پنجاب: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی فرح خان کو اراضی الاٹمنٹ کیس میں 'کلین چٹ'

پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) کی تحقیقاتی ٹیم نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان کو ’کلین چِٹ‘ دے دی۔

 رپورٹ کے مطابق جولائی کے اوائل میں حمزہ شہباز کی حکومت نے فرح خان اور ان کی والدہ کے خلاف 10 ایکڑ کے 2 صنعتی پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا مقدمہ درج کیا تھا جس کے بعد پولیس نے گرفتاریاں بھی کی تھیں۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ اے سی ای کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو خزانے کے مالی نقصان کے حوالے سے فرح خان اور دیگر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے اسپیشل اکنامک زون اتھارٹی کو کیس کی حتمی رپورٹ بھیجنے کی سفارش کی ہے۔

اے سی ای کے ترجمان عبدلواحد کا کہنا تھا کہ فرح خان اور دیگر کے خلاف تحقیقات بند کرنے کی حمایت کی نہ تردید کی گئی ہے۔

لاہور کے قومی احتساب بیورو نے جولائی میں فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کو آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے حوالے سے طلب کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے فرح خان کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیا تھا، فرح خان پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے چند روز قبل متحدہ عرب امارات چلی گئی تھیں۔

یاد رہے عطااللہ تارڑ نے عمران خان سے بھی کہا تھا کہ اگر عمران خان کو یقین ہے کہ فرح خان بے قصور ہے تو انہیں پاکستان واپس بلایا جائے۔ انہوں نے دعویٰ تھا کہ 'عمران خان انہیں اس لیے واپس نہیں لارہے کیونکہ فرح خان اور ان کے شوہر گرفتاری کے ایک گھنٹے کے اندر عمران خان کے وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے'۔

تاہم فرح خان یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیں کہ وہ 'بے گناہ' ہیں اور ان کا ’میڈیا ٹرائل‘ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔