پسنی، ماضی کا منافع بخش کاروبار نمک بنانے کی قدیم صنعت اب زوال کا شکار

ظریف بلوچ

آج سے 30 سال پہلے پسنی میں مقامی طور پر نمک سازی کا کاروبار عروج پر تھا اور ایک درجن سے زائد کھلی جگہوں پر نمک بنانے کا کام روایتی طریقے سے کیا جاتا تھا۔جب دنیا بھر کے ممالک میں تازہ اور جمی ہوئی مچھلیوں کے مانگ میں اضافہ ہوئی تو پسنی میں بھی مقامی کاروباری لوگوں نے کولڈ اسٹوریج قائم کرنا شروع کئے، اور اس سے نمک سازی کی مقامی صنعت زوال پزیر ہونا شروع ہوگیا،مقامی منڈی میں نمک کی مانگ میں کمی سے اس کاروبار سے منسلک لوگ دیگر روزگار سے منسلک ہوگئے،جبکہ پسنی میں اب بھی کچھ خاندان ایسے رہ گئے ہیں جو اس کاروبار سے منسلک ہیں، جنکا کہنا ہے کہ منافع نہ ہونے کے باوجود ہم وراثت سے ملی اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں نمک کے 6 ارب ٹن سے زائد کے ذخائر موجود ہیں اور نمک کی بین الاقوامی پیداوار میں پاکستان بیسوین نمبر پر ہے۔ پاکستان میں پایا جانے والا نمک 99 فیصد خالص نمک ہے اور اسے دنیا بھر میں ہمالیہ سالٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مذید بتایا گیا ہے کہ بھارت پاکستانی نمک کا سب سے بڑا خریدار ہے جوپاکستانی نمک پر اپنے لیبل لگاکر فروخت کرتا ہے۔ برٹش جیولوجیکل سروے کے مطابو تقریبا دنیا کے 93 ممالک مختلف ذرائع سے حاصل کرتے ہیں 22.48 فیصد پیداوار کے ساتھ چین دنیا میں نمک پیدا کرنے ممالک میں سرفہرست ہے۔
دنیا میں نمک کی ضرورت تقریبا” 260 ملین ٹن جبکہ پاکستان کا حصہ صرف 0.88 فیصد ہے۔ پاکستان میں نمک کی کانیں تین جگہوں کھیوڑہ، ورچا اور کالا باغ میں موجود ہیں اور ان تینوں کان میں دس بلین ٹن نمک کے ذخائر ہیں۔ یہ ذخائر چار سو سال تک کے لئے کافی ہیں۔
نمک کہاں استعمال ہوتا ہے
نمک کا زیادہ تر استعمال صنعتی زون میں ہوتا ہے، 68 فیصد نمک انڈسٹریل میٹریل کی مینو فکچرنگ، بارہ فیصد پانی کو صاف کرنے کے لئے،8 فیصد سڑکوں پر برف ہٹانے، 6 فیصد ذراعت اور صرف 6 فیصد کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یاد رہے پسنی میں تیار ہونے والا نمک کی ملکی منڈیوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے انکی ڈیمانڈ اور قیمت بہت کم ہے۔

پسنی میں نمک سازی کے صنعت کا ابتدا۔
بلوچستان کے ساحلی پسنی میں نمک بنانے کی صنعت 1916 میں شروع ہوئی ہے اور یہ ایک قدیم مقامی صنعت ہے۔ پسنی کے علاوہ گوادر میں ”ڈھور“ کے مقام پر بھی روایتی طریقے سے نمک بنایا جاتا ہے، جبکہ ساحلی بستی کلمت میں نمک قدرتی طور پر تیار ہوجاتا ہے(یعنی سمندری پانی واپس خشکی پر آنے کے بعد نمک تیار ہو جاتا ہے)۔ چند دہائی پہلے پسنی میں نمک کے کھلی جگہوں پر ایک درجن سے زائد کارخانے ہوتے تھے، یعنی قدیم اور روایتی طریقے سے کھلی جگہوں میں نمک تیار کیا جاتا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پسنی جدید کولڈ اسٹوریج نہیں ہوتے تھے اور ماضی قریب میں سمندر میں شکار کے بعد مچھلیوں کو کاٹ کر نمک لگا کر خشک کرنے کے بعد سری لنکا سمیت دیگر ممالک میں بھیجا جاتا تھا۔
نمک کے کاروبار کے عروج کا زمانہ

پسنی میں مچھلیوں کے عمل ترکیبی کا آغاز 1960 کی دہائی میں شروع ہواتھا۔ جہاں اس عمل کے لئے ”بکار“ قائم کیے گئے تھے۔ جہاں سمندر سے شکار کے بعد تازہ مچھلیوں کو نمک لگا کر خشک کیا جاتا تھا اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اس کاروبار سے منسلک تھے۔ اب ان بکاروں کی جگہ کولڈ اسٹوریج بن چکے ہیں۔ ماضی میں نمک سازی میں مزدوری کرنے والے فتح محمد نے بتایا کہ کم دیہاڑی اور سخت کام کی وجہ سے میں نے یہ کام چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس میں کام زیادہ اور پیسے کم ملتے تھے، جس سے بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔
پسنی میں نمک بنانے کی جگہ

نمک جسے مقامی زبان میں ”واد“ کہا جاتا ہے، پسنی کےساحل سے چند کلومیٹرکے فاصلے پر”وادسر“ کےعلاقے میں نمک بنانے کے کارخانے کھلی جگہ پر موجود ہیں اور یہاں روایتی طریقے سے نمک بنایا جاتا ہے۔
نمک بنانے کے مراحل۔

نمک بنانے کے لیے چکنی مٹی کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ چکنی مٹی پسنی کے ساحل کنارے ”ذرین“ نامی پہاڑ سے لایا جاتاہے۔ نمک بنانے کے لیے کیاری بنائے جاتے ہیں ۔ ان میں لیول کے حساب سے چکنی مٹی ڈالی جاتی ہے اور قریب کنویں کھود کر اس کا پانی کیاری میں میں ڈال کر چکنی مٹی کو ہموار کرکے سخت کیا جاتا ہے۔ 50 کے قریب کیاری بنا کر اس میں چکنی مٹی ڈالنے کے بعد اس میں زیرزمیں پانی 3 انچ تک ڈالا جاتا ہے۔ نمک تیار ہونے کے مراحل تک پانی کے لیول کو 3 انچ تک رکھا جاتا ہے۔ اگر پانی کا لیول ڈیڑھ انچ تک کم ہوجائے تو نمک کی بجائے تیزاب بن جاتا ہے۔ نمک بنانے کے لیے جو زیرزمین پانی استعمال ہوتا ہے۔ یہ پانی سمندر کے پانی سے چار گنا زیادہ نمکین اور گاڑھا ہوتا ہے، اور 30 ڈگری پر نمک تیار ہوتا ہے۔ نمک کی تیاری میں موسم کا بڑاعمل دخل ہوتاہے۔ سخت گرمیوں میں 15 دن ، سردیوں میں ایک سے دو ماہ جبکہ نارمل موسم میں ایک مہینے کےاندر یہ عمل مکمل ہوکر نمک تیارہوجاتا ہے۔ نمک تیارہونے کے بعد پانی سمیت ایک جگہ پرجمع کیے جاتے ہیں۔ صفائی کے بعد تیار نمک کو الگ کرکے مارکیٹ لایا جاتا ہے جہاں پیکنگ کے بعد مقامی مارکیٹ میں نمک دستیاب ہوتا ہے۔

گزشتہ 34 سالوں سے اس کاروبار سے منسلک ملا شاہ داد کے مطابق نمک بنانے کا عمل کافی مشکل ہے اور مارکیٹ میں نمک کی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے کاروبار مندی کی طرف جارہا ہے، وہ مذید بتاتے ہیں کہ نمک کے ہر کیاری سے تقریباً 400 کلو نمک تیار ہوتا ہے اور مقامی مارکیٹ میں ڈیڑھ سے دو روپیے فی کلو کے حساب سے فروخت کیے جاتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ تین دہائی سے اس کاروبار سے منسلک ہونے کی وجہ اب ہم سے دوسرا کاروبار نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ اب اس کاروبار سے ماضی کے مقابلے میں منافع تو نہیں ہے۔
اس کاروبار سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کاروبار کو اسی صورت دوبارہ منافع بخش لایا جاسکتا ہے جب جدید آلات سے لیس فیکٹریاں بناکر مقامی نمک کو ایک برانڈ کی شکل میں ملکی مارکیت تک پہنچایا جائے۔ اس کاروبار سے منسلک ایک نوجوان مراد کا کہنا تھا کہ علاقےمیں روزگار کے کم ذرائع ہونے کی وجہ سے میں مجبوراً اس کاروبار سے منسلک ہوں کیونکہ سخت اور تھکا دینے والی مزدوری کے بعد بمشکل یومیہ ایک ہزار کے قریب ملتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سالٹ پن ارضیاتی بناوٹ ہیں۔ پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور نمک رہ جاتا ہے۔ نمک بننے کےعمل کو وہ یوں بیان کرتے ہیں ”سالٹ پن جوکہ تالاب میں سمندری پانی رکھتے ہیں۔ پانی بخارات بن جاتا ہےاور معدنیات (نمک) تالاب میں رہ جاتی ہیں۔ نمک کو زمین پر اکٹھا کیا جاتا ہے۔ پانی سورج کی روشنی سے اڑجاتا ہے اور نمک رہ جاتا ہے۔ جو خشک اور صفائی کے بعد قابل استعمال ہوتا ہے۔

پسنی میں تیار نمک اب کہاں استعمال ہوتا ہے
پسنی میں تیار ہونے والی نمک زیادہ تر نمک مقامی آئس فیکٹریوں میں استعمال ہوتا ہےجہاں پانی کوٹھوس حالت میں لانے کےلیے یعنی برف بنانے کے لیے نمک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ پسنی میں گھریلو استعمال کے لئے بھی مقامی نمک پچاس سے ساٹھ فیصد استعمال ہوتی ہے اور تربت میں بھی اس نمک کو فروخت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ موسم گرما میں بعض اوقات پسنی کے ساحل کے قریب جیلی فش پکڑا جاتا ہے اور جیلی فش کو تیار کرنے کے لئے ساحل کے قریب کیاری بنانے کے لئے اس میں نمک ڈالا جاتا ہے اور پھر اسکو مقامی طور پر پیکنگ کے بعد چائنہ ایکسپورت کیاجاتا ہے۔
سمندری نمک کی غذائی اہمیت
پی ایچ ڈی اسکالر واجد واحد کا کہنا ہے کہ سمندری نمک پائیدار ہے اور کافی سالوں تک خراب نہیں ہوتی ہے کیونکہ اسکی تیاری میں کوئی کیمیکل استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ سمندری پانی سے تیار ہونے والی خالص نمک ہے۔ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگرکلچر، واٹر اور میرین سائنسز اوتھل میں میرین سائنسز کے طالب علم نصیر لعل کا کہنا ہے کہ سمندری نمک نیچرل ہے اور اس میں بعض چیزیں قدرتی طور پر شامل ہیں اور اسکی ساخت مکمل طور پر قدرتی ہے، جو کہ مصنوعی طریقے سے بنائے گئے نمک میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری نمک میں پوٹاشیم، میگنیشیم، سوڈیم جیسے عناصر شامل ہیں جو میٹابولزم میں بہتری میں حصہ لیتے ہیں، بلکہ مصنوعات کی مقدار میں بھی کیلشیم ہے جس میں زخموں کی تیزی سے شفا اور انفکیشن کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔ سمندر کے نمک میں دیگر مائیکرو پلیٹس کی وجہ سے ہمارے جسم میں، سیل جھیلوں کو تیز بنایا جاتا ہے جو سیل کی تخلیق کے لئے ضروری ہے۔

مقامی لکھاری بادل بلوچ کے مطابق پسنی میں نمک سازی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے اس کاروبار سے نہ صرف روزگار کے ذرائع پیدا کئے جاسکتے ہیں، بلکہ ملکی معشیت میں سالانہ کروڑوں روپیے کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انکے مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والے نمک کو جدید مشینری سے صاف کرکے پیکنگ کرکے ملکی منڈیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے اورجو ملک کے دیگر علاقوں سے حاصل ہونے والی نمک سے آسان قیمت پر دستیاب ہوسکتا ہے۔
اس کاروبار سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے کہ جدید فیکٹری بنانے کے لئے کافی وسائل درکار ہوتے ہیں، جس کی ہم سکت نہیں رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اتنے پیسے موجود نہیں ہیں۔ اس لئے ہم محدود وسائل سے روایتی اور قدیم طریقے سے اپنے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نمک کے جدید کارخانے لگاکر اس کاروبار سے سینکڑوں روزگار کے نئے ذرائع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی معشیت میں سالانہ کروروں روپیے کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: