پنجاب، خیبرپختونخوا کے اراکین کی ریٹائرمنٹ سے الیکشن کمیشن ’نامکمل‘

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) غیر معینہ مدت تک نامکمل رہ سکتا ہے کیونکہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے اس کے اراکین آج ریٹائرہورہے ہیں جبکہ ان کی جگہ تعیناتی کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

 رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان سے ای سی پی اراکین کی تقرری کا معاملہ کم از کم ایک سال پہلے حل نہیں ہوسکا حالانکہ ای سی پی ممبران کی تقرری قانون کے مطابق ان کی ریٹائرمنٹ کے 45 دن کے اندر ہونی چاہیے۔

آئین کے تحت ای سی پی میں چیف الیکشن کمشنر اور ہر صوبے سے ایک رکن شامل ہوتا ہے۔

ای سی پی کے چاروں اراکین میں سے 3 کو 2016 میں ایک آئینی شق کی خلاف ورزی کے تحت مقرر کیا گیا تھا کیونکہ اعلی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کے دو سال کے اندر دوبارہ ملازمت پر پابندی عائد تھی۔

ان میں سے ایک بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج شکیل بلوچ تھے جو ای سی پی سے بھی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور دیگردو پنجاب سے جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی اور خیبر پختونخوا سے جسٹس (ر) ارشاد قیصر پانچ سال مکمل کرنے کے بعد آج (پیر) کو ای سی پی کے اراکین کی حیثیت سے مدت ملازمت پوری کر لیں گی۔

تینوں ریٹائرڈ ججوں میں سے کسی نے بھی 2 سال کی لازمی مدت پوری کیے بغیر الیکشن کمیشن میں بطور رکن مقرر ہوگئے تھے۔

نمایاں پہلو جسٹس (ر) شکیل بلوچ کا تھا، انہوں نے 21 جولائی 2016 کو بلوچستان ہائیکورٹ سے استعفیٰ دینے کے صرف 5 دن بعد اور ریٹائرمنٹ سے 10 دن پہلے ہی ای سی پی میں رکن کا حلف لیا تھا۔

اسی طرح جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے 14 جون 2016 کو پشاور ہائی کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے محض 45 دن کے اندر ای سی پی کی پہلی خاتون رکن بن گئی تھیں۔

جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی ریٹائرمنٹ کے بعد دو سالہ مدت پوری ہونے سے 7 ماہ قبل جولائی 2016 میں پنجاب سے ای سی پی کے رکن مقرر ہوگئے تھے ۔

طریقہ کار کے تحت وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت سے ای سی پی کے ہر عہدے کے لیے تین نام پارلیمانی پینل کو تصدیق کے لیے بھیجتے ہیں اور اگر وہ اتفاق رائے تک نہیں پہنچ پاتے تو حتمی فیصلے کے لیے الگ الگ فہرستیں پینل کو ارسال کردی جاتی ہیں۔

موجودہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سندھ اور بلوچستان سے ای سی پی اراکین کی تقرری کا معاملہ ایک سال تک حل نہیں ہوسکا۔

یہ عمل وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے مابین بالواسطہ مشاورت کی زد میں آگیا۔

پارلیمنٹ کی کمیٹی کی جانب سے اس کے لیے الگ الگ فہرستیں بھیجنے کے بعد کسی فیصلے تک پہنچنے میں ناکامی اور ای سی پی کے دو ارکاین کی یکطرفہ نوٹی فکیشن سے متعلق تنازع شامل ہے۔

حکومت اور اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی جانب سے ان سے حلف اٹھانے سے انکاربھی شامل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *