوستوں کا شکریہ ادا کیا کرتا تھا۔

میں نے اپنے دوست کا یہ ذہنی انتشار بہت صبر مگر شدید اندرونی کرب کے ساتھ سنا اور پھر اس سے کچھ کہنے کی اجازت لے کر جون ایلیا کی طرح کہا عزیز جانی، میں تمہارے اضطراب کے سب اندرونی اور بیرونی اسباب سے واقف ہوں۔ میں تمہارے کردار کے ہر پہلو سے واقف ہوں چنانچہ جانتا ہوں، تم اپنے رویوں کی روشنی میں دوسروں کو بھی اپنے جیسا دیکھنا چاہتے ہو، جو خواہش تو اچھی ہے مگر پوری ہونا ممکن نہیں۔ تم اپنے گھریلو ملازموں کے ساتھ فیملی ممبرز کی طرح رہتے ہو۔ گھر سے باہر جاتے ہو اور بھوک لگے تو تم اور تمہارا ڈرائیور ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ تم کسی محفل میں جاتے ہو تو سینئر کے طور پر اپنے بعد کی نسل سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ تمہیں زمین پر پائوں نہ رکھنے دیں۔ وہ تم سے اور تم ان سے گھل مل جاتے ہو، تم سیاسی نظریات بھی رکھتے ہو اور ماضی اور حال کے چار ادوار میں ان کی قیمت بھی ادا کی ہے مگر تمہاری دوستیاں ہر سیاسی جماعت سے وابستہ افراد سے ہیں۔ تم دشمنیاں نہیں دوستیاں پالتے ہو۔ تم سے صرف منافقت برداشت نہیں ہوتی۔ پاکستان کو ان ملکوں کی صف میں دیکھنا چاہتے ہو جہاں سب مذاہب، سب مسالک کے لئے امان ہو، جہاں کا نظام وہاں کے عوام کی ہر ضرورت کا ضامن ہو۔ میرے دوست ابھی تمہاری مزید خوشامد کی کافی گنجائش موجود ہے، تاہم اتنی بھی مجبوراً تمہاری ذہنی حالت بہتر بنانے کے لئے کی ہے مگر اب کام کی بات بھی سن لو!اور کام کی بات یہ ہے کہ تم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی جانب نکل گئے ہو۔ پہلی انتہا بہت اچھی ہے لیکن وہ اس معاشرے میں کام نہیں کرتی، جہاں کے نظام نے محروم طبقے کو ذلت کا رسیا بنا دیا ہو۔ ہاں رسیا، کئی گھروں میں کام کرنے والوں کی زبانی میں نے سنا کہ آج ان کے صاب نے ان کو ایسی ایسی ماں بہن کی گالیاں دیں کہ دل خوش ہو گیا۔ میرا صاب بہت موذی آدمی ہے۔ تم آج کے بعد صرف اس کو عزت دیا کرو جو ہضم کر سکتا ہو، ان سے اتنا ہی پیار کیا کرو جو تم سے جتنا کرتے ہیں، خواہ مخواہ ہر کسی کے صدقے واری جانے کی ضرورت نہیں۔ لوگوں کی غلطیاں پہلے ہی کی طرح معاف کرتے رہو مگر کسی کو ڈکٹیشن نہ دینے دو۔ ان سے دور رہو جو رشتوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں نے اپنے دوست کو اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا تھا، مگر میں سب کچھ کیوں بتائوں، خود میں نے بھی تو زندگی میں کوئی ایک آدھ ڈھنگ کی بات سیکھی ہی ہو گی نا، مثلاً یہی کہ ؎

بشر رازِ دل کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے

نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گل بیکار ہوتا ہے

وغیرہ وغیرہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *