پرسیورینس: ناسا کی خلائی گاڑی کے مریخ سے جمع کردہ پتھر کے نمونے غائب ہو گئے

امریکہ میں انجینیئر اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی خلائی ادارے کی خلائی گاڑی 'پرسیورینس روور' میں مریخ پر پتھر جمع کرتے ہوئے کیا خرابی پیدا ہو گئی تھی۔

اس خلائی گاڑی کا روبوٹک نظام بظاہر پوری طرح کام کر رہا تھا لیکن وہ دھاتی ٹیوب جس میں مریخ کی مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع ہونے تھے اس کو دیکھا گیا تو یہ خالی تھی۔

اس مشن پر کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ مریخ کے پتھروں کی ساخت کو اس خرابی کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مریخ کی مزید تصاویر اور ٹیلی میٹری سے اس معمے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کیلیفورنیا کی پراجیکٹ مینیجر جینیفر ٹراسپر کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی طور پر یہ ہی سمجھا جا رہا ہے کہ ٹیوب کے خالی ہونے کی بڑی وجہ وہ چٹانیں ہیں جن سے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کا امکان کم ہے کہ ایسا نمونے اکھٹا کرنے اور محفوظ بنانے کے نظام کے ہارڈ ویئر میں خرابی کی وجہ سے ہوا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگلے چند دنوں میں یہ ٹیم زیادہ تر وقت اس ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے گزارے گی اور اس کے علاوہ مزید ڈائگنوسٹک ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ خالی ٹیوب کی وجہ کی سمجھنے میں آسانی ہو۔‘

پرسیورینس کے دو میٹر لمبے روبوٹک ہاتھ کے آخری سرے پر کھدائی کا نظام موجود ہے۔

مریخ

اس خود کار ہاتھ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ چٹانوں کو توڑ کر انگلیوں کے برابر نمونے حاصل کر سکے۔

اس کے بعد روور کی 'بیلی' یعنی پیٹ میں ایسا نظام موجود ہے جو ان نمنوں کو ٹائیٹینیم کے بنے ہوئے سلینڈروں کے اندر محفوظ بناتا ہے۔

لیکن اس کو سلینڈروں میں بند کیے جانے سے پہلے ایک کیمرے کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اکھٹا کیے گئے مواد کا حجم اور یہ کب اکھٹا کیا گیا اس کا ریکارڈ رکھا جائے، لیکن جمعے کو جب یہ دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ نمونے موجود نہیں ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سرخ سیارے کی سطح خود کار تجزیاتی آلات سے نمونے حاصل کرنے کے لیے مشکل ثابت ہوئی ہے۔

ناسا کے سنہ 2007 کے فینکس لینڈر سے معلوم ہوا تھا کہ مریخ کے 'آرکٹک' خطے میں مٹی اتنی چکنی ہے کہ روبوٹ پر موجود لیبارٹری کے لیے نمونے حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

ناسا کا 'ان سائٹ لینڈر' بھی سنہ 2018 میں مریخ کی سطح پر درجہ حرارت حاصل کرنے کے لیے آلات گاڑنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ مریخ کی سطح کی اندرونی تہہ غیر متوقع طور پر سخت تھی۔

پرسیورینس مریخ پر جیزیرو نامی 45 کلومیٹر وسیع گڑھے میں فروری میں اترا تھا۔

جن کاموں کی اس سے توقع کی جا رہی تھی ان میں سے ایک مختلف پتھر جمع کرنا اور ان نمونوں کو زمین پر لانا تھا۔

مریخ

ابتدائی کوششیں یہ تھیں کہ ان چٹانوں کے نمونے حاصل کیے جائیں جن کے بارے میں خیال تھا کہ ان میں جیزیرو کا اصل مواد ہو گا۔

سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اگر یہ نمونے حاصل کر لیے گئے اور ان کی قدامت کا تعین کر لیا گیا تو انھیں اس گڑھے میں جو کچھ ہوا اور اس میں کتنا وقت لگا اس کا اندازہ ہو جائے گا۔

سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس گڑھے میں اربوں سال پہلے بہت بڑی جھیل ہو گی۔ یہ ماحول شاید خورد بینی جرثوموں کے لیے موزوں ہو۔

ناسا کے سائنس ڈائریکٹر تھامن زوبوچن کا کہنا ہے کہ انھیں اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ انجینیئر جلد یہ معلوم کر لیں گے کہ نمونے کیوں غائب ہیں۔

'مجھے اس بارے میں پورا یقین ہے کہ صحیح ٹیم اس پر کام کر رہی ہے اور ہم ثابت قدمی سے حل نکال لیں گے تاکہ مستقل میں ہمیں کامیابی ہو سکے۔'