پشاور میں سکھ تاجروں کا قتل: ’قاتل کو پکڑنے کی کوشش کی تو اندھا دھند فائرنگ کی‘

اتوار کو پشاور میں قتل ہونے والے دونوں سکھ تاجروں نے رواں صدی کے اوائل میں اپنی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قبائلی علاقے میں اپنے آبائی علاقے باڑہ کو خیرباد کہا تھا۔ واضح رہے کہ یہ دونوں تاجر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور کے علاقے تھانہ سربند کی حدود بٹہ خیل بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 42 برس کے کلجیت سنگھ اور 38 سالہ رنجیت سنگھ ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان دونوں افراد کا تعلق ڈبگری گارڈن کے علاقے سے تھا اور مقتولین کی بٹہ خیل بازار میں مصالحے کی دکانیں تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور اطراف کے علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا جا رہا ہے اور ہیومن انٹیلیجنس سے بھی استفادہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور عنقریب اس واقعے میں ملوث ملزمان کو بے نقاب کر لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اس سلسلے کے چند واقعات میں پشاور میں پادری کا قتل، ضلع ہنگو میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کا قتل، ڈیرہ اسماعیل خان میں تین شیعہ افراد کا قتل اور کوہاٹ اور بنوں میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔

پشاور کے اقلیتی کونسلر پپندر سنگھ کو جب قتل کی اطلاع ملی

’جب پشاور کے بٹہ تل بازار میں فائرنگ ہوئی تو میں اس وقت اپنی دوکان میں موجود تھا۔ ابھی فائرنگ جاری ہی تھی تو مجھے میرے کزن جو کہ اسی بازار میں کام کرتے ہیں کا فون آیا کہ کلجیت اور رنجیت سنگھ کو اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے۔ دوسری فون کال تک باہر نہ نکلنا۔ پتا نہیں کیا حالات پیش آ جائیں۔‘

یہ کہنا تھا پشاور کے اقلیتی کونسلر پپندر سنگھ کا۔ پپندر سنگھ بھی اسی بازار میں ایک دکان کے مالک ہیں۔

پپندر سنگھ کہتے ہیں کہ کلجیت کو دو اور رنجیت سنگھ کو تین گولیاں لگی ہیں۔ ’دونوں کی کریانہ کی دکانیں قریب قریب واقع ہیں۔ موقع پر لوگوں نے ہمیں بتایا کہ دو لوگ موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ ایک اتر کر دوکان کے اندر گیا۔ دونوں کو ایک ہی پستول سے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔‘

پپندر سنگھ کہتے ہیں کہ ’فائرنگ کے بعد لوگ کافی تعداد میں اکھٹے ہو گئے تھے، جس پر قاتل نے بازار کے اندر بھی اندھا دھند فائرنگ کی۔‘

’مجھے بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے ان کو پکڑنے کی بھی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ کافی لوگ بھی اکھٹے ہوگئے تھے، جس پر انھوں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔‘

پپندر سنگھ کہتے ہیں کہ ’جس طرح فائرنگ کی گئی اور جس طرح وہ فرار ہوئے۔ وہاں پر موجود لوگوں کی رائے ہے کہ یہ کوئی عام لوگ نہیں تھے۔ یہ کوئی ماہر تخریب کار تھے۔‘

مقتول سکھ تاجر کون تھے؟

رنجیت سنگھ

پپندر سنگھ کہتے ہیں کہ دونوں تاجروں کا تعلق پشاور سے متصل سابقہ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کی اس سکھ کمیونٹی سے تھا، جنھوں نے اس صدی کے اوائل میں اپنی جانیں بچانے کے لیے باڑہ کے علاقے کو خیر آباد کہہ کر پشاور میں رہائش اختیار کرلی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’رمضان کے دوران ہمارے لوگ جو کریانہ کا کاروبار کرتے ہیں، کریانہ کی اشیا سستے داموں دیتے ہیں۔ باوجود اس کہ یہ دونوں کوئی بڑے تاجر نہیں تھے اور دونوں کا کام بھی اتنا اچھا نہیں تھا، مگر دونوں نے اس میں بھی اپنا حصہ ڈالا تھا۔‘

پپندر سنگھ کہتے ہیں کہ ’رنجیت سنگھ کا کاروبار تو پھر بھی گزارہ لائق تھا مگر کلجیت کو تو بہت معاشی مسائل کا سامنا کرہا تھا۔ اس کے باوجود اس نے رمضان کے حوالے سے اپنا حصہ ڈالا تھا۔‘

پپندر سنگھ کہتے ہیں کہ ’رنجیت سنگھ نے سوگواروں میں چھ بچے اور بیوہ چھوڑی ہیں، جس میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ رنجیت سنگھ کے ساتھ جب بھی میری بات ہوتی وہ ہمیشہ باڑہ میں اپنے آبائی گھر کو یاد کرتے تھے۔ وہ بہت زیادہ گپ شپ اور محفل سجانے والی شخصیت کے مالک تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کلجیت سنگھ نے بیوہ اور تین کم عمر بچے سوگوار چھوڑے ہیں۔ وہ اکثر بہت زیادہ پریشان رہا کرتے تھے۔ اکثر سوچتے تھے کہ دکان کو چھوڑ کو کوئی اور کام وغیرہ کریں مگر ان کے لیے ایسا ممکن نہیں ہورہا تھا۔‘

باڑہ کے رہائشی اور بٹہ خیل بازار میں کاروبار کرنے والے زبیر گل کہتے ہیں کہ ’قتل ہونے والے دونوں بے ضرر تاجر تھے۔ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ہر ایک کے دوست اور اچھی طرح بات کرتے تھے۔ ان کے ہم سب لوگوں سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔‘

کلجیت سنگھ بچوں کی فیس ادا نہیں کرپا رہے تھے

کلجیت سنگھ
،تصویر کا کیپشنکلجیت سنگھ بچوں کی فیس ادا نہیں کرپارہے تھے

پپندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’واقعہ سے ایک روز قبل کلجیت سنگھ کے ساتھ بات ہوئی تھی۔ وہ خود ہی میری طرف آئے تھے۔ اس وقت میری دکان میں رش تھا تو وہ کافی دیر تک انتظار کرتے رہے تھے۔ جب ان کا انتظار لمبا ہوا تو میں سمجھ گیا کہ کوئی خاص مسئلہ ہے جس پر میں نے گاہکوں کو چھوڑ کر پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔‘

’اس پر کلجیت سنگھ نے مجھے بتایا کہ وہ بچوں کی فیسوں کے حوالے سے پریشان ہیں۔‘

’میں نے ان کو تسلی دی تھی۔ ہم غریب کمیونٹی ہیں، تسلی دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ کلجیت سنگھ اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے بہت پریشان رہتے تھے۔ ’اکثر بات کرتے تھے کہ تعلیم اتنی مہنگی ہوچکی ہے کہ بچوں کو اچھی تعلیم کس طرح دلاؤں گا۔‘

’کلجیت سنگھ بس ایک ہی بات کرتے تھے کہ کمیونٹی کو اگر ترقی کرنا ہے تو اپنے بچوں کو تعلیم اور ہُنر پر لگانا ہو گا۔‘

پپندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ تو محب وطن پاکستانی ہیں۔ اس واقعہ نے پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں موجود سکھ کمیونٹی کو دکھی کر دیا ہے۔‘

حالیہ برسوں میں سکھ کمیونٹی کی مشکلات میں اضافہ

حکیم سردار ستنام سنگھ
،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس پشاور میں نامعلوم افراد نے معروف سکھ حکیم سردار ستنام سنگھ کو ان کے دواخانے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ سردار ستنام ماہر طبیب تھے اور انھوں نے طب کی تعلیم میں گولڈ میڈل حاصل کر رکھا تھا

حالیہ برسوں کے دوران خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران سکھوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پاکستان میں سکھوں کی سب بڑی تعداد پہلے قبائلی علاقوں میں آباد تھی تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں وہاں سے بیشتر سکھ اب خیبر پختونخوا کے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

پشاور میں بڑی تعداد میں سکھ رہائش پذیر ہیں جن میں رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں۔ پشاور کا محلہ جوگان شاہ سکھوں کا علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں قیام پاکستان سے سکھ برادری کے اراکین رہائش پزیر ہیں۔ یہاں سکھوں کا ایک تاریخی گرودوارہ بھی واقع ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ذمہ داران کی فوری گرفتاری کا حکم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے حالیہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو قتل میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کے لیے ضروری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس بہیمانہ قتل میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے اور واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

محمود خان کا مزید کہنا ہے کہ یہ واقعہ شہر کے پر امن ماحول اور بین المذاہب ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش ہے اور صوبائی حکومت ایسی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں اور سکھ برادری کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سید شعیب منصور کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس نگرانی میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔