پشاور ہائی کورٹ میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف کل سے سماعت، سپریم کورٹ کا مداخلت نہ کرنے کا عندیہ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی استدعا کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ ہائی کورٹ کے معاملات میں کیسے مداخلت کر سکتی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف 10 مارچ سے سماعت شروع کریں گے۔

یہ اپیلیں صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز میں موجود 200 کے قریب ملزمان نے دائر کر رکھی ہیں۔

’شدت پسند کو کھانا کھلانے کے الزام میں سزائے موت‘

سوموار کو عدالتی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی طرف سے جسٹس وقار کو فوجی عدالتوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے روکنے کی استدعا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کی تھی ،جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے معاملات میں کیسے مداخلت کرسکتی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے وفاقی حکومت کے نمائندے کو بتایا کہ اگر اُنھیں ہائی کورٹ کے فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے مجرم جمشید علی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو سنہ 2012 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اُنھیں سعودی عرب سے آئے ہوئے صرف 15 روز ہوئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل کو محض اس جرم میں موت کی سزا سنائی گئی کہ اُنھوں نے شدت پسندوں کو کھانا کھلایا تھا۔

جسٹس وقار نے فوجی عدالتوں کے 70 سے زائد ٹرائل کالعدم قرار دیے

جسٹس وقار سیٹھ نے چند ماہ قبل خیبر پختونخواہ میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز میں سزا یافتہ قیدیوں کی فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی اور ان فوجی عدالتوں کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان تمام افراد کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

تاہم ابھی تک ان افراد کو رہا نہیں کیا گیا اور اُنھیں فوج کے زیر انتظام مختلف حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ان افراد کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مسنگ

حکومت سے زیر حراست ملزمان کا ریکارڈ طلب

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سوموار کو پشاور ہائی کورٹ کے ان 71 افرد کو رہا کرنے سے متعلق فیصلے کے خلاف صوبے اور وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں پر سماعت کی۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے ان 71 افراد کے جرائم اور ان سے کی جانے والی تفتیش سے متعلق ایک مفصل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوران سماعت عدالت نے ان مقدمات میں سزا پانے والے مجرموں، شریک ملزمان اور رہائی پانے والے افراد کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا تفتیشی ادارے کے پاس ملزمان کے اقرار جرم کے علاوہ کوئی اور بھی ثبوت ہے؟ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف شواہد کے حوالے سے بھی آگاہ کریں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ فوجی عدالتوں کی طرف سے ان مقدمات کی سماعت کے دوران گرفتار ہونے والے تمام افراد کو مجرم نہیں گردانا گیا بلکہ ان عدالتوں سے ملزمان کو عدم شواہد کی بنا پر بری بھی کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے درجنوں افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر انکوائری کے مرحلے میں ہی رہا کردیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ان ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج ہیں اور ان کی نوعیت بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

IMRAN
مشرف کیس میں تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف میں ملاقات ہوئی تھی

بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ خصوصی قانون کے تحت جو ٹرائل ہوتے ہیں، کیا بنیادی حقوق ان کی اجازت دیتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی ملزم کو شفاف ٹرائل صرف آئین کے ارٹیکل 10 اے تک ہی محدود نہیں ہے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے ان ملزمان کے خلاف عدالتی ٹرائل کو مکمل کرنا چاہتی ہے تو کیا اس ضمن میں کوئی گواہ بھی پیش کیے گئے ہیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فوجی عدالت میں گواہ اور جج حلف پر ہی بات کرتے ہیں اور اس لیے اس میں شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان ملزمان کو سنہ 2004 سے سنہ 2015 کے دوران ملک میں ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں کے نتیجے میں درج ہونے والے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی گائیڈ لائنز پر بھی عمل درآمد نہیں کیا۔

پرویز مشرف
عدالت کے مطابق کیونکہ سابق صدر مشرف نے ان الزامات سے انکار نہیں کیا، اس لیے یہ سوال ہی نہیں ہے کہ آیا انھوں نے وہ کام کیے یا نہیں

یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ اس تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کا مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ مرتبہ موت کی سزا کا فیصلہ سنایا تھا۔

جسٹس وقار سیٹھ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر اس سزا پر عملدرآمد سے پہلے مجرم پرویز مشرف وفات پا جائیں تو ان کی لاش کو تین دن تک کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔

افواج پاکستان نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کی عدالت کے اس فیصلے پر ردعمل بھی دیا تھا کہ اس فیصلے سے فوج میں اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد وفاقی حکومت نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ابھی تک یہ ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: