پنجاب میں جاری فریقین کی من مانیاں  

خدا کرے میں بالآخر غلط ثابت ہوں۔آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے اور اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے صوبہ پنجاب میں لیکن گزشتہ کئی ہفتوں سے جو ابتری پھیلی ہوئی ہے اس پر فکرمندی سے غور کرتے ہوئے اس شک میں مبتلا ہوئے جارہا ہوں کہ ہماری دائمی اشرافیہ جان بوجھ کر اس کی بابت لاتعلقی والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔اس کالم میں متعدد بار یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے ہاں دکھاوے کے لئے ایک ’’تحریری آئین‘‘ موجود ہے۔اس نوع کے آئین میں آپا دھاپی روکنے کے ہر ممکنہ اقدامات میسر ہوتے ہیں۔انہیں بروئے کار لانے کا تردد ہی مگر کیا نہیں جارہا۔

کسی بھی مالی سال کے آغاز سے قبل وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو جون کے مہینے میں متعلقہ اسمبلیوں کے روبرو بجٹ پیش کرنا ہوتا ہے۔اس کی منظوری 30جون سے قبل لازمی ہے۔وگرنہ جولائی کا آ غاز ہوتے ہی سرکار معطل ومفلوج محسوس ہونا شروع ہوجائے گی۔سرکاری ملازمین مختلف اداروں کے لئے خدمات مہیا کرنے والے ٹھیکے داروں کو بل ادا کرنے کے بجائے اپنی تنخواہیں بھی وصول نہیں کر پائیں گے۔پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی تاہم سالانہ بجٹ باقاعدہ انداز میں پیش کرنے کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کئے جارہے ہیں۔حمزہ شہباز کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ سالانہ بجٹ کے ضمن میں اپنا فریضہ کیسے نبھائے۔

قیام پاکستان کے چند ہی ماہ بعد پنجاب ہی میں دولتانہ -ممدوٹ کشمکش کا آغاز ہوگیا تھا۔قائد اعظم شدید بیمار ہونے کے باوجود دونوں فریقین کو ذمہ دارانہ رویہ اختیارکرنے کی تلقین کرتے رہے۔ ان کی نصیحت کو مکاری سے نظرانداز کردیا گیا۔ ان کے انتقال کے بعد چالاک وشاطر ممتاز دولتانہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ساتھ فٹ ہوگئے۔ممدوٹ کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کروادیا۔وہ دلبراشتہ ہوکر ’’عوامی مسلم لیگ‘‘ کے نام سے اپوزیشن کو توانا بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے۔ اس خواہش میں ان دنوں کے انتہائی قدآور سیاستدان حسین شہید سہروردی سے روابط بھی استوار کئے۔لیاقت علی خان مگر سہروردی سے خائف رہتے تھے۔ان کی سرپرستی میں انہیں ’’غدار‘‘ پکارنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کو لیکن راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ قاتل کو گرفتار کرنے کے بجائے گولی مارکر جائے وقوعہ پر ہلاک کردیا گیا۔ آج تک اس قتل کے حقیقی ذمہ داروں کا سراغ نہیں ملا ہے۔ان کے قتل نے مگر ملک غلام محمد جیسے سازشی افسر کے بااختیار گورنر جنرل بن جانے کی راہ بنائی۔ ان دنوں کی افسر شاہی کے کلیدی ستونوں کے ساتھ مل کر موصوف جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کے بجائے سول اور ملٹری پر مشتمل دائمی اشرافیہ کا ملکی معاملات پر کامل کنٹرول جمانے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔

لیاقت علی خان کی جگہ خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم ہوئے۔وہ بنگال کے انتہائی بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ڈھاکہ میں ان کے آبائی گھر میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو بالآخر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے جدا وطن کے حصول میں کامیاب ہوئی۔خواجہ صاحب پرانی وضع کے شریف آدمی تھے۔ ان کے بارے میں لیکن مشہور کردیا گیا کہ حکومتی امور پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے لذیذ کھانوں سے لطف اٹھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ’’پیٹو‘‘ مشہور کئے اس وزیر اعظم کے دور میں پہلی بار وطن عزیز میں آٹے کا بحران بھی نمودار ہوگیا۔خواجہ ناظم الدین کو اس کی وجہ سے ’’قائد قلت‘‘ پکارا گیا۔

ممتاز دولتانہ نہایت سنجیدگی سے یہ سوچتے تھے کہ وہ ہمارے ان دنوں کے تمام سیاست دانوں کے مقابلے میں جوان ترین ہی نہیں ذہین ترین بھی ہیں۔وزارت عظمیٰ ان کا پیدائشی حق ہے۔لاہور سے ابھرے ملک غلام محمد نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ دولتانہ کو سازشی تھپکی فراہم کرنا شروع کردی۔ دولتانہ نے خود کو ’’مرد بحران‘‘ ثابت کرنے کے لئے پنجاب میں جان بوجھ کر مذہبی جذبات بھڑکانا بھی شروع کردئیے۔ اس کی وجہ سے بالآخر فسادات پھوٹ پڑے تو پاکستان میں پہلی بار ’’جزوی مارشل لائ‘‘ کا نفاذ ہوا۔اس کی بدولت فوج کو سول انتظامیہ کے روزمرہّ فرائض کی بابت کماحقہ آگاہی نصیب ہوگئی۔ عوام میں بھی یہ سوچ راسخ ہونا شروع ہوگئی کہ سیاستدان خود غرض اور نااہل ہوتے ہیں۔ امن وامان بھی یقینی نہیں بناسکتے۔ فوج ان کے برعکس انتہائی منظم ادارہ ہے۔ملکی معاملات کا بوجھ اسے ہی اٹھانا چاہیے۔

’’جزوی مارشل لائ‘‘نے جو ماحول بنایا بالآخر 1958ء کے اکتوبر میں لگائے مارشل لاء کا حقیقی جواز بنا۔اس کی بدولت جنرل ایوب خان ’’دیدہ ور‘‘کی صورت نمودار ہوئے اور کامل دس برس تک شہنشاہی اختیارات کے ساتھ اس ملک پر حکومت کی۔ہمارے ہاں کئی افراد جن میں عمران خان صاحب جیسے قدآور سیاستدان بھی شامل ہیں آج بھی ایوب خان کے ’’سنہری دور‘‘ کو حسرت سے یاد کرتے ہیں۔یاد ہی نہیں رکھتے کہ اس ’’سنہری دور‘‘ ہی نے ہمیں امریکی سرپرستی میں قائم ہوئے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کا حتمی محتاج بنادیا ہے۔غیر ملکی قرضوں اور ’’امداد‘‘ سے ملک میں ’’ترقی‘‘ دکھانے کے چلن کا آ غاز اسی دو ر میں ہوا تھا۔ ’’ترقی‘‘ تاہم ان دنوں کے مغربی پاکستان تک ہی محدود رہی جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں احساس محرومی شدید سے شدید تر ہونا شروع ہوگیا۔ اس کا نتیجہ بنگلہ دیش کے قیام کی صورت دیکھنے کو ملا۔

پنجاب میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری عدم استحکام اور فریقین کی من مانیاں 1950کی دہائی کے آغاز والے مناظر ہی دہرا رہی ہیں۔ان کے دوررس نتائج کے بارے میں لیکن سوچنے کی زحمت ہی نہیں ہورہی۔ میں بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز بننا نہیں چاہ رہا۔

error: